🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. باب فِي الْجَهْمِيَّةِ
باب: جہمیہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4721
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، أخبرنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يُقَالَ: هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَلْيَقُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ ایک دوسرے سے برابر سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا، اللہ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ لہٰذا تم میں سے کسی کو اس سلسلے میں اگر کوئی شبہ گزرے تو وہ یوں کہے: میں اللہ پر ایمان لایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4721]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ سوالات کرتے رہیں گے حتیٰ کہ کہا جائے گا: یہ مخلوق اللہ نے پیدا کی ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ سو جو کوئی اس قسم کی بات کرے (یا وہم پائے) تو اسے چاہیے کہ یوں کہے: «آمَنْتُ بِاللَّهِ» میں اللہ پر ایمان لایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4721]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/بدء الخلق 11 (3276)، صحیح مسلم/الإیمان 60 (134)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (662)، (تحفة الأشراف: 14160)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/331) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اگر آدمی کو کوئی اس طرح کا شیطانی وسوسہ لاحق ہو تو اس کو دور کرنے اور ذہن سے جھٹکنے کی پوری کوشش کرے اور یوں کہے: میں اللہ پر ایمان لا چکا ہوں، صحیحین کی روایت میں ہے: میں اللہ و رسول پر ایمان لا چکا ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م خ نحوه بلفظ فليتعذ بالله ولينته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3276) صحيح مسلم (134)
مشكوة المصابيح (75)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4722
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، أخبرنا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ مَوْلَى بَنِي تَيْمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ:" فَإِذَا قَالُوا ذَلِكَ فَقُولُوا: اللَّهُ أَحَدٌ {1} اللَّهُ الصَّمَدُ {2} لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ {3} وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ {4} سورة الإخلاص آية 1-4، ثُمَّ لِيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَسْتَعِذْ مِنَ الشَّيْطَانِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، پھر اس جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے، آپ نے فرمایا: جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو: «الله أحد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے ۱؎، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے پھر وہ اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4722]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، وہ فرماتے تھے، اور مذکورہ بالا کی مانند بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ لوگ یہ کہیں تو تم کہو: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ۞ اللَّهُ الصَّمَدُ ۞ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ۞ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1-4] اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس نے جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی نہیں جو اس کی برابری کر سکے۔ پھر چاہیے کہ بائیں جانب کچھ لعاب تھوکے اور «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4722]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، سنن النسائی/ عمل الیوم واللیة (661)، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 14978) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: احد وہ ہے جس کا کوئی مثیل و نظیر نہ ہو، صمد وہ کہ سب اس کے محتاج ہوں وہ بے نیاز ہے، کسی کا محتاج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (75)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4723
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، أخبرنا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ:" كُنْتُ فِي الْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّتْ بِهِمْ سَحَابَةٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ؟ , قَالُوا: السَّحَابَ، قَالَ: وَالْمُزْنَ , قَالُوا: وَالْمُزْنَ، قَالَ: وَالْعَنَانَ، قَالُوا: وَالْعَنَانَ , قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ أُتْقِنْ الْعَنَانَ جَيِّدًا، قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ؟ قَالُوا: لَا نَدْرِي، قَالَ: إِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَهُمَا: إِمَّا وَاحِدَةٌ، أَوِ اثْنَتَانِ، أَوْ ثَلَاثٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً، ثُمَّ السَّمَاءُ فَوْقَهَا كَذَلِكَ حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، ثُمَّ فَوْقَ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ بَيْنَ أَظْلَافِهِمْ وَرُكَبِهِمْ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِمُ الْعَرْشُ مَا بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوْقَ ذَلِكَ".
