سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
91. بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً
باب: تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) ایک بار۔
حدیث نمبر: 569
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ" إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ".
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہا کہ میں جنبی ہو گیا اور پانی نہیں پایا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نماز نہ پڑھو، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میں اور آپ ایک لشکر میں تھے، ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہ مل سکا تو آپ نے نماز نہیں پڑھی، اور میں مٹی میں لوٹا، اور نماز پڑھ لی، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: ”تمہارے لیے بس اتنا کافی تھا“، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان دونوں میں پھونک ماری، اور اپنے چہرے اور دونوں پہنچوں پر اسے مل لیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 569]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ”اگر مجھے جنابت کی حالت پیش آ جائے اور پانی نہ ملے (تو کیا کروں؟)“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نماز نہ پڑھ (جب پانی ملے گا تو غسل کر کے قضا نماز پڑھنا۔)“ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ دونوں ایک لشکر میں تھے؟ ہمیں غسل کی حاجت پیش آئی اور پانی نہ ملا (اس وقت بھی) آپ نے تو نماز نہیں پڑھی تھی، میں نے زمین پر لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی تھی۔ پھر جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو یہ واقعہ عرض کیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے تو اتنا ہی کافی تھا۔“ اور (یہ کہہ کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان میں پھونک ماری اور چہرے اور دونوں ہتھیلیوں پر مسح کیا۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 569]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التیمم 4 (338)، 5 (339)، صحیح مسلم/الحیض 28 (368)، سنن ابی داود/الطہارة 123 (322، 323)، سنن الترمذی/الطہارة 110 (144)، سنن النسائی/الطہارة 196 (313)، 199 (317)، 200 (318)، 201 (319)، 202 (320)، (تحفة الأشراف: 10362)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/263، 265، 319، 320، سنن الدارمی/الطہارة 66 (772) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تیمم یہی ہے کہ زمین پر ایک بار ہاتھ مار کر منہ اور دونوں پہنچوں پر مسح کرے، اور جنابت سے پاکی کا طریقہ حدث کے تیمم کی طرح ہے، اور عمر رضی اللہ عنہ کو باوصف اتنے علم کے اس مسئلہ کی خبر نہ تھی، اسی طرح عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو، یہ دونوں جلیل القدر صحابہ جنبی کے لئے تیمم جائز نہیں سمجھتے تھے، اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ کبھی بڑے عالم دین پر معمولی مسائل پوشیدہ رہ جاتے ہیں، ان دونوں کے تبحر علمی اور جلالت شان میں کسی کو کلام نہیں ہے، لیکن حدیث اور قرآن کے خلاف ان کا قول بھی ناقابل قبول ہے، پھر کتاب و سنت کے دلائل کے سامنے دوسرے علماء کے اقوال کی کیا حیثیت ہے، اس قصہ سے معلوم ہوا کہ ہمیں صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے مطلب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 570
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، أَنَّهُمَا سَأَلا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنِ التَّيَمُّمِ؟ فَقَالَ:" أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّارًا أَنْ يَفْعَلَ هَكَذَا وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَضَهُمَا وَمَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ"، قَالَ الْحَكَمُ: وَيَدَيْهِ، وَقَالَ سَلَمَةُ: وَمِرْفَقَيْهِ.
حکم اور سلمہ بن کہیل نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے تیمم کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا، پھر عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، اور انہیں جھاڑ کر اپنے چہرے پر مل لیا۔ حکم کی روایت میں «يديه» اور سلمہ کی روایت میں «مرفقيه» کا لفظ ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 570]
جناب حکم رحمہ اللہ اور سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ سے تیمم کا مسئلہ دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا تھا۔“ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر انہیں جھاڑا اور انہیں اپنے چہرے پر پھیر لیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5160، ومصباح الزجاجة: 230) (صحیح)» (سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف الحفظ ہیں، اصل حدیث شواہد و طرق سے ثابت ہے لیکن «مرفقیہ» کا لفظ منکر ہے)
وضاحت: ۱؎: «يديه» یعنی دونوں ہاتھوں پر مل لیا، اور سلمہ بن کہیل کی روایت میں «مرفقيه» یعنی کہنیوں تک مل لیا کا لفظ ہے، جو منکر اور ضعیف ہے، جیسا کہ تخریج سے پتہ چلا «مرفقيه» کا لفظ منکر ہے، لہذا اس سے استدلال درست نہیں، اور یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ کہنیوں تک مسح کرنے میں احتیاط ہے بلکہ احتیاط اسی میں ہے جو صحیح حدیث میں آیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون رواية مرفقيه فإنها منكرة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد ابن أبي ليلي: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
إسناده ضعيف
محمد ابن أبي ليلي: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399