سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
197. . باب : ما جاء في الصلاة في مسجد قباء
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1411
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَبْرَدِ مَوْلَى بَنِي خَطْمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ كَعُمْرَةٍ".
اسید بن ظہیر انصاری رضی اللہ عنہ (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد قباء میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 126 (324)، (تحفة الأشراف: 155) (صحیح)»
وضاحت: : ۱؎ مسجد قباء: ایک مشہور مسجد ہے، جو مسجد نبوی سے تھوڑے سے فاصلہ پر واقع ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے، تو سب سے پہلے اس مسجد کی بنیاد رکھی، اور مسلسل چار دن تک اسی مسجد میں نماز پڑھتے رہے، اور مسجد نبوی کے بننے کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء تشریف لے جاتے، اور وہاں نماز پڑھتے، نیز قرآن کریم میں اس کے متعلق یوں مذکور ہے: «لمسجد أسس على التقوى من أول يوم أحق أن تقوم فيه» ”جو مسجد (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آمد کے وقت) اوّل روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں عبادت کے لیے کھڑے ہوں“ (سورة التوبة: 108)، اور متعدد احادیث میں اس کی فضیلت آئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
324
| الصلاة في مسجد قباء كعمرة |
سنن ابن ماجه |
1411
| صلاة في مسجد قباء كعمرة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1411 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1411
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد قباء وہ مسجد ہے۔
جو ہجرت کے بعد سب سے پہلے تعمیر ہوئی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے پہنچنے سے پہلے چند روزقباء میں تشریف فرما رہے اوروہاں مسجد کی بنیاد رکھی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہفتے میں ایک بار وہاں جا کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ (صحیح بخاري، فضل الصلاۃ فی مسجد مکة والمدینة، باب من اتی مسجد قباء کل سبت، حدیث: 1193)
(2)
مدینہ میں قیام کے دوران میں مسجد قباء کی زیارت کے لئے جانا چاہیے۔
تاکہ عمرے کا ثواب حاصل ہو۔
اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا ثواب مل جائے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد قباء وہ مسجد ہے۔
جو ہجرت کے بعد سب سے پہلے تعمیر ہوئی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے پہنچنے سے پہلے چند روزقباء میں تشریف فرما رہے اوروہاں مسجد کی بنیاد رکھی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہفتے میں ایک بار وہاں جا کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ (صحیح بخاري، فضل الصلاۃ فی مسجد مکة والمدینة، باب من اتی مسجد قباء کل سبت، حدیث: 1193)
(2)
مدینہ میں قیام کے دوران میں مسجد قباء کی زیارت کے لئے جانا چاہیے۔
تاکہ عمرے کا ثواب حاصل ہو۔
اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا ثواب مل جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1411]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 324
مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان۔
اسید بن ظہیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد قباء میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 324]
اسید بن ظہیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد قباء میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 324]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی مسجد قباء میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے ثواب کے برابر ہے۔
1؎:
یعنی مسجد قباء میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے ثواب کے برابر ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 324]
موسى بن سليم المدني ← أسيد بن ظهير الأنصاري