🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. باب فِي حُسْنِ الْعِشْرَةِ
باب: حسن معاشرت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4788
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي الْحِمَّانِيَّ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَلَغَهُ عَنِ الرَّجُلِ الشَّيْءُ، لَمْ يَقُلْ: مَا بَالُ فُلَانٍ يَقُولُ، وَلَكِنْ يَقُولُ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی شخص کے بارے میں کوئی بری بات پہنچتی تو آپ یوں نہ فرماتے: فلاں کو کیا ہوا کہ وہ ایسا کہتا ہے؟ بلکہ یوں فرماتے: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسا اور ایسا کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4788]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی کے متعلق کوئی (نامناسب) خبر ملتی تو یوں نہ کہتے: فلاں کو کیا ہوا ہے کہ یوں کہتا ہے یا کرتا ہے؟ بلکہ یوں فرماتے: لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ ایسے ایسے کہتے ہیں یا کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4788]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17640) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6101) صحيح مسلم (2356)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4789
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُوَاجِهُ رَجُلًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ، فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَ: لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ ذَا عَنْهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَلْمٌ لَيْسَ هُوَ عَلَوِيًّا، كَانَ يُبْصِرُ فِي النُّجُومِ، وَشَهِدَ عِنْدَ عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ، فَلَمْ يُجِزْ شَهَادَتَهُ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس پر زردی کا نشان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ آپ بہت کم کسی ایسے شخص کے روبرو ہوتے، جس کے چہرے پر کوئی ایسی چیز ہوتی جسے آپ ناپسند کرتے تو جب وہ نکل گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش تم لوگ اس سے کہتے کہ وہ اسے اپنے سے دھو ڈالے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سلم علوی (یعنی اولاد علی میں سے) نہیں تھا بلکہ وہ ستارے دیکھا کرتا تھا ۱؎ اور اس نے عدی بن ارطاۃ کے پاس چاند دیکھنے کی گواہی دی تو انہوں نے اس کی گواہی قبول نہیں کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4789]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ اس پر زرد رنگ کا کچھ نشان تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کو اس کے منہ پر بہت کم ایسی بات کہتے تھے جو اس کو ناگوار ہو (یعنی اس کی غلطی پر اس کو نہ ٹوکتے تھے)۔ جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ہی اس کو کہہ دو کہ اس (رنگ) کو دھو ڈالے (تو بہتر ہو)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا راوی سلم علوی حقیقت میں اولادِ علی رضی اللہ عنہ میں سے نہیں (یہ دوسرا شخص ہے، اس کا نام سلم بن قیس ہے اور یہ بصری ہے چونکہ ستارے اوپر ہوتے ہیں) ستاروں پر نظر رکھنے کی وجہ سے اسے علوی کہا جانے لگا، اس نے سیدنا عدی بن ارطاۃ رحمہ اللہ کے سامنے چاند دیکھنے کی گواہی دی تو انہوں نے قبول نہ کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4789]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4182)، (تحفة الأشراف: 867) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس میں سلم العلوی ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی علو (بلندی) کی طرف دیکھتا تھا کیونکہ ستارے بلندی ہی میں ہوتے ہیں، اسی وجہ سے علو کی طرف نسبت کر کے اسے علوی کہا جاتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (4182)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4790
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَاهُ جَمِيعًا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِيمٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے اور فاجر فسادی اور کمینہ ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4790]
نصر بن علی اور محمد بن متوکل عسقلانی دونوں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن بھولا بھالا اور سخی ہوتا ہے اور فاجر آدمی فریبی اور بخیل ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4790]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البر والصلة 41 (1964)، (تحفة الأشراف: 15362)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/394) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1964)
رجل مجهول ويحيي بن أبي كثير مدلس وعنعن وبشر بن رافع ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4791
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ، أَوْ بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنُوا لَهُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ وَقَدْ قُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ، قَالَ: إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ، أَوْ تَرَكَهُ النَّاسُ لِاتِّقَاءِ فُحْشِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اندر آنے کی) اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: اپنے خاندان کا لڑکا یا خاندان کا آدمی برا شخص ہے پھر فرمایا: اسے اجازت دے دو، جب وہ اندر آ گیا تو آپ نے اس سے نرمی سے گفتگو کی، اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس سے نرم گفتگو کی حالانکہ آپ اس کے متعلق ایسی ایسی باتیں کہہ چکے تھے، آپ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے برا شخص اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ ہو گا جس سے لوگوں نے اس کی فحش کلامی سے بچنے کے لیے علیحدگی اختیار کر لی ہو یا اسے چھوڑ دیا ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4791]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنبے کا بہت برا آدمی ہے۔ پھر فرمایا: اسے اجازت دے دو (بلا لو)۔ جب وہ اندر آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نہایت نرمی کے ساتھ باتیں کیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (کہتی ہیں میں) نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کے ساتھ بڑی نرمی کے ساتھ باتیں کی ہیں، حالانکہ آپ نے اس کے متعلق ایسے ایسے فرمایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے ہاں سب سے برا وہ آدمی ہو گا جسے لوگوں نے اس کی بدکلامی کی وجہ سے چھوڑ دیا ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4791]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأدب 38 (6032)، 48 (6054)، 82 (6131)، صحیح مسلم/البر والصلة 22 (2591)، سنن الترمذی/البر والصلة 59 (1996)، (تحفة الأشراف: 16754)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/38) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6054) صحيح مسلم (2591)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4792
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْروٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ:" أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ، فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَلَّمَهُ، فَلَمَّا خَرَجَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمَّا اسْتَأْذَنَ؟ قُلْتَ: بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ، فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطْتَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: اپنے کنبے کا برا شخص ہے جب وہ اندر آ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کشادہ دلی سے ملے اور اس سے باتیں کیں، جب وہ نکل کر چلا گیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب اس نے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: اپنے کنبے کا برا شخص ہے، اور جب وہ اندر آ گیا تو آپ اس سے کشادہ دلی سے ملے آپ نے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ کو فحش گو اور منہ پھٹ شخص پسند نہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4792]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنبے کا بہت برا آدمی ہے۔ پھر جب وہ آپ کے پاس آ گیا تو آپ نے اس کے ساتھ بڑی فراخدلی کے ساتھ باتیں کیں۔ جب وہ چلا گیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب اس نے اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: کنبے کا برا آدمی ہے۔ جب وہ آ گیا تو آپ نے اس کے ساتھ بڑی فراخدلی کے ساتھ باتیں کی ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ کسی بدگو، تکلف سے بدگوئی کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ» کنبے کا کتنا برا بھائی (آدمی) ہے کے معنی کی بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے بیان کیا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4792]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17755) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وله شاھد حسن عند أحمد (6/258)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4793
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَتْ: فَقَالَ، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ، إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ الَّذِينَ يُكْرَمُونَ اتِّقَاءَ أَلْسِنَتِهِمْ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی واقعہ مروی ہے، وہ کہتی ہیں آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! لوگوں میں سب سے بدترین لوگ وہ ہیں وہ جن کا احترام و تکریم ان کی زبانوں سے بچنے کے لیے کیا جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4793]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس قصے میں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! بدترین ہیں وہ لوگ جن کی زبان کے شر سے بچنے کے لیے عزت کی جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4793]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17580)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/111) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شريك والأعمش مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4794
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، أَخْبَرَنَا مُبَارَكٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا الْتَقَمَ أُذُنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُنَحِّي رَأْسَهُ، حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يُنَحِّي رَأَسَهُ، وَمَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَخَذَ بِيَدِهِ فَتَرَكَ يَدَهُ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَدَعُ يَدَهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان پر منہ رکھا ہو (کچھ کہنے کے لیے) تو آپ نے اپنا سر ہٹا لیا ہو یہاں تک کہ خود وہی شخص نہ ہٹا لے، اور میں نے ایسا بھی کوئی شخص نہیں دیکھا، جس نے آپ کا ہاتھ پکڑا ہو، تو آپ نے اس سے ہاتھ چھڑا لیا ہو، یہاں تک کہ خود اس شخص نے آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیا ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4794]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نہیں دیکھا کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں سرگوشی کرنا چاہی ہو تو آپ نے اس سے اپنا سر دور کر لیا ہو، حتیٰ کہ وہ آدمی خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا سر دور کرتا تھا۔ اور میں نے نہیں دیکھا کہ کسی نے آپ کا ہاتھ پکڑا ہو، تو آپ نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا ہو، حتیٰ کہ وہ از خود آپ کا ہاتھ چھوڑتا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4794]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 463) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مبارك بن فضالة مدلس وعنعن
ولبعض الحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 167

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں