سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
91. بَابُ : مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً
باب: تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) ایک بار۔
حدیث نمبر: 570
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، أَنَّهُمَا سَأَلا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنِ التَّيَمُّمِ؟ فَقَالَ:" أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّارًا أَنْ يَفْعَلَ هَكَذَا وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَضَهُمَا وَمَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ"، قَالَ الْحَكَمُ: وَيَدَيْهِ، وَقَالَ سَلَمَةُ: وَمِرْفَقَيْهِ.
حکم اور سلمہ بن کہیل نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے تیمم کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا، پھر عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، اور انہیں جھاڑ کر اپنے چہرے پر مل لیا۔ حکم کی روایت میں «يديه» اور سلمہ کی روایت میں «مرفقيه» کا لفظ ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 570]
جناب حکم رحمہ اللہ اور سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ سے تیمم کا مسئلہ دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا تھا۔“ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر انہیں جھاڑا اور انہیں اپنے چہرے پر پھیر لیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5160، ومصباح الزجاجة: 230) (صحیح)» (سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف الحفظ ہیں، اصل حدیث شواہد و طرق سے ثابت ہے لیکن «مرفقیہ» کا لفظ منکر ہے)
وضاحت: ۱؎: «يديه» یعنی دونوں ہاتھوں پر مل لیا، اور سلمہ بن کہیل کی روایت میں «مرفقيه» یعنی کہنیوں تک مل لیا کا لفظ ہے، جو منکر اور ضعیف ہے، جیسا کہ تخریج سے پتہ چلا «مرفقيه» کا لفظ منکر ہے، لہذا اس سے استدلال درست نہیں، اور یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ کہنیوں تک مسح کرنے میں احتیاط ہے بلکہ احتیاط اسی میں ہے جو صحیح حدیث میں آیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون رواية مرفقيه فإنها منكرة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد ابن أبي ليلي: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
إسناده ضعيف
محمد ابن أبي ليلي: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
570
| ضرب بيديه إلى الأرض ثم نفضهما ومسح على وجهه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 570 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث570
اردو حاشہ:
مطلب یہ ہے کہ ایک راوی (حکم)
نے کہا:
چہرے پر ہاتھ پھیرنے کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں کو مل لیا (اور یہی بات صحیح ہے)
اور دوسرے راوی (سلمہ)
نے کہا کہ پھر اپنے ہاتھوں کو کہنیوں پر پھیر لیا۔
یہ بات ثقہ راویوں کی روایت کے خلاف ہے۔
غالباً اسی وجہ سے دوسرے راوی کے الفاظ:
اپنی کہنیوں پر پھیرلیا کو بعض محققین نے منکر قراردیا ہےاور باقی روایت کو صحیح قراردیا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ ایک راوی (حکم)
نے کہا:
چہرے پر ہاتھ پھیرنے کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں کو مل لیا (اور یہی بات صحیح ہے)
اور دوسرے راوی (سلمہ)
نے کہا کہ پھر اپنے ہاتھوں کو کہنیوں پر پھیر لیا۔
یہ بات ثقہ راویوں کی روایت کے خلاف ہے۔
غالباً اسی وجہ سے دوسرے راوی کے الفاظ:
اپنی کہنیوں پر پھیرلیا کو بعض محققین نے منکر قراردیا ہےاور باقی روایت کو صحیح قراردیا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 570]
Sunan Ibn Majah Hadith 570 in Urdu
سلمة بن كهيل الحضرمي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي