🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
196. . باب : ما جاء في الصلاة في مسجد بيت المقدس
باب: بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1410
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَإِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى، وَإِلَى مَسْجِدِي هَذَا".
ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین مساجد: مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ اور میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف (ثواب کی نیت سے) سفر نہ کیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1410]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کجاوے کس کر سفر نہ کیا جائے مگر تین مسجدوں کی طرف: مسجد حرام کی طرف، مسجد اقصیٰ کی طرف اور میری اس مسجد کی طرف۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏حدیث أبي سعید الخدري أخرجہ: صحیح البخاری/فضل الصلاة في مکة والمدینة 6 (1188، 1189)، صحیح مسلم/المناسک 74 (827)، سنن الترمذی/الصلاة 127 (326)، (تحفة الأشراف: 4279)، وحدیث عبد اللہ بن عمر و بن العاص قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8913)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/7، 34، 45، 51، 59، 62، 71، 77) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد
Newأبو سعيد الخدري ← عبد الله بن عمرو السهمي
صحابي
👤←👥قزعة بن يحيى البصري، أبو الغادية
Newقزعة بن يحيى البصري ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥يزيد بن أبي مريم الأنصاري، أبو عبد الله
Newيزيد بن أبي مريم الأنصاري ← قزعة بن يحيى البصري
ثقة
👤←👥محمد بن شعيب القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن شعيب القرشي ← يزيد بن أبي مريم الأنصاري
ثقة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← محمد بن شعيب القرشي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1410
لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد إلى المسجد الحرام المسجد الأقصى مسجدي هذا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1410 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1410
اردو حاشہ:
فائدہ:
زیارت کے لئے سفر صرف ان تین مساجد کی طرف جائز ہے۔
اس کے علاوہ کسی جائز مقصد کےلئے سفر کرکے کسی بھی مقام پرجانا جائز ہے۔
مثلاً حصول علم کےلئے جہاد کے لئے علماء وصلحاء سے ملاقات کےلئے اقارب اور احسباب سےملاقات کے لئے یا تجارت اور ملازمت کےلئے اسی طرح جو شخص مدینہ میں موجود ہے۔
تو وہ مسجد قباء میں جائے تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ یہ سفر نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1410]

Sunan Ibn Majah Hadith 1410 in Urdu