سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
196. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ فِي مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ
باب: بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1407
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَخِيهِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ:" أَرْضُ الْمَحْشَرِ وَالْمَنْشَرِ، ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاةً فِيهِ كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ"، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَتَحَمَّلَ إِلَيْهِ، قَالَ:" فَتُهْدِي لَهُ زَيْتًا يُسْرَجُ فِيهِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَهُوَ كَمَنْ أَتَاهُ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! ہم کو بیت المقدس کا مسئلہ بتائیے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو حشر و نشر کی زمین ہے، وہاں جاؤ اور نماز پڑھو، اس لیے کہ اس میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز کی طرح ہے“ میں نے عرض کیا: اگر وہاں تک جانے کی طاقت نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم تیل بھیج دو جسے وہاں کے چراغوں میں جلایا جائے، جس نے ایسا کیا گویا وہ وہاں گیا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1407]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ خاتون حضرت میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہمیں بیت المقدس کے بارے میں بتائیے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ حشر و نشر کی سرزمین ہے، وہاں جایا کرو اور اس میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ اس میں ایک نماز پڑھنا دوسری جگہوں کی ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے۔“ میں نے عرض کیا: یہ بتائیے کہ اگر میں وہاں جانے کی طاقت نہ رکھتی ہوں (تو کیا کروں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے لیے تیل کا ہدیہ بھیجو تاکہ اس کے چراغ روشن کیے جائیں، جس نے یہ کام کیا وہ بھی ایسے ہی ہے جیسے وہ شخص جو (زیارت کے لیے) وہاں گیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 14 (457)، (تحفة الأشراف: 18087، ومصباح الزجاجة: 497)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/463) (منکر)» (بوصیری نے کہا کہ بعض حدیث کو ابوداود نے روایت کیا ہے، شیخ البانی نے اس حدیث کو پہلے (صحیح ابو داود 68) میں رکھا تھا، بعد میں اسے ضعیف ابی داود میں رکھ دیا، ابوداود کی روایت میں بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا ذکر نہیں ہے، وجہ نکارت یہ ہے کہ زیتون کا تیل فلسطین میں ہوتا ہے، حجاز سے اسے بیت المقدس بھیجنے کا کیا مطلب ہے؟ نیز صحیح احادیث میں مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب ہزار نمازوں ہے، جب کہ بیت المقدس کے بارے میں یہ ثواب صحاح میں نہیں وارد ہوا ہے)
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
سنن أبي داود (457)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
ضعيف
سنن أبي داود (457)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
حدیث نمبر: 1408
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ الْأَنْمَاطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ السَّيْبَانِيِّ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَمَّا فَرَغَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ مِنْ بِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، سَأَلَ اللَّهَ ثَلَاثًا: حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ، وَمُلْكًا لَا يَنْبَغِي لَأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ، وَأَلَّا يَأْتِيَ هَذَا الْمَسْجِدَ أَحَدٌ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِيهِ إِلَّا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ"، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا اثْنَتَانِ فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا، وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سلیمان بن داود علیہما السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں، ایک تو یہ کہ میں مقدمات میں جو فیصلہ کروں، وہ تیرے فیصلے کے مطابق ہو، دوسرے مجھ کو ایسی حکومت دے کہ میرے بعد پھر ویسی حکومت کسی کو نہ ملے، تیسرے یہ کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز ہی کے ارادے سے آئے وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو جائے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو باتیں تو اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائیں، مجھے امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں عطا کی گئی ہو گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1408]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ سے تین چیزیں مانگیں، ایسا فیصلہ جو اللہ کے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسی بادشاہت جو ان کے بعد کسی کے شایان نہ ہو اور جو شخص بھی اس مسجد میں صرف نماز کی نیت سے آئے وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جائے جس طرح اس دن (گناہوں سے پاک) تھا جب اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو چیزیں تو انہیں مل چکیں اور مجھے امید ہے کہ تیسری بھی مل ہی گئی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/المساجد 6 (694)، (تحفة الأشراف: 8844، ومصباح الزجاجة: 497)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/176) (صحیح)» (دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عبید اللہ بن الجہم مجہول الحال ہیں، اور ایوب بن سوید بالاتفاق ضعیف، بوصیری نے ذکر کیا ہے کہ بعض حدیث کو ابوداود نے ابن عمرو کی حدیث سے روایت کیا ہے، ایسے ہی نسائی نے سنن صغری میں روایت کی ہے)، یہ حدیث ابوداود میں ہمیں نہیں ملی، اور ایسے ہی مصباح الزجاجة کے محقق د.شہری کو بھی نہیں ملی (502) نیز نسائی نے کتاب المساجد باب فضل المسجد الأقصی (1؍8) میں اور احمد نے مسند میں (2؍176) تخریج کیا ہے ابن خزیمہ (2؍176) اور ابن حبان (1042 مواردہ) اور حاکم (1؍20؍21) نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے)
وضاحت: ۱؎: سلیمان علیہ السلام کا حکم ہونا اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: «ففهمناها سليمان وكلا آتينا حكما وعلما» (سورة الأنبياء: 79)، «فسخرنا له الريح تجري بأمره رخاء حيث أصاب» (سورة ص: 36) نیز ہوا پر اور جن و انس پر اور چرند و پرند سب پر ان کی حکومت تھی، جیسا کہ اس آیت میں موجود ہے: «والشياطين كل بناء وغواص» (سورة ص: 37) اور تیسری بات کی صراحت چونکہ قرآن میں نہیں ہے اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں فرمایا ”مجھے امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں عطا کی گئی ہو گی“۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1409
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین مساجد: مسجد الحرام، میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) اور مسجد الاقصیٰ کے علاوہ کسی اور مسجد کی جانب (ثواب کی نیت سے) سفر نہ کیا جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1409]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کجاوے کس کر صرف تین مسجدوں کی طرف سفر کیا جا سکتا ہے۔ مسجد حرام، میری یہ مسجد (مسجد نبوی) اور مسجد اقصیٰ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 95 (1397)، (تحفة الأشراف: 13283)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل الصلاة 1 (1189)، سنن ابی داود/الحج 98 (2033)، سنن النسائی/المساجد 10 (701)، موطا امام مالک/الجمعة 7 (16)، مسند احمد (2/234، 238، 278، 501)، سنن الدارمی/الصلاة 132 (1461) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1410
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَإِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى، وَإِلَى مَسْجِدِي هَذَا".
ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین مساجد: مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ اور میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف (ثواب کی نیت سے) سفر نہ کیا جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1410]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کجاوے کس کر سفر نہ کیا جائے مگر تین مسجدوں کی طرف: مسجد حرام کی طرف، مسجد اقصیٰ کی طرف اور میری اس مسجد کی طرف۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث أبي سعید الخدري أخرجہ: صحیح البخاری/فضل الصلاة في مکة والمدینة 6 (1188، 1189)، صحیح مسلم/المناسک 74 (827)، سنن الترمذی/الصلاة 127 (326)، (تحفة الأشراف: 4279)، وحدیث عبد اللہ بن عمر و بن العاص قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8913)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/7، 34، 45، 51، 59، 62، 71، 77) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم