🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

60. باب الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ
باب: میت کے لیے دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3199
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ، فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو تو خلوص دل سے اس کے لیے دعا کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3199]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم کسی میت کا جنازہ پڑھو تو اس کے لیے اخلاص سے دعا کیا کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3199]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الجنائز 23 (1497)، (تحفة الأشراف: 14993) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1674)
ابن إسحاق صرح بالسماع عند ابن حبان (الإحسان: 3077)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3200
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ سَيَّارٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ شَمَّاخٍ، قَالَ: شَهِدْتُ مَرْوَانَ، سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ: كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ؟ قَالَ: أَمَعَ الَّذِي قُلْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: كَلَامٌ كَانَ بَيْنَهُمَا قَبْلَ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا، جِئْنَاكَ شُفَعَاءَ، فَاغْفِرْ لَهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَخْطَأَ شُعْبَةُ فِي اسْمِ عَلِيِّ بْنِ شَمَّاخٍ، قَالَ فِيهِ عُثْمَانُ بْنُ شَمَّاسٍ، وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْمُوصِلِيَّ، يُحَدِّثُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ أَنِّي جَلَسْتُ مِنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ مَجْلِسًا، إِلَّا نَهَى فِيهِ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَجَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
علی بن شماخ کہتے ہیں میں مروان کے پاس موجود تھا، مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازے کے نماز میں کیسی دعا پڑھتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم ان باتوں کے باوجود مجھ سے پوچھتے ہو جو پہلے کہہ چکے ہو؟ مروان نے کہا: ہاں۔ راوی کہتے ہیں: ان دونوں میں اس سے پہلے کچھ کہا سنی (سخت کلامی) ہو گئی تھی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم أنت ربها وأنت خلقتها وأنت هديتها للإسلام وأنت قبضت روحها وأنت أعلم بسرها وعلانيتها جئناك شفعاء فاغفر له» اے اللہ! تو ہی اس کا رب ہے، تو نے ہی اس کو پیدا کیا ہے، تو نے ہی اسے اسلام کی راہ دکھائی ہے، تو نے ہی اس کی روح قبض کی ہے، تو اس کے ظاہر و باطن کو زیادہ جاننے والا ہے، ہم اس کی سفارش کرنے آئے ہیں تو اسے بخش دے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3200]
سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازہ پڑھتے ہوئے کیسے سنا ہے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اس سب کے باوجود جو تم نے کہا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ راوی نے وضاحت کی کہ ان دونوں کے مابین اس سے پہلے کوئی بات ہوئی تھی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا، جِئْنَاكَ شُفَعَاءَ، فَاغْفِرْ لَهُ» اے اللہ! تو اس میت کا رب ہے، تو نے ہی اسے پیدا کیا ہے اور دین اسلام کی ہدایت دی ہے اور تو نے ہی اس کی روح قبض کی ہے اور تو اس کے باطن اور ظاہر سے بخوبی آگاہ ہے، ہم اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں تو اسے معاف فرما دے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شعبہ نے سند کے ایک راوی علی بن شماخ کے نام میں غلطی کرتے ہوئے اسے عثمان بن شماس کہہ دیا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: میں نے احمد بن ابراہیم موصلی سے سنا جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے روایت کرتے تھے کہ میں جب بھی حماد بن زید کی مجلس میں بیٹھا تو وہ عبدالوارث اور جعفر بن سلیمان سے روایت لینے سے منع کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3200]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة (1078)، (تحفة الأشراف: 14261)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/256، 345، 363، 458) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی علی بن شماخ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1688)
علي بن شماخ ذكره ابن حبان في الثقات وحسن له الحافظ ابن حجر في الفتوحات الربانية (5/176)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3201
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِيمَانِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ کی نماز پڑھی تو یوں دعا کی: «اللهم اغفر لحينا وميتنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا وشاهدنا وغائبنا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإيمان ومن توفيته منا فتوفه على الإسلام اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» اے اللہ! تو بخش دے، ہمارے زندوں اور ہمارے مردوں کو، ہمارے چھوٹوں اور ہمارے بڑوں کو، ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں کو، ہمارے حاضر اور ہمارے غائب کو، اے اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے ایمان پر زندہ رکھ، اور ہم میں سے جس کو موت دے اسے اسلام پر موت دے، اے اللہ! ہم کو تو اس کے ثواب سے محروم نہ رکھنا، اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرنا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3201]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازے پر نماز پڑھی تو یوں دعا فرمائی: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَصَغِيْرِنَا وَكَبِيْرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، اَللّٰهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِيْمَانِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، اَللّٰهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ» اے اللہ! ہمارے زندوں اور مرنے والوں کو بخش دے اور چھوٹوں کو اور بڑوں کو، مردوں کو اور عورتوں کو، حاضر موجود لوگوں کو اور جو موجود نہیں ہیں انہیں بھی بخش دے۔ اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے تو اسے ایمان کے ساتھ زندہ رکھ اور جسے تو موت دے اسے اسلام پر موت دے۔ اے اللہ! ہمیں اس مرنے والے کے اجر سے محروم نہ رکھ اور اس کے بعد ہمیں گمراہ بھی نہ کر دینا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3201]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الجنائز 38 (1024)، (تحفة الأشراف: 15385)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجنائز 77 (1985)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 23 (1499)، مسند احمد (2/368) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1675، 1676)
يحيي بن أبي كثير صرح بالسماع عند الترمذي (1024) وغيره وللحديث شواھد

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3202
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ. ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ، وَحَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَتَمُّ،حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جُنَاحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ، فَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فِي ذِمَّتِكَ، وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ، وَالْحَمْدِ اللَّهُمَّ، فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ". قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ جَنَاحٍ.
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مسلمانوں میں سے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی تو میں نے سنا آپ کہہ رہے تھے: «اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك فقه فتنة القبر» اے اللہ! فلاں کا بیٹا فلاں تیری امان و پناہ میں ہے تو اسے قبر کے فتنہ (عذاب) سے بچا لے۔ عبدالرحمٰن کی روایت میں: «في ذمتك» کے بعد عبارت اس طرح ہے: «وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحمد اللهم فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! وہ تیری امان میں ہے، اور تیری حفاظت میں ہے، تو اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے بچا لے، تو وعدہ وفا کرنے والا اور لائق ستائش ہے، اے اللہ! تو اسے بخش دے، اس پر رحم فرما، تو بہت بخشنے والا، اور رحم فرمانے والا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3202]
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مسلمان کی نماز جنازہ پڑھائی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ، فَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ» جبکہ عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے یوں کہا: «فِي ذِمَّتِكَ، وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ، وَالْحَقِّ اللَّهُمَّ، فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» اے اللہ! فلاں بن فلاں تیرے ذمے (کفالت) میں ہے اور تیری ہمسائیگی اور امان میں آ گیا ہے، سو تو اسے قبر کی آزمائش اور آگ کے عذاب سے محفوظ فرما دے، تو اپنے وعدے وفا کرنے والا اور حق والا ہے، اے اللہ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما، بلاشبہ تو بہت ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ عبدالرحمٰن نے سند بیان کرتے ہوئے ( «حَدَّثَنَا» کے بجائے) «عَنْ مَرْوَانَ بْنِ جَنَاحٍ» کہا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3202]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الجنائز 23 (1499)، (تحفة الأشراف: 11753)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/491) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1677)
الوليد بن مسلم صرح بالسماع المسلسل عند ابن المنذر في الأوسط (5/441 ح 3173)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں