🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : التوقي في الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں احتیاط۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" إِنَّمَا كُنَّا نَحْفَظُ الْحَدِيثَ، وَالْحَدِيثُ يُحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا إِذَا رَكِبْتُمُ الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ فَهَيْهَاتَ".
طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: ہم تو بس حدیثیں یاد کرتے تھے اور حدیث رسول تو یاد کی ہی جاتی ہے، لیکن جب تم مشکل اور آسان راستوں پر چلنے لگے تو ہم نے دوری اختیار کر لی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 27]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المقدمة 4 (20)، (تحفة الأشراف: 5717) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ کنایہ ہے افراط و تفریط سے، یعنی جب تم نقل میں افراط و تفریط سے کام لینے لگے اور احتیاط کا دامن چھوڑ دیا، تو ہم نے بھی احتیاط کی روش اختیار کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن
Newطاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام فاضل
👤←👥عبد الله بن طاوس اليماني، أبو محمد
Newعبد الله بن طاوس اليماني ← طاوس بن كيسان اليماني
ثقة
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← عبد الله بن طاوس اليماني
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥العباس بن عبد العظيم العنبري، أبو الفضل
Newالعباس بن عبد العظيم العنبري ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 27 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث27
اردو حاشہ:
(1)
احادیث نبویہ شرعی حجت ہیں، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پوری کوشش اور تندہی سے حدیثیں سنتے اور یاد کرتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بچپن کی عمر سے گزر رہے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت کم حدیثیں سن سکے، البتہ بعد میں کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے بہت سی حدیثیں سن سن کر یاد کیں، حتی کہ ان کا شمار کثیر الروایت صحابہ کرام میں ہونے لگا۔

(2)
اصل دلیل صرف فرمان نبوی ہے، دوسرے حضرات کے فتووں کا وہ مقام نہیں ہو سکتا، اس لیے ہر مسئلہ میں قرآن و حدیث سے دلیل تلاش کرنا ضروری ہے۔

(3)
صحابہ و تابعین کے اقوال سے وہاں کام لیا جا سکتا ہے جہاں حدیث نبوی نہ ملے۔
اس لیے تابعین صحابہ کرام ؓ  کے اقوال بھی لکھ لیتے تھے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس عمل کو مناسب نہیں سمجھا کہ حدیث نبوی کے ساتھ دوسروں کے اقوال لکھے جائیں، اس لیے توجہ دلائی کہ حدیثیں یاد کرو، اقوال اور فتوے نہیں۔

(4)
سخت اور نرم زمین پر چلنے کا مطلب ہے کہ تم قابل قبول اور ناقابل قبول روایات میں امتیاز نہیں کرتے۔ (الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ)
کا ایک ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے:
تم نے اڑیل اور مطیع جانوروں پر سواری کرنا شروع کر دی۔
حالانکہ اڑیل جانور سے پرہیز کرنا چاہیے۔
اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہر راوی سے روایت نہ لی جائے بلکہ صرف قابل اعتماد اور ثقہ حضرات کی روایت قبول کیا جائے تاکہ دانستہ طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی ایسی بات منسوب نہ ہو جائے جو آپ نے فرمائی ہی نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 27]

Sunan Ibn Majah Hadith 27 in Urdu