سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
192. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ وَالسَّجْدَةِ عِنْدَ الشُّكْرِ
باب: شکرانہ کی نماز اور سجدہ شکر کا بیان۔
حدیث نمبر: 1391
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ ، حَدَّثَتْنِي شَعْثَاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى يَوْمَ بُشِّرَ بِرَأْسِ أَبِي جَهْلٍ رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوجہل کا سر لائے جانے کی بشارت سنائی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1391]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوجہل کا سر کاٹے جانے کی خوشخبری دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1391]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 5186، ومصباح الزجاجة: 489)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 158 (1503) (ضعیف)» (شعثاء بنت عبد اللہ الاسدیہ مجہول اور سلمہ بن رجاء میں کلام ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شعثاء: لا تعرف (تقريب: 8616)
وللحديث شاهد ضعيف مرسل عند البيهقي،انظر السيرة النبوية لابن كثير (444/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
إسناده ضعيف
شعثاء: لا تعرف (تقريب: 8616)
وللحديث شاهد ضعيف مرسل عند البيهقي،انظر السيرة النبوية لابن كثير (444/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
حدیث نمبر: 1392
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا أَبِي ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدَةَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بُشِّرَ بِحَاجَةٍ، فَخَرَّ سَاجِدًا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کام کے پورے ہو جانے کی بشارت سنائی گئی تو آپ سجدے میں گر پڑے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1392]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کام ہو جانے کی خوش خبری دی گئی تو آپ سجدے میں گر پڑے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1120، ومصباح الزجاجة: 490) (حسن)» (اس کی سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ انسان کو جب کوئی خوشی پہنچے تو وہ سجدہ شکر کرے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی پہنچی تو آپ نے سجدہ شکر کیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 1393
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، خَرَّ سَاجِدًا".
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی تو وہ سجدے میں گر پڑے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1393]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی تو وہ سجدے میں گر پڑے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1393]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11155، ومصباح الزجاجة: 491) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خوشی کے موقع پر یا کسی مصیبت کے ٹلنے پر سجدہ شکر ادا کرنا جائز اور صحیح ہے، واضح رہے کہ کعب بن مالک، ہلال بن أمیہ، مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہم یہ تینوں غزوہ تبوک میں حاضر نہ ہو سکے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ سے لوٹے تو یہ لوگ بہت شرمندہ ہوئے، اپنے قصور کا اعتراف کیا، ان کا قصہ بہت طویل ہے جو دوسری روایات میں موجود ہے، آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اور کعب رضی اللہ عنہ نے یہ خبر سنتے ہی سجدہ شکر ادا کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1394
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا أَتَاهُ أَمْرٌ يَسُرُّهُ أَوْ بُشِّرَ بِهِ، خَرَّ سَاجِدًا شُكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ایسا معاملہ آتا جس سے آپ خوش ہوتے، یا وہ خوش کن معاملہ ہوتا، تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1394]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشی والا معاملہ پیش آتا تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ ریز ہو جاتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1394]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 174 (2774)، سنن الترمذی/السیر 25 (1578)، (تحفة الأشراف: 11698)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/2، 8، 9، 10) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن