سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ: التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں احتیاط۔
حدیث نمبر: 23
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْبَطِينُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ:" مَا أَخْطَأَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ عَشِيَّةَ خَمِيسٍ إِلَّا أَتَيْتُهُ فِيهِ، قَالَ: فَمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ لِشَيْءٍ قَطُّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ عَشِيَّةٍ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَكَسَ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَهُوَ قَائِمٌ مُحَلَّلَةً أَزْرَارُ قَمِيصِهِ، قَدِ اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ، وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُهُ"، قَالَ: أَوْ دُونَ ذَلِكَ، أَوْ فَوْقَ ذَلِكَ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، أَوْ شَبِيهًا بِذَلِكَ.
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں بلا ناغہ ہر جمعرات کی شام کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاتا تھا، میں نے کبھی بھی آپ کو کسی چیز کے بارے میں «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» کہتے نہیں سنا، ایک شام آپ نے کہا: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» اور اپنا سر جھکا لیا، میں نے ان کو دیکھا کہ اپنے کرتے کی گھنڈیاں کھولے کھڑے ہیں، آنکھیں بھر آئی ہیں اور گردن کی رگیں پھول گئی ہیں اور کہہ رہے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ کم یا زیادہ یا اس کے قریب یا اس کے مشابہ فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 23]
حضرت عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ہر جمعرات کو بلا ناغہ دن ڈھلے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا، میں نے انہیں کبھی یہ کہتے نہیں سنا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ہے“۔ ایک دن انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔“ (اس کے بعد) سر جھکا لیا (خاموش ہو گئے) میں نے آپ کی طرف نظر اٹھائی تو دیکھا کہ وہ قمیص کے بٹن کھولے کھڑے ہیں، آنکھیں بھر آئی ہیں اور رگیں پھول گئی ہیں (حدیث بیان کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی) آخر فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی ارشاد فرمایا تھا، یا اس سے کم و بیش یا اس سے قریب یا اس سے ملتے جلتے الفاظ فرمائے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 23]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9492، ومصباح الزجاجة: 9)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/452)، سنن الدارمی/ المقدمة 28 (278) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا کمال ادب تھا کہ حدیث کی روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس وقت تک نسبت نہ کرتے تھے جب تک خوب یقین نہ ہو جاتا کہ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، اور جب ذرا سا بھی گمان اور شبہہ ہوتا تو اس خوف سے ڈر جاتے کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہ باندھ دیں، کیونکہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھے صحیح حدیث کی روشنی میں اس پر جہنم کی وعید ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ:" كَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ إِذَا حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَفَرَغَ مِنْهُ قَالَ: أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے، اور اس سے فارغ ہوتے تو کہتے: «أو كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» ”یا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 24]
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: ”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان فرماتے، تو اس کو مکمل کرنے کے بعد فرماتے: «أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلی اللہ علیہ وسلم » ”یا جس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 24]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1469، ومصباح الزجاجة: 10)، وقد أخرجہ: دي المقدمة 28 (284) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گویا یہ کہہ کر وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ ہم نے تم سے جو یہ حدیث بیان کی ہے وہ روایت بالمعنی ہے، رہے الفاظ تو ہو سکتا ہے کہ ہو بہو یہی الفاظ رہے ہوں یا الفاظ کچھ بدلے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَر ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: قُلْنَا لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَبِرْنَا، وَنَسِينَا، وَالْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ".
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ہم نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کریں، تو وہ کہنے لگے: ہم بوڑھے ہو گئے ہیں، ہم پر نسیان غالب ہو گیا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرنا مشکل کام ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 25]
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنائیے، انہوں نے فرمایا: ”ہم بوڑھے ہو گئے ہیں اور بھولنے لگے ہیں جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرنا بہت مشکل کام ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 25]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3674، ومصباح الزجاجة: 11)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/370، 372) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ:" جَالَسْتُ ابْنَ عُمَرَ سَنَةً فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا".
