🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَلْقِينِ الْمَيِّتِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ
باب: جان نکلنے کے وقت میت کو «لا الہ الا اللہ» کی تلقین کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1444
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو «لا إله إلا الله»  کی تلقین کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجنائز 1 (917)، (تحفة الأشراف: 13448) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مردوں سے مراد وہ بیمار ہیں جو مرنے کے بالکل قریب ہوں۔ ۲؎:تلقین سے مراد تذکیر ہے یعنی ان کے پاس پڑھ کر انہیں اس کی یاد دہانی کرائی جائے تاکہ سن کر وہ بھی پڑھنے لگیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1445
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو (جو مرنے کے قریب ہوں) «لا إله إلا الله»  کی تلقین کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجنائز 1 (916)، سنن ابی داود/الجنائز 20 (3117)، سنن الترمذی/الجنائز 7 (976)، سنن النسائی/الجنائز 4 (1827)، (تحفة الأشراف: 4403)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/3) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1446
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ لِلْأَحْيَاءِ؟، قَالَ:" أَجْوَدُ وَأَجْوَدُ".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں (جو لوگ مرنے کے قریب ہوں) کو یہ کہنے کی تلقین کرو: «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين»  کی تلقین کرو (ترجمہ) اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، جو حلیم و کریم والا ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے جو عرش عظیم کا رب ہے، تمام حمد و ثنا اللہ تعالیٰ کو لائق و زیبا ہے جو سارے جہاں کا رب ہے لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دعا زندوں کے لیے کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت بہتر ہے، بہت بہتر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5213، ومصباح الزجاجة: 512) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں اسحاق بن عبد اللہ مجہول الحال ہیں، ویسے حدیث کا یہ جملہ «لقنوا موتاكم» صحیح ہے، جیسا کہ اس سے پہلے والی حدیثوں میں گزرا ہے، ملاحظہ ہو: 4317)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسحاق بن عبد اللّٰه بن جعفر: مستور (تقريب: 464)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں