سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ
باب: جزیہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3037
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أُكَيْدِرِ دُومَةَ فَأُخِذَ فَأَتَوْهُ بِهِ، فَحَقَنَ لَهُ دَمَهُ وَصَالَحَهُ عَلَى الْجِزْيَةِ.
انس رضی اللہ عنہ سے (مرفوعاً) اور عثمان بن ابو سلیمان سے (مرسلاً) روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو اکیدر ۱؎ دومہ کی طرف بھیجا، تو خالد اور ان کے ساتھیوں نے اسے گرفتار کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، آپ نے اس کا خون معاف کر دیا اور جزیہ پر اس سے صلح کر لی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3037]
جناب عاصم بن عمر رحمہ اللہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اور جناب عثمان بن ابی سلیمان رحمہ اللہ سے موقوفاً روایت کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ (اور کچھ دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم) کو دومہ کے بادشاہ اکیدر کی طرف روانہ کیا، تو انہوں نے اسے پکڑ لیا اور (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) لے آئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون معاف کر دیا اور جزیہ کی ادائیگی پر صلح کر لی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 937، 19002) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اکیدر شہر دومہ کا نصرانی بادشاہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زندہ پکڑ لانے کا حکم دیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 111
إسناده ضعيف
محمد بن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 111
حدیث نمبر: 3038
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ يَعْنِي مُحْتَلِمًا دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مِنَ الْمُعَافِرِيِّ ثِيَابٌ تَكُونُ بِالْيَمَنِ".
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف (حاکم بنا کر) بھیجا، تو انہیں حکم دیا کہ ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر قیمت کا معافری کپڑا جو یمن میں تیار ہوتا ہے جزیہ لیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3038]
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا تو ان کو حکم دیا کہ ”ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا وصول کریں۔“ یہ کپڑا اسی علاقے میں بنا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3038]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 8 (2455)، (تحفة الأشراف: 11312)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة 5 (623)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 12 (1803)، مسند احمد (5/230، 233، 247) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ترمذي (623) نسائي (2455) ابن ماجه (1803)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 111
ضعيف
ترمذي (623) نسائي (2455) ابن ماجه (1803)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 111
حدیث نمبر: 3039
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی معاذ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3039]
جناب مسروق نے بسند حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3039]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11363) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ترمذي (623) نسائي (2455) ابن ماجه (1803)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 111
ضعيف
ترمذي (623) نسائي (2455) ابن ماجه (1803)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 111
حدیث نمبر: 3040
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هَانِئٍ أَبُو نُعَيمٍ النَّخَعِيُّ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: لَئِنْ بَقِيتُ لِنَصَارَى بَنِي تَغْلِبَ لَأَقْتُلَنَّ الْمُقَاتِلَةَ وَلَأَسْبِيَنَّ الذُّرِّيَّةَ فَإِنِّي كَتَبْتُ الْكِتَابَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ لَا يُنَصِّرُوا أَبْنَاءَهُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، بَلَغَنِي عَنْ أَحْمَدَ أَنَّه كَانَ يُنْكِرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِنْكَارًا شَدِيدًا، وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ الْنَّاسِ شِبْهُ الْمَتْرُوكِ وَأَنْكَرُوا هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى عَبْدِ الْرَحْمَنِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: وَلَمْ يَقْرَأْهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْعَرْضَةِ الثَّانِيَةِ.
زیاد بن حدیر کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں زندہ رہا تو بنی تغلب کے نصاریٰ کے لڑنے کے قابل لوگوں کو قتل کر دوں گا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لوں گا کیونکہ ان کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا وہ عہد نامہ میں نے ہی لکھا تھا اس میں تھا کہ وہ اپنی اولاد کو نصرانی نہ بنائیں گے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ امام احمد بھی اس حدیث کا نہایت سختی سے انکار کرتے تھے۔ ابوعلی کہتے ہیں: ابوداؤد نے دوسری بار جب اس کتاب کو سنایا تو اس میں اس حدیث کو نہیں پڑھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3040]
زیاد بن حدیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں زندہ رہا تو ہر صورت بنو تغلب کے عیسائیوں سے سخت جنگ کروں گا اور ان کی اولادوں کو قید کروں گا، بلاشبہ ان کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہونے والا معاہدہ میں نے ہی تحریر کیا تھا کہ یہ لوگ اپنی اولادوں کو عیسائی نہیں بنائیں گے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ حدیث منکر ہے (یعنی انتہائی ضعیف ہے)۔“ امام احمد رحمہ اللہ کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ ”وہ اس حدیث کو منکر تصور کرتے تھے۔“ جناب ابوعلی (لؤلؤی) کہتے ہیں کہ ”امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے دوسری بار جب اپنی یہ کتاب طلبہ کے سامنے پڑھی تو اس حدیث کی قراءت ہی نہیں کی تھی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3040]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10097) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوة عبد الرحمن، شریک اور ابراہیم حافظے کے کمزور راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو نعيم النخعي عبد الرحمٰن بن ھانئ ضعيف من جھة حفظه
ضعفه الجمهور وفي التحرير (4032) : ’’ بل ضعيف جدًا كذّبه ابن معين‘‘!
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 111
إسناده ضعيف
أبو نعيم النخعي عبد الرحمٰن بن ھانئ ضعيف من جھة حفظه
ضعفه الجمهور وفي التحرير (4032) : ’’ بل ضعيف جدًا كذّبه ابن معين‘‘!
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 111
حدیث نمبر: 3041
حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْيَامِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ،عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَالَحَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ نَجْرَانَ عَلَى أَلْفَيْ حُلَّةٍ النِّصْفُ فِي صَفَرٍ وَالْبَقِيَّةُ فِي رَجَبٍ يُؤَدُّونَهَا إِلَى الْمُسْلِمِينَ وَعَارِيَةِ ثَلَاثِينَ دِرْعًا وَثَلَاثِينَ فَرَسًا وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا وَثَلَاثِينَ مِنْ كُلِّ صِنْفٍ مِنْ أَصْنَافِ السِّلَاحِ يَغْزُونَ بِهَا، وَالْمُسْلِمُونَ ضَامِنُونَ لَهَا حَتَّى يَرُدُّوهَا عَلَيْهِمْ إِنْ كَانَ بِالْيَمَنِ كَيْدٌ أَوْ غَدْرَةٌ عَلَى أَنْ لَا تُهْدَمَ لَهُمْ بَيْعَةٌ، وَلَا يُخْرَجَ لَهُمْ قَسٌّ، وَلَا يُفْتَنُوا عَنْ دِينِهِمْ مَا لَمْ يُحْدِثُوا حَدَثًا أَوْ يَأْكُلُوا الرِّبَا، قَالَ إِسْمَاعِيل: فَقَدْ أَكَلُوا الرِّبَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِذَا نَقَضُوا بَعْضَ مَا اشْتُرِطَ عَلَيْهِمْ فَقَدْ أَحْدَثُوا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ کپڑوں کے دو ہزار جوڑے مسلمانوں کو دیا کریں گے، آدھا صفر میں دیں، اور باقی ماہ رجب میں، اور تیس زرہیں، تیس گھوڑے اور تیس اونٹ اور ہر قسم کے ہتھیاروں میں سے تیس تیس ہتھیار جس سے مسلمان جہاد کریں گے بطور عاریت دیں گے، اور مسلمان ان کے ضامن ہوں گے اور (ضرورت پوری ہو جانے پر) انہیں لوٹا دیں گے اور یہ عاریۃً دینا اس وقت ہو گا جب یمن میں کوئی فریب کرے (یعنی سازش کر کے نقصان پہنچانا چاہے) یا مسلمانوں سے غداری کرے اور عہد توڑے (اور وہاں جنگ در پیش ہو) اس شرط پر کہ ان کا کوئی گرجا نہ گرایا جائے گا، اور کوئی پادری نہ نکالا جائے گا، اور ان کے دین میں مداخلت نہ کی جائے گی، جب تک کہ وہ کوئی نئی بات نہ پیدا کریں یا سود نہ کھانے لگیں۔ اسماعیل سدی کہتے ہیں: پھر وہ سود کھانے لگے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب انہوں نے اپنے اوپر لاگو بعض شرائط توڑ دیں تو نئی بات پیدا کر لی (اور وہ ملک عرب سے نکال دئیے گئے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3041]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ ”وہ دو ہزار حلے (کپڑوں کے جوڑے) ادا کیا کریں گے، آدھے ماہ صفر میں اور آدھے رجب میں، علاوہ ازیں تیس زرہیں، تیس گھوڑے، تیس اونٹ اور ہر قسم کا اسلحہ جو جنگ میں استعمال ہوتا ہے تیس تیس کی تعداد میں عاریتاً دیا کریں گے اور مسلمان ان چیزوں کے واپس کرنے تک ان کے ضامن ہوں گے (یہ عاریت اس وقت لی جائے گی) جب یمن میں کوئی فساد یا غدر ہو (اور ان کی ضرورت پڑی) اور (ان کے ساتھ عہد تھا کہ) ان کا کوئی معبد نہیں گرایا جائے گا، کسی پادری کو نہیں نکالا جائے گا اور ان کے دین میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی جب تک کہ یہ دین میں کوئی نئی بات نہ نکالیں اور سود نہ کھائیں۔“ (راوی حدیث) اسماعیل (اسماعیل بن عبدالرحمٰن قرشی سدی) نے کہا: ”چنانچہ ان لوگوں نے سود کھایا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جب وہ کوئی شرط توڑیں گے تو یہ دین میں نئی بات نکالنا ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 3041]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5361) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوی اسماعیل سدی کا ابن عباس سے سماع ثابت نہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
وفي سماع إسماعيل السدي من ابن عباس نظر كما قال المنذري (عون المعبود 133/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 111
إسناده ضعيف
وفي سماع إسماعيل السدي من ابن عباس نظر كما قال المنذري (عون المعبود 133/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 111