🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. باب الدعاء للميت
باب: میت کے لیے دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3202
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ. ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ، وَحَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَتَمُّ،حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جُنَاحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ، فَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فِي ذِمَّتِكَ، وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ، وَالْحَمْدِ اللَّهُمَّ، فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ". قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ جَنَاحٍ.
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مسلمانوں میں سے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی تو میں نے سنا آپ کہہ رہے تھے: «اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك فقه فتنة القبر» اے اللہ! فلاں کا بیٹا فلاں تیری امان و پناہ میں ہے تو اسے قبر کے فتنہ (عذاب) سے بچا لے۔ عبدالرحمٰن کی روایت میں: «في ذمتك» کے بعد عبارت اس طرح ہے: «وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحمد اللهم فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! وہ تیری امان میں ہے، اور تیری حفاظت میں ہے، تو اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے بچا لے، تو وعدہ وفا کرنے والا اور لائق ستائش ہے، اے اللہ! تو اسے بخش دے، اس پر رحم فرما، تو بہت بخشنے والا، اور رحم فرمانے والا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3202]
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مسلمان کی نماز جنازہ پڑھائی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ، فَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ» جبکہ عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے یوں کہا: «فِي ذِمَّتِكَ، وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ، وَالْحَقِّ اللَّهُمَّ، فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» اے اللہ! فلاں بن فلاں تیرے ذمے (کفالت) میں ہے اور تیری ہمسائیگی اور امان میں آ گیا ہے، سو تو اسے قبر کی آزمائش اور آگ کے عذاب سے محفوظ فرما دے، تو اپنے وعدے وفا کرنے والا اور حق والا ہے، اے اللہ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما، بلاشبہ تو بہت ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ عبدالرحمٰن نے سند بیان کرتے ہوئے ( «حَدَّثَنَا» کے بجائے) «عَنْ مَرْوَانَ بْنِ جَنَاحٍ» کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3202]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الجنائز 23 (1499)، (تحفة الأشراف: 11753)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/491) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1677)
الوليد بن مسلم صرح بالسماع المسلسل عند ابن المنذر في الأوسط (5/441 ح 3173)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥واثلة بن الأسقع الليثي، أبو قرصافة، أبو محمد، أبو الأسقع، أبو الخطابصحابي
👤←👥يونس بن ميسرة الحميري، أبو عبيد، أبو حلبس
Newيونس بن ميسرة الحميري ← واثلة بن الأسقع الليثي
ثقة
👤←👥مروان بن جناح الأموي
Newمروان بن جناح الأموي ← يونس بن ميسرة الحميري
صدوق حسن الحديث
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← مروان بن جناح الأموي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن موسى التميمي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن موسى التميمي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة حافظ
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← إبراهيم بن موسى التميمي
ثقة
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد
Newدحيم القرشي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة حافظ متقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3202
اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك فقه فتنة القبر
سنن ابن ماجه
1499
اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحق فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3202 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3202
فوائد ومسائل:

یہ حدیث بھی دلیل ہے کہ جنازے میں دعا بلند آواز سے پڑھی گئی تھی۔

اس دعا میں میت اور اس کے والد کا نام بھی لیا جاسکتا ہے۔

چاہیے کہ جنازہ کی مختلف دعایئں یاد کی جایئں اور بچوں کو یاد کرائی جایئں تاکہ یہ میت کےلئے اخلاص کے ساتھ دعا کرنے کا حق ادا ہوسکے۔

یہ دعایئں اس وقت مقبول ہوتی ہیں۔
جب میت خود اور اس کا جنازہ پڑھنے والے کماحقہ مسلمان ہوں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3202]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ غلام مصطفٰے ظهير امن پوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابن ماجه 1499
نماز جنازہ کی دعا
«. . . عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَسْمَعُهُ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ " . . . .»
. . . واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کے نماز جنازہ پڑھائی، تو میں آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سن رہا تھا: «اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحق فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! فلاں بن فلاں، تیرے ذمہ میں ہے، اور تیری پناہ کی حد میں ہے، تو اسے قبر کے فتنے اور جہنم کے عذاب سے بچا لے، تو عہد اور حق پورا کرنے والا ہے، تو اسے بخش دے، اور اس پر رحم کر، بیشک تو غفور (بہت بخشنے والا) اور رحیم (رحم کرنے والا) ہے . . . [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/بَابُ: مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْجِنَازَةِ: 1499]
فوائد و مسائل:
بعض لوگ نماز جنازہ کے درود میں یہ اضافہ کرتے ہیں:
«كما صليت وسلمت وباركت ورحمت .»
یہ بالکل ناجائز ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعلیم نہیں دی۔ بعد میں کسی شخص نے دین میں اضافہ کرتے ہوئے یہ الفاظ گھڑے ہیں۔
[ماہنامہ السنہ جہلم، شمارہ 61-66، حدیث/صفحہ نمبر: 250]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1499
نماز جنازہ کی دعا۔
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کے نماز جنازہ پڑھائی، تو میں آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سن رہا تھا: «اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحق فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! فلاں بن فلاں، تیرے ذمہ میں ہے، اور تیری پناہ کی حد میں ہے، تو اسے قبر کے فتنے اور جہنم کے عذاب سے بچا لے، تو عہد اور حق پورا کرنے والا ہے، تو اسے بخش دے، اور اس پر رحم کر، بیشک تو غفور (بہت بخشنے والا) اور رحیم (رحم کرنے والا) ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1499]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عذاب قبر حق ہے۔
اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کے لئے عذاب قبر سے پناہ کی دعا فرمائی۔
لیکن اس کا تعلق عالم غیب سے ہے۔
جس طرح ہم اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی دوسری بہت سی چیزوں پر بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں۔
اسی طرح عذاب قبر پربھی ایمان لاتے ہیں۔
کیونکہ وہ زندہ لوگوں کے حواس کی گرفت سے باہر ہے۔

(2)
قبر کا عذاب کفر وشرک کے علاوہ دوسرے گناہوں کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔
مثلاً جسم اور کپڑوں کو پیشاب سے نہ بچانا اور چغلی کھانا جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قبروں میں مدفون دو شخصوں کو عذاب ہوتے سنا تو فرمایا ان دونوں کوعذاب ہورہا ہے اور عذاب بھی کسی بڑے کام کی وجہ سے نہیں ہورہا۔ (ایسا گناہ نہیں تھا جس سے بچنا بہت دشوار ہو)
ہاں ایک تو اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔
دوسرا لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا۔ (ایک کی بات دوسرے کو بتا کر آپس میں لڑا دیتا تھا۔) (صحیح البخاري، الوضوء، باب من الکبائر أن لا یستشر من بوله، حدیث: 216)

(3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مذکورہ دعا جنازے میں بلند آواز سے پڑھی گئی تھی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1499]

Sunan Abi Dawud Hadith 3202 in Urdu