علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب في حسن القضاء
باب: قرض کو بہتر طور پر ادا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3346
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ:" اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ، فَقُلْتُ: لَمْ أَجِدْ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَعْطِهِ إِيَّاهُ، فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا اونٹ بطور قرض لیا پھر آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ ویسا ہی اونٹ آدمی کو لوٹا دوں، میں نے (آ کر) عرض کیا: مجھے کوئی ایسا اونٹ نہیں ملا سبھی اچھے، بڑے اور چھ برس کے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اسی کو دے دو، لوگوں میں اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی اچھی کریں“۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3346]
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک بار) ایک جوان اونٹ ادھار لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقے کے اونٹ آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ”اس کا (جوان) اونٹ ادا کر دوں۔“ میں نے عرض کیا: ”گلے میں اس کے اونٹ سے عمدہ رباعی اونٹ ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وہی دے دو، لوگوں میں بہترین وہی ہوتے ہیں جو ادائیگی میں بہترین ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 43 (1600)، سنن الترمذی/البیوع 75 (1318)، سنن النسائی/البیوع 62 (4621)، سنن ابن ماجہ/التجارات 62 (2285)، (تحفة الأشراف: 12025)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 43 (89)، مسند احمد (6/390)، سنن الدارمی/البیوع 31 (2607) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1600)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
4108
| استسلف من رجل بكرا فقدمت عليه إبل من إبل الصدقة فأمر أبا رافع أن يقضي الرجل بكره فرجع إليه أبو رافع فقال لم أجد فيها إلا خيارا رباعيا فقال أعطه إياه خيار الناس أحسنهم قضاء |
جامع الترمذي |
1318
| خيار الناس أحسنهم قضاء |
سنن أبي داود |
3346
| خيار الناس أحسنهم قضاء |
سنن ابن ماجه |
2285
| استسلف من رجل بكرا وقال إذا جاءت إبل الصدقة قضيناك فلما قدمت قال يا أبا رافع اقض هذا الرجل بكره فلم أجد إلا رباعيا فصاعدا فأخبرت النبي فقال أعطه خير الناس أحسنهم قضاء |
سنن النسائى الصغرى |
4621
| خير المسلمين أحسنهم قضاء |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
524
| اعطه إياه، فإن خيار الناس احسنهم قضاء |
Sunan Abi Dawud Hadith 3346 in Urdu
عطاء بن يسار الهلالي ← أبو رافع القبطي