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بطحاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے، اتنے میں بادل کا ایک ٹکڑا ان کے پاس سے گزرا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا: تم اسے کیا نام دیتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: «سحاب» (بادل)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور «مزن» بھی لوگوں نے کہا: ہاں «مزن» بھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور «عنان» بھی لوگوں نے عرض کیا: اور «عنان» بھی، (ابوداؤد کہتے ہیں: «عنان» کو میں اچھی طرح ضبط نہ کر سکا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: ہمیں نہیں معلوم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسافت ہے، پھر اسی طرح اس کے اوپر آسمان ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمان گنائے پھر ساتویں کے اوپر ایک سمندر ہے جس کی سطح اور تہہ میں اتنی دوری ہے جتنی کہ ایک آسمان اور دوسرے آسمان کے درمیان ہے، پھر اس کے اوپر آٹھ جنگلی بکرے ہیں جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی لمبائی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کی دوری ہے، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے، جس کے نچلے حصہ اور اوپری حصہ کے درمیان کی مسافت اتنی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی، پھر اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4723]
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں وادی بطحاء میں ایک جماعت میں بیٹھا ہوا تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے، وہاں سے بادل کا ایک ٹکڑا گزرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا: تم لوگ اسے کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: «السَّحَابُ» سحاب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور «الْمُزْنُ» مزن بھی؟ انہوں نے کہا: ہاں «الْمُزْنُ» بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور «الْعَنَانُ» عنان بھی کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں «الْعَنَانُ» بھی کہتے ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے «الْعَنَانُ» کا ذکر کوئی زیادہ اچھی طرح یاد نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جانتے ہو آسمان اور زمین میں کتنا فاصلہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہمیں معلوم نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کا فاصلہ ہے، پھر اس کے بعد دوسرے آسمان کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہے۔ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمان شمار کیے۔ پھر فرمایا: ساتویں کے اوپر سمندر ہے جس کی گہرائی اور اونچائی اس قدر ہے جیسے ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک، پھر اس کے اوپر آٹھ بکرے ہیں جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اس قدر فاصلہ ہے جیسے ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے، جس کی تہہ اور اونچائی میں اتنا ہی فاصلہ ہے جیسے ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک۔ پھر اس سے اوپر اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4723]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/تفسیر الحاقة 67 (3320)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 13 (193)، (تحفة الأشراف: 5124)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/206، 207) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبداللہ بن عمیرہ لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی فرشتے ان کی شکل میں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3320) ابن ماجه (193)
سماك بن حرب اختلط كما تقدم بالإشارة (2238) ولا نعرف تحديثه به قبل اختلاطه و عبد اللّٰه بن عميرة لا يعرف له سماع من الأحنف كما قال البخاري رحمه اﷲ (التاريخ الكبير 159/5)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 165

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4724
اس سند سے بھی سماک سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4724]
جناب عمرو بن ابوقیس نے بواسطہ سماک اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4724]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5124) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3320) ابن ماجه (193)
سماك بن حرب اختلط كما تقدم بالإشارة (2238) ولا نعرف تحديثه به قبل اختلاطه و عبد اللّٰه بن عميرة لا يعرف له سماع من الأحنف كما قال البخاري رحمه اﷲ (التاريخ الكبير 159/5)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 165

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4725
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ:حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سِمَاكٍ بِإِسْنَادِهِ، ومعنى هذا الحديث الطويل.
اس سند سے بھی سماک سے اسی لمبی حدیث کا مفہوم مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4725]
جناب ابراہیم بن طہمان رحمہ اللہ نے بواسطہ سماک رحمہ اللہ اس کی سند سے مذکورہ بالا طویل حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4725]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4723)، (تحفة الأشراف: 5124) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3320) ابن ماجه (193)
سماك بن حرب اختلط كما تقدم بالإشارة (2238) ولا نعرف تحديثه به قبل اختلاطه و عبد اللّٰه بن عميرة لا يعرف له سماع من الأحنف كما قال البخاري رحمه اﷲ (التاريخ الكبير 159/5)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 165

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4726
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالُوا: أخبرنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ أَحْمَدُ: كَتَبْنَاهُ مِنْ نُسْخَتِهِ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاق يُحَدِّثُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جُهِدَتِ الْأَنْفُسُ، وَضَاعَتِ الْعِيَالُ، وَنُهِكَتِ الْأَمْوَالُ، وَهَلَكَتِ الْأَنْعَامُ، فَاسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا، فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَى اللَّهِ، وَنَسْتَشْفِعُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْحَكَ، أَتَدْرِي مَا تَقُولُ؟ , وَسَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا زَالَ يُسَبِّحُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَالَ: وَيْحَكَ، إِنَّهُ لَا يُسْتَشْفَعُ بِاللَّهِ عَلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ، شَأْنُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ، وَيْحَكَ، أَتَدْرِي مَا اللَّهُ؟ إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَاوَاتِهِ لَهَكَذَا، وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ مِثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ لَيَئِطُّ بِهِ أَطِيطَ الرَّحْلِ بِالرَّاكِبِ" , قال ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ اللَّهَ فَوْقَ عَرْشِهِ، وَعَرْشُهُ فَوْقَ سَمَاوَاتِهِ , وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى، وَابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ أبو داود: وَالْحَدِيثُ بِإِسْنَادِ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ هُوَ الصَّحِيحُ، ووَافَقَهُ عَلَيْهِ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ: يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، كَمَا قَالَ أَحْمَدُ أَيْضًا، وَكَانَ سَمَاعُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَابْنِ الْمُثَنَّى، وَابْنِ بَشَّارٍ مِنْ نُسْخَةٍ وَاحِدَةٍ فِيمَا بَلَغَنِي.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہا: اللہ کے رسول! لوگ مصیبت میں پڑ گئے، گھربار تباہ ہو گئے، مال گھٹ گئے، جانور ہلاک ہو گئے، لہٰذا آپ ہمارے لیے بارش کی دعا کیجئے، ہم آپ کو سفارشی بناتے ہیں اللہ کے دربار میں، اور اللہ کو سفارشی بناتے ہیں آپ کے دربار میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا برا ہو، سمجھتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سبحان اللہ کہنے لگے، اور برابر کہتے رہے یہاں تک کہ اس کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے چہروں پر دیکھا گیا، پھر فرمایا: تمہارا برا ہو اللہ کو اس کی مخلوق میں سے کسی کے دربار میں سفارشی نہیں بنایا جا سکتا، اللہ کی شان اس سے بہت بڑی ہے، تمہارا برا ہو! کیا تم جانتے ہو اللہ کیا ہے، اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے (آپ نے انگلیوں سے گنبد کے طور پر اشارہ کیا) اور وہ چرچراتا ہے جیسے پالان سوار کے بیٹھنے سے چرچراتا ہے، (ابن بشار کی حدیث میں ہے) اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے اوپر ہے، اور اس کا عرش اس کے آسمانوں کے اوپر ہے اور پھر پوری حدیث ذکر کی۔ عبدالاعلی، ابن مثنی اور ابن بشار تینوں نے یعقوب بن عتبہ اور جبیر بن محمد بن جبیر سے ان دونوں نے محمد بن جبیر سے اور محمد بن جبیر نے جبیر بن مطعم سے روایت کی ہے۔ البتہ احمد بن سعید کی سند والی حدیث ہی صحیح ہے، اس پر ان کی موافقت ایک جماعت نے کی ہے، جس میں یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی بھی شامل ہیں اور اسے ایک جماعت نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے جیسا کہ احمد بن سعید نے بھی کہا ہے، اور عبدالاعلی، ابن مثنی اور ابن بشار کا سماع جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے، ایک ہی نسخے سے ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4726]
جناب جبیر بن محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد محمد سے، وہ اپنے دادا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جانوں پہ بن آئی ہے، بال بچے ہلاک ہو رہے ہیں، مال ختم ہو گئے ہیں اور مویشی مر رہے ہیں، اللہ سے ہمارے لیے بارش طلب کیجیے۔ ہم اللہ کے حضور آپ کی سفارش پیش کرتے ہیں اور اللہ کو آپ کے حضور سفارشی لاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس تجھ پر! کیا جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تسبیح «سُبْحَانَ اللّٰهِ» سبحان اللہ کہتے رہے حتیٰ کہ اس (خوف کے اثر) کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے چہروں پر محسوس کیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس تجھ پر! اللہ تعالیٰ کو اس کی مخلوق میں سے کسی کے ہاں سفارشی پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی شان اس سے کہیں زیادہ با عظمت (اور برتر) ہے۔ افسوس تجھ پر! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کی کیا شان ہے؟ بلاشبہ اس کا عرش آسمانوں پر اس طرح ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے قبے کی سی شکل بنائی اور فرمایا: وہ عرش اس طرح سے چرچرا رہا ہے جیسے پالان اپنے سوار کے ساتھ چرچراتا ہے۔ ابن بشار نے اپنی روایت میں کہا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش سے اوپر ہے اور اس کا عرش اس کے آسمانوں سے اوپر ہے۔ بواسطہ یعقوب بن عتبہ اور جبیر بن محمد بن جبیر، اس نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا سے روایت کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اور حدیث احمد بن سعید کی سند سے ہی صحیح ہے اور جماعت محدثین نے اس کی موافقت کی ہے جن میں یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی بھی ہیں۔ اور ایک جماعت نے ابن اسحاق سے اسی طرح روایت کیا ہے، جیسے احمد نے کہا اور جیسے کہ مجھے روایت پہنچی ہے، عبدالاعلیٰ، ابن مثنیٰ اور ابن بشار کا سماع ایک ہی نسخے سے ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4726]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3196) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابن اسحاق مدلس ہیں، نیز سند میں اختلاف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن وجبير بن محمد: مقبول (تق: 902) أي مجهول الحال ولم يوثقه غير ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 165

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4727
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أخبرنا أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ، مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ، إِنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةُ سَبْعِ مِائَةِ عَامٍ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4727]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے کہا گیا ہے کہ میں تمہیں حاملینِ عرش میں سے ایک فرشتہ کے متعلق بتاؤں۔ بلاشبہ اس کے کانوں کی لو سے اس کے کندھے تک کا فاصلہ سات سو سال کے سفر کے برابر ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3086) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عمدہ گھوڑے کی چال سے جیسا کہ دوسری حدیث میں مروی ہے، اس حدیث کا مقصود حاملین عرش کا طول و عرض اور عظمت و جثہ بتانا ہے، اور ستر کا عدد بطور تحدید نہیں ہے بلکہ اس سے کثرت مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5728)
أخرجه ابن طھمان (21 وسنده صحيح/معاذ)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4728
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ المعنى، قَالَا: أنبأنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، أخبرنا حَرْمَلَةُ يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ:" إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى سَمِيعًا بَصِيرًا سورة النساء آية 58، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ إِبْهَامَهُ عَلَى أُذُنِهِ، وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى عَيْنِهِ"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا وَيَضَعُ إِصْبَعَيْهِ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ: قَالَ الْمُقْرِئُ: يَعْنِي إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ: يَعْنِي أَنَّ لِلَّهِ سَمْعًا وَبَصَرًا , قال أَبُو دَاوُد: وَهَذَا رَدٌّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو یونس سلیم بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو آیت کریمہ «إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها *** إلى قوله تعالى *** سميعا بصيرا» اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچا دو۔۔۔ اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے (سورۃ النساء: ۵۸) تک پڑھتے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے انگوٹھے کو اپنے کان پر اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کو آنکھ پر رکھتے، (یعنی شہادت کی انگلی کو)، ابوہریرہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے پڑھتے اور اپنی دونوں انگلیوں کو رکھتے دیکھا۔ ابن یونس کہتے ہیں: عبداللہ بن یزید مقری نے کہا: یعنی «إن الله سميع بصير‏» پر انگلی رکھتے تھے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کے کان اور آنکھ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ جہمیہ کا رد ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4728]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت کریمہ ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا -إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى- سَمِيعًا بَصِيرًا﴾ [سورة النساء: 58] پڑھی: بلاشبہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کو پہنچا دو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو، اللہ اچھی نصیحت کرتا ہے، بلاشبہ اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا انگوٹھا اپنے کان پر اور ساتھ والی انگلی اپنی آنکھ پر رکھ رہے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کو پڑھتے ہوئے اپنی انگلیاں (کان اور آنکھ پر) رکھ رہے تھے۔ ابن یونس نے روایت کیا کہ عبداللہ بن زید مقری نے کہا: مقصد یہ ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ «سَمِيعٌ» و «بَصِيرٌ» ہے یعنی وہ خوب سنتا اور خوب دیکھتا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: اس میں جہمیہ کی تردید ہے (اللہ عزوجل ان صفات سے فی الواقع متصف ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب السُّنَّةِ/حدیث: 4728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15467) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں جہمیہ کا رد بلیغ ہے، جہمیہ اللہ کے لئے صفت سمع و بصر کی نفی کرتے ہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھا اور انگلی رکھ کر ان کی تردید فرما دی، جہمیہ تشبیہ سے بچنے کے لئے ایسا کہتے ہیں، جب کہ اس میں تشبیہ ہے ہی نہیں، مقصود صفت سمع (سننا) صفت بصر (دیکھنا) کا اثبات ہے، یہ مقصود نہیں کہ اس کی آنکھ وکان ہماری آنکھ اور کان جیسے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی آنکھ کان اس کی عظمت وجلال کے لائق ہیں، بلا کسی کیفیت تشبیہ، وتمثیل اور تعطیل کے سبحانہ تعالیٰ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں