🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

177. . بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ نَامَ عَنْ جُزْئِهِ مِنَ اللَّيْلِ
باب: جو کوئی رات کا مقررہ وظیفہ یا ورد پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1343
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا پورا وظیفہ (ورد) یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ کر سو جائے، اور اسے فجر و ظہر کے درمیان پڑھ لے، تو اس کو ایسا لکھا جائے گا گویا اس نے رات میں پڑھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1343]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا وظیفہ (تلاوت یا اذکار کا مقررہ معمول) یا وظیفے کا کچھ حصہ نیند کی وجہ سے نہ پڑھ سکا، پھر اس نے وہ (چھوٹا ہوا حصہ) فجر اور ظہر کے درمیان (کسی وقت) پڑھ لیا، تو اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھا جائے گا، گویا اس نے وہ رات ہی کو پڑھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 18 (747)، سنن ابی داود/الصلاة 309 (1313)، سنن الترمذی/الصلاة 291 (الجمعة56) (851)، سنن النسائی/قیام اللیل56 (1791، 1792، 1793)، (تحفة الأشراف: 10592)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 3 (3)، مسند احمد (1/32، 53)، سنن الدارمی/الصلاة 167 (1518) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1344
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ حَتَّى يُصْبِحَ، كُتِبَ لَهُ مَا نَوَى وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے بستر پہ آئے، اور ارادہ رکھتا ہو کہ رات میں اٹھ کر نماز پڑھے گا، پھر اسے ایسی نیند آئی کہ صبح ہو گئی، تو اس کا ثواب اس کی نیت کے مطابق لکھا جائے گا، اور اس کا سونا اس کے رب کی طرف سے اس پر صدقہ ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1344]
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے بستر پر (سونے کے لیے) آتا ہے اور اس کی نیت ہوتی ہے کہ وہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھے گا، پھر اس پر صبح تک نیند غالب آجاتی ہے، اس کے لیے اس کی نیت کے مطابق (پورا ثواب) لکھا جائے گا اور اس کی نیند اس کے رب کی طرف سے اس پر صدقہ ہوگی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1344]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/قیام اللیل 54 (1788)، (تحفة الأشراف: 10937) (صحیح)» ‏‏‏‏ (ملاحظہ ہو: الإرواء: 454)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں