سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ: مَا أُدِّيَ زَكَاتُهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ
باب: زکاۃ ادا کیا ہوا مال کنز (خزانہ) نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1787
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَلَحِقَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ لَهُ: قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة التوبة آية 34، قَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : مَنْ كَنَزَهَا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا فَوَيْلٌ لَهُ، إِنَّمَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا أُنْزِلَتْ جَعَلَهَا اللَّهُ طَهُورًا لِلْأَمْوَالِ، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَقَالَ:" مَا أُبَالِي لَوْ كَانَ لِي أُحُدٌ ذَهَبًا أَعْلَمُ عَدَدَهُ وَأُزَكِّيهِ، وَأَعْمَلُ فِيهِ بِطَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام خالد بن اسلم کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ جا رہا تھا کہ ان سے ایک اعرابی (دیہاتی) ملا، اور آیت کریمہ: «والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله» (سورة التوبة: 34) ”جو لوگ سونے اور چاندی کو خزانہ بنا کر رکھتے ہیں، اور اسے اللہ کی راہ میں صرف نہیں کرتے“ کے متعلق ان سے پوچھنے لگا کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جس نے اسے خزانہ بنا کر رکھا، اور اس کی زکاۃ ادا نہیں کی، تو اس کے لیے ہلاکت ہے، یہ آیت زکاۃ کا حکم اترنے سے پہلے کی ہے، پھر جب زکاۃ کا حکم اترا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مالوں کی پاکی کا ذریعہ بنا دیا، پھر وہ دوسری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو جس کی تعداد مجھے معلوم ہو، اور اس کی زکاۃ ادا کرتا رہوں، اور اللہ کے حکم کے مطابق اس کو استعمال کرتا رہوں، تو مجھے کوئی پروا نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1787]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت خالد بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ باہر گیا۔ انہیں ایک بدو ملا، اس نے کہا: ”اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [سورة التوبة: 34] ”جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے...“ (اس آیت کا کیا مطلب ہے)؟“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے کہا: ”جس نے اسے جمع کیا اور اس کی زکاۃ ادا نہ کی اس کے لیے تباہی ہے۔ یہ حکم زکاۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے تھا، جب زکاۃ کا حکم نازل ہو گیا تو اللہ نے اسے مالوں کی پاکیزگی کا ذریعہ بنا دیا۔“ پھر متوجہ ہو کر فرمایا: ”مجھے پرواہ نہیں کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو جس کی تعداد (اور مقدار) کا مجھے علم ہو اور اس کی زکاۃ ادا کروں اور اس سے اللہ کی فرماں برداری والے کام انجام دوں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1787]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6711، ومصباح الزجاجة: 639)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 4 (1404 تعلیقاً)، التفسیر (4661تعلیقاً) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بہت مالدار آدمی تھے، اس اعرابی (دیہاتی) نے ان سے کچھ مانگا ہو گا، انہوں نے نہ دیا ہو گا تو یہ آیت ان کو شرمندہ کرنے کے لئے پڑھی، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی تفسیر بیان