سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب فِي حُسْنِ الْقَضَاءِ
باب: قرض کو بہتر طور پر ادا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3346
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ:" اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ، فَقُلْتُ: لَمْ أَجِدْ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَعْطِهِ إِيَّاهُ، فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا اونٹ بطور قرض لیا پھر آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ ویسا ہی اونٹ آدمی کو لوٹا دوں، میں نے (آ کر) عرض کیا: مجھے کوئی ایسا اونٹ نہیں ملا سبھی اچھے، بڑے اور چھ برس کے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اسی کو دے دو، لوگوں میں اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی اچھی کریں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3346]
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک بار) ایک جوان اونٹ ادھار لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقے کے اونٹ آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ”اس کا (جوان) اونٹ ادا کر دوں۔“ میں نے عرض کیا: ”گلے میں اس کے اونٹ سے عمدہ رباعی اونٹ ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وہی دے دو، لوگوں میں بہترین وہی ہوتے ہیں جو ادائیگی میں بہترین ہوں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 43 (1600)، سنن الترمذی/البیوع 75 (1318)، سنن النسائی/البیوع 62 (4621)، سنن ابن ماجہ/التجارات 62 (2285)، (تحفة الأشراف: 12025)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 43 (89)، مسند احمد (6/390)، سنن الدارمی/البیوع 31 (2607) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1600)
حدیث نمبر: 3347
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، فَقَضَانِي وَزَادَنِي".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرا کچھ قرض نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا، تو آپ نے مجھے ادا کیا اور زیادہ کر کے دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3347]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرا کچھ قرضہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ ادا فرمایا تو اس سے زیادہ دیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 59 (443)، والوکالة 8 (2309)، والاستقراض 7 (2394)، والھبة 32 (3603)، صحیح مسلم/المسافرین 11 (715)، سنن النسائی/البیوع 51 (4594)، (تحفة الأشراف: 2578)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/299، 302، 319، 363) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر قرضدار اپنی خوشی سے بغیر کسی شرط کے زیادہ دے تو اس کے لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (443) صحيح مسلم (715 بعد ح1599)
مشكوة المصابيح (2925)
مشكوة المصابيح (2925)