عبداللہ بن ابی السفر کہتے ہیں کہ میں نے شعبی کو کہتے سنا: میں سال بھر ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مجلسوں میں رہا لیکن میں نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 26]
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں سال بھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں حاضر رہا، (اس دوران میں) میں نے انہیں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز بیان کرتے نہیں سنا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 26]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أخبار الآحاد 6 (7267)، صحیح مسلم/الصید 7 (1944)، (تحفة الأشراف: 7111)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/84، 137، 157) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 27
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" إِنَّمَا كُنَّا نَحْفَظُ الْحَدِيثَ، وَالْحَدِيثُ يُحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا إِذَا رَكِبْتُمُ الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ فَهَيْهَاتَ".
طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: ہم تو بس حدیثیں یاد کرتے تھے اور حدیث رسول تو یاد کی ہی جاتی ہے، لیکن جب تم مشکل اور آسان راستوں پر چلنے لگے تو ہم نے دوری اختیار کر لی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 27]
حضرت طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے فرمایا: ”ہم حدیثیں یاد کیا کرتے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں یاد کی جاتی تھیں، لیکن جب تم نے سخت اور نرم زمین پر چلنا شروع کر دیا تو (تم پر اعتماد) دور کی بات ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 27]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المقدمة 4 (20)، (تحفة الأشراف: 5717) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ کنایہ ہے افراط و تفریط سے، یعنی جب تم نقل میں افراط و تفریط سے کام لینے لگے اور احتیاط کا دامن چھوڑ دیا، تو ہم نے بھی احتیاط کی روش اختیار کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 28
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: بَعَثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى الْكُوفَةِ، وَشَيَّعَنَا فَمَشَى مَعَنَا إِلَى مَوْضِعٍ يُقَالُ لَهُ صِرَارٌ، فَقَالَ:" أَتَدْرُونَ لِمَ مَشَيْتُ مَعَكُمْ؟" قَالَ: قُلْنَا: لِحَقِّ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلِحَقِّ الْأَنْصَارِ، قَالَ: لَكِنِّي مَشَيْتُ مَعَكُمْ لِحَدِيثٍ أَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ تَحْفَظُوهُ لِمَمْشَايَ مَعَكُمْ، إِنَّكُمْ تَقْدَمُونَ عَلَى قَوْمٍ لِلْقُرْآنِ فِي صُدُورِهِمْ هَزِيزٌ كَهَزِيزِ الْمِرْجَلِ، فَإِذَا رَأَوْكُمْ مَدُّوا إِلَيْكُمْ أَعْنَاقَهُمْ، وَقَالُوا: أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ، فَأَقِلُّوا الرِّوَايَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا شَرِيكُكُمْ".
قرظہ بن کعب کہتے ہیں کہ ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کوفہ بھیجا، اور ہمیں رخصت کرنے کے لیے آپ ہمارے ساتھ مقام صرار تک چل کر آئے اور کہنے لگے: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیوں چل کر آیا ہوں؟ قرظہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے حق اور انصار کے حق کی ادائیگی کی خاطر آئے ہیں، کہا: نہیں، بلکہ میں تمہارے ساتھ ایک بات بیان کرنے کے لیے آیا ہوں، میں نے چاہا کہ میرے ساتھ آنے کی وجہ سے تم اسے یاد رکھو گے: ”تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جن کے سینوں میں قرآن ہانڈی کی طرح جوش مارتا ہو گا، جب وہ تم کو دیکھیں گے تو (مارے شوق کے) اپنی گردنیں تمہاری طرف لمبی کریں گے ۱؎، اور کہیں گے: یہ اصحاب محمد ہیں، تم ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں کم بیان کرنا، جاؤ میں بھی تمہارا شریک ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 28]
حضرت قرظہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں کوفہ روانہ فرمایا اور ہمیں رخصت کیا۔ (اس موقع پر) آپ ہمارے ساتھ چلتے چلتے مقام «صِرَارٍ» تک پہنچ گئے، تب فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں کیوں تمہارے ساتھ چل کر آیا ہوں؟“ ہم نے عرض کیا: ”(ہمارے) اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کا حق سمجھتے ہوئے اور انصار کے حق (کی ادائیگی) کے خیال سے۔“ فرمایا: ”بلکہ میں تو اس لیے تمہارے ساتھ چل کر آیا ہوں کہ میں تم سے ایک بات کہنا چاہتا تھا۔ میں نے چاہا کہ میرے اس چلنے کی وجہ سے تم اسے یاد رکھو۔ (تاکہ تمہیں یاد رہے کہ یہ وہ اہم نصیحت ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے اتنی دور ہمارے ساتھ آکر ہمیں کی تھی۔) تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جن کے سینے قرآن کی وجہ سے اس طرح جوش مار رہے ہیں جس طرح ہنڈیا ابلتی ہے، جب وہ تمہیں دیکھیں گے تو گردنیں اٹھا کر تمہاری طرف متوجہ ہوں گے اور کہیں گے: ”یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔“ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں کم بیان کرنا، (جب تم اس پر عمل کرو گے تو) پھر میں بھی (اجر میں) تمہارا شریک ہوں گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 28]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10625، ومصباح الزجاجة: 12)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة 28 (687) (صحیح) (اس کی سند میں مجالد بن سعید ضعیف ہیں، لیکن حاکم کی سند کی متابعت سے یہ صحیح ہے، حاکم نے اس کو اپنی مستدرک میں صحیح الإسناد کہا ہے، اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے)»
وضاحت: ۱؎: تاکہ وہ تمہاری باتیں سن سکیں اور تم سے استفادہ کر سکیں۔ اس سے مراد احادیث کے بیان کرنے میں احتیاط کو ملحوظ رکھنے کی طرف توجہ مبذول کرانا تھا، اور یہ ایسی بات ہے جس کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ گویا اس سے اصل مقصد احادیث کو تحقیق کے ساتھ بیان کرنے کی اہمیت کو بیان کرنا تھا تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط نسبت نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مجالد: ضعيف
وتابعه بيان في رواية سفيان بن عيينة (المستدرك 1/ 102) ولكن سفيان بن عيينة لم يصرح بالسماع وھو مدلس و روي الدارمي (285) عن قرظة بن كعب: ’’ أن عمر رضي اللّٰه عنه شيع الأنصار حين خرجوا من المدينة فقال: أتدرون لم شيعتكم ؟ قلنا: لحق الأنصار قال: إنكم تأتون قومًا تھتز ألسنتھم بالقرآن اھتزاز النخل،فلا تصدوھم بالحديث عن رسول اللّٰه ﷺ و أنا شريككم
قال: ’’فما حدثت بشئ و قد سمعت كما سمع أصحابي ‘‘ و سنده حسن وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 375
إسناده ضعيف
مجالد: ضعيف
وتابعه بيان في رواية سفيان بن عيينة (المستدرك 1/ 102) ولكن سفيان بن عيينة لم يصرح بالسماع وھو مدلس و روي الدارمي (285) عن قرظة بن كعب: ’’ أن عمر رضي اللّٰه عنه شيع الأنصار حين خرجوا من المدينة فقال: أتدرون لم شيعتكم ؟ قلنا: لحق الأنصار قال: إنكم تأتون قومًا تھتز ألسنتھم بالقرآن اھتزاز النخل،فلا تصدوھم بالحديث عن رسول اللّٰه ﷺ و أنا شريككم
قال: ’’فما حدثت بشئ و قد سمعت كما سمع أصحابي ‘‘ و سنده حسن وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 375
حدیث نمبر: 29
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ:" صَحِبْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ وَاحِدٍ".
سائب بن یزید کہتے ہیں کہ میں سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ تک گیا، لیکن راستے بھر میں نے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بھی بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 29]
حضرت سائب بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کا ہم سفر رہا۔ (پورے سفر میں) میں نے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بھی روایت کرتے نہیں سنا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 29]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3855، ومصباح الزجاجة: 13)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد والسیر 26 (2824)، سنن الدارمی/المقدمة 28 (286) (صحیح)»
وضاحت: اس کی وجہ وہی احتیاط ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عادت تھی، تاہم وہ لوگوں کو مسائل بیان فرماتے اور ان کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے اور یہ سب کچھ احادیث ہی سے ماخوذ ہوتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح