سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب كَيْفَ كَانَ إِخْرَاجُ الْيَهُودِ مِنَ الْمَدِينَةِ
باب: مدینہ سے یہود کیسے نکالے گئے۔
حدیث نمبر: 3000
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ، وَكَانَ كَعْبُ بْنُ الأَشْرَفِ يَهْجُو النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُحَرِّضُ عَلَيْهِ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَأَهْلُهَا أَخْلَاطٌ مِنْهُمُ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ يَعْبُدُونَ الأَوْثَانَ وَالْيَهُودُ، وَكَانُوا يُؤْذُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ فَأَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ بِالصَّبْرِ وَالْعَفْوِ فَفِيهِمْ أَنْزَلَ اللَّهُ: وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ سورة آل عمران آية 186 الْآيَةَ، فَلَمَّا أَبَى كَعْبُ بْنُ الأَشْرَفِ أَنْ يَنْزِعَ عَنْ أَذَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ أَنْ يَبْعَثَ رَهْطًا يَقْتُلُونَهُ، فَبَعَثَ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ وَذَكَرَ قِصَّةَ قَتْلِهِ، فَلَمَّا قَتَلُوهُ فَزَعَتْ الْيَهُودُ وَالْمُشْرِكُونَ فَغَدَوْا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: طُرِقَ صَاحِبُنَا فَقُتِلَ، فَذَكَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَانَ يَقُولُ: وَدَعَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْ يَكْتُبَ بَيْنَهُ كِتَابًا يَنْتَهُونَ إِلَى مَا فِيهِ، فَكَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَامَّةً صَحِيفَةً.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (اور آپ ان تین لوگوں میں سے ایک ہیں جن کی غزوہ تبوک کے موقع پر توبہ قبول ہوئی ۱؎): کعب بن اشرف (یہودی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا اور کفار قریش کو آپ کے خلاف اکسایا کرتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے اس وقت وہاں سب قسم کے لوگ ملے جلے تھے ان میں مسلمان بھی تھے، اور مشرکین بھی جو بتوں کو پوجتے تھے، اور یہود بھی، وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے صحابہ کو بہت ستاتے تھے تو اللہ عزوجل نے اپنے نبی کو صبر اور عفوو درگزر کا حکم دیا، انہیں کی شان میں یہ آیت «ولتسمعن من الذين أوتوا الكتاب من قبلكم» ”تم ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں سے جو شرک کرتے ہیں سنو گے بہت سی مصیبت یعنی تم کو برا کہیں گے، تم کو ایذا پہنچائیں گے، اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو بڑا کام ہے“ (سورۃ آل عمران: ۱۸۶) اتری تو کعب بن اشرف جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذارسانی سے باز نہیں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ چند آدمیوں کو بھیج کر اس کو قتل کرا دیں تو آپ نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا، پھر راوی نے اس کے قتل کا قصہ بیان کیا، جب ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا تو یہودی اور مشرکین سب خوف زدہ ہو گئے، اور دوسرے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہنے لگے: رات میں ہمارا سردار مارا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہ باتیں ذکر کیں جو وہ کہا کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک بات کی دعوت دی کہ آپ کے اور ان کے درمیان ایک معاہدہ لکھا جائے جس کی سبھی لوگ پابندی کریں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور ان کے درمیان ایک عمومی صحیفہ (تحریری معاہدہ) لکھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3000]
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک (بعض نسخوں میں عبدالرحمٰن بن عبداللہ کی بجائے عبدالرحمٰن بن کعب ہے اور یہ صحیح ہے کیونکہ عبدالرحمٰن) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں یعنی سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے، اور وہ ان تین افراد میں سے تھے جن کی توبہ قبول کی گئی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ (یہودیوں کا سردار) کعب بن اشرف، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت بدگوئی کیا کرتا تھا اور کفارِ قریش کو ان پر حملہ آور ہونے کی ترغیب بھی دیتا رہتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو اہل شہر میں تین طرح کے لوگ بستے تھے یعنی مسلمان، مشرک بت پرست اور یہود، اور یہ یہودی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو بہت اذیت دیا کرتے تھے۔ تو اللہ عزوجل نے اپنے نبی کو صبر اور درگزر کا حکم دیا، اور انہی کے سلسلے میں یہ آیت اتری: ﴿لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۖ وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ﴾ [سورة آل عمران: 186] ”اور یہ بھی یقینی ہے کہ تمہیں ان لوگوں کی طرف سے، جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور مشرکوں کی طرف سے، بہت سی دکھ دینے والی باتیں سننی پڑیں گی، اور اگر تم صبر کر لو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو یقیناً یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔“ اور جب کعب بن اشرف (یہودی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دینے سے باز نہ آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (رئیسِ اوس) سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کوئی جماعت بھیج دو جو اس کا کام تمام کر دے۔“ چنانچہ انہوں نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا، اور پھر اس کے قتل کا قصہ بیان کیا۔ جب ان لوگوں نے اس کو قتل کر دیا تو یہودی اور مشرک گھبرا گئے اور صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”ہمارے صاحب کو رات کے اندھیرے میں قتل کر دیا گیا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو، جو جو وہ کہا کرتا تھا، سب بتایا اور انہیں دعوت دی کہ: ”آؤ ہمارے تمہارے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہو جائے جس پر سب کا اتفاق ہو۔“ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور یہودیوں اور تمام مسلمانوں کے مابین ایک تحریر لکھ لی (یعنی معاہدہ ہو گیا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3000]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11152) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: سند میں «عبدالرحمن بن عبدالله بن كعب بن مالك، عن أبيه» ہے، اس عبارت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ عبدالرحمن کے والد عبداللہ بن کعب بن مالک ان تین اشخاص میں سے ایک ہیں جن کی غزوہ تبوک کے موقع پر توبہ قبول ہوئی حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ عبدالرحمن کے والد عبداللہ کے بجائے ان کے دادا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں اور باقی دو کے نام مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہما ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزھري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109
إسناده ضعيف
الزھري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109
حدیث نمبر: 3001
حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الأَيَامِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ الْيَهُودَ فِي سُوقِ بَنِي قَيْنُقَاعَ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قُرَيْشًا"، قَالُوا: يَا مُحَمَّدُ لَا يَغُرَّنَّكَ مِنْ نَفْسِكَ أَنَّكَ قَتَلْتَ نَفَرًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا أَغْمَارًا لَا يَعْرِفُونَ الْقِتَالَ إِنَّكَ لَوْ قَاتَلْتَنَا لَعَرَفْتَ أَنَّا نَحْنُ النَّاسُ وَأَنَّكَ لَمْ تَلْقَ مِثْلَنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ: قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ سورة آل عمران آية 12، قَرَأَ مُصَرِّفٌ إِلَى قَوْلِهِ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 13 بِبَدْرٍ وَأُخْرَى كَافِرَةٌ سورة آل عمران آية 13.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں قریش پر فتح حاصل کی اور مدینہ لوٹ کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو بنی قینقاع کے بازار میں اکٹھا کیا، اور ان سے کہا: ”اے یہود کی جماعت! تم مسلمان ہو جاؤ قبل اس کے کہ تمہارا حال بھی وہی ہو جو قریش کا ہوا“، انہوں نے کہا: محمد! تم اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تم نے قریش کے کچھ نا تجربہ کار لوگوں کو جو جنگ سے واقف نہیں تھے قتل کر دیا ہے، اگر تم ہم سے لڑتے تو تمہیں پتہ چلتا کہ مرد میدان ہم ہیں ابھی تمہاری ہم جیسے جنگجو بہادر لوگوں سے مڈبھیڑ نہیں ہوئی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «قل للذين كفروا ستغلبون» ”کافروں سے کہہ دیجئیے کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے“ (سورۃ آل عمران: ۱۲) حدیث کے راوی مصرف نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «فئة تقاتل في سبيل الله»، «وأخرى كافرة» تک تلاوت کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3001]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بدر کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش پر غالب آ گئے اور فتح کے بعد مدینہ پہنچے تو یہودیوں کو بنو قینقاع کے بازار میں جمع کیا اور فرمایا: ”اے جماعتِ یہود! اسلام قبول کر لو، قبل اس کے کہ تمہیں ان حالات سے دو چار ہونا پڑے جن سے قریش دو چار ہوئے ہیں۔“ تو ان لوگوں نے کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ دھوکے میں نہ رہیں کہ قریش کے اناڑی لوگوں کو قتل کر آئے ہیں، وہ جنگ کرنا جانتے ہی نہیں تھے۔ اگر تم نے ہم سے جنگ کی تو پتا چل جائے گا کہ ہم مرد ہیں، تمہارا ہم جیسوں سے سامنا نہیں ہوا ہے۔“ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ﴾ [سورة آل عمران: 12] ”کافروں سے کہہ دیجیے کہ تم عنقریب مغلوب کیے جاؤ گے۔“ راویِ حدیث مصرف (بن عمرو) نے آگے تک پڑھا: «فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَى كَافِرَةٌ» [سورة آل عمران: 13] ”ایک جماعت تو اللہ کی راہ میں لڑ رہی تھی (بدر میں) اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3001]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5606) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوی محمد بن ابی محمد مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن أبي محمد :مجهول (تق : 6276)
وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109
إسناده ضعيف
محمد بن أبي محمد :مجهول (تق : 6276)
وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109
حدیث نمبر: 3002
حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا يُونُسُ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاق حَدَّثَنِي مَوْلًى لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَتْنِي ابْنَةُ مُحَيْصَةَ، عَنْ أَبِيهَا مُحَيْصَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ ظَفِرْتُمْ بِهِ مِنْ رِجَالِ يَهُودَ فَاقْتُلُوهُ"، فَوَثَبَ مُحَيْصَةُ عَلَى شَبِيبَةَ رَجُلٍ مِنْ تُجَّارِ يَهُودَ كَانَ يُلَابِسُهُمْ فَقَتَلَهُ وَكَانَ حُوَيْصَةُ إِذْ ذَاكَ لَمْ يُسْلِمْ وَكَانَ أَسَنَّ مِنْ مُحَيْصَةَ، فَلَمَّا قَتَلَهُ جَعَلَ حُوَيْصَةُ يَضْرِبُهُ، وَيَقُولُ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ أَمَا وَاللَّهِ لَرُبَّ شَحْمٍ فِي بَطْنِكَ مِنْ مَالِهِ.
محیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودیوں میں سے جس کسی مرد پر بھی تم قابو پاؤ اسے قتل کر دو“، تو محیصہ رضی اللہ عنہ نے یہود کے سوداگروں میں سے ایک سوداگر کو جس کا نام شبیبہ تھا حملہ کر کے قتل کر دیا، اور اس وقت تک حویصہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور وہ محیصہ رضی اللہ عنہ سے بڑے تھے، تو جب محیصہ رضی اللہ عنہ نے یہودی تاجر کو قتل کر دیا تو حویصہ محیصہ کو مارنے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے دشمن! قسم اللہ کی تیرے پیٹ میں اس کے مال کی بڑی چربی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3002]
سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس یہودی پر بھی تمہارا بس چلے اسے قتل کر ڈالو۔“ چنانچہ محیصہ رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی تاجر پر، جس کا نام شبیہ تھا، حملہ کیا اور اسے قتل کر ڈالا جو ان کے ساتھ رہتا تھا اور (محیصہ کا بھائی) حویصہ ابھی ان دنوں مسلمان نہیں ہوا تھا اور عمر میں محیصہ سے بڑا تھا۔ جب اسے قتل کر دیا تو حویصہ، محیصہ کو مارنے لگا اور کہتا تھا: ”اے اللہ کے دشمن! اللہ کی قسم! تیرے پیٹ کی بہت سی چربی اسی کے مال کی وجہ سے ہے (یعنی وہ تیرا محسن ہے اور تو نے اس کو قتل کر ڈالا ہے)۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3002]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11240)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/436، 435) (ضعیف)» (اس کے دوراوی مولی زید بن ثابت اور ابنت محیصہ ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مولي لزيد بن ثابت ھو محمد بن أبي محمد
انظر الحديث السابق (3001) وابنة محيصة :لا تعرف (تق : 8786)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109
إسناده ضعيف
مولي لزيد بن ثابت ھو محمد بن أبي محمد
انظر الحديث السابق (3001) وابنة محيصة :لا تعرف (تق : 8786)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109
حدیث نمبر: 3003
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَاهُمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا، فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَلِكَ أُرِيدُ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ: اعْلَمُوا أَنَّمَا الأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الأَرْضِ فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّمَا الأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم مسجد میں تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لے آئے اور فرمانے لگے: ”یہود کی طرف چلو“، تو ہم سب آپ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ یہود کے پاس پہنچ گئے، پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور انہیں پکار کر کہا: ”اے یہود کی جماعت! اسلام لے آؤ تو (دنیا و آخرت کی بلاؤں و مصیبتوں سے) محفوظ ہو جاؤ گے“، تو انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے اپنا پیغام پہنچا دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پھر یہی فرمایا: «أسلموا تسلموا» انہوں نے پھر کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے اپنا پیغام پہنچا دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا یہی مقصد تھا“، پھر تیسری بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور مزید یہ بھی کہا کہ: ”جان لو! زمین اللہ کی، اور اس کے رسول کی ہے (اگر تم ایمان نہ لائے) تو میں تمہیں اس سر زمین سے جلا وطن کر دینے کا ارادہ کرتا ہوں، تو جو شخص اپنے مال کے لے جانے میں کچھ (دقت و دشواری) پائے (اور بیچنا چاہے) تو بیچ لے، ورنہ جان لو کہ (سب بحق سرکار ضبط ہو جائے گا کیونکہ) زمین اللہ کی اور اس کے رسول کی ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3003]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”چلو اٹھو، یہودیوں کی طرف چلو۔“ چنانچہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے اور انہیں پکارا اور فرمایا: ”اے جماعتِ یہود! اسلام قبول کر لو، امن میں رہو گے۔“ انہوں نے کہا: ”اے ابوالقاسم! آپ نے پیغام پہنچا دیا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”اسلام قبول کر لو، سلامتی میں رہو گے۔“ انہوں نے کہا: ”اے ابوالقاسم! آپ نے پیغام پہنچا دیا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہی چاہتا ہوں (کہ تم اقرار کر لو کہ میں نے پیغام پہنچا دیا ہے)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار فرمایا: ”یاد رکھو! زمین اللہ کی ہے اور اس کے رسول کی، اور میں تمہیں اس زمین سے جلا وطن کرنے والا ہوں۔ جسے اپنے مال میں سے کچھ ملتا ہو تو وہ اسے بیچ لے، ورنہ یاد رکھو! زمین اللہ کی ہے اور اس کے رسول کی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3003]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجزیة 6 (3167)، والإکراہ 2 (6944)، والاعتصام 18 (7348)، صحیح مسلم/الجھاد 20 (1765)، (تحفة الأشراف: 14310)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/451) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3167) صحيح مسلم (1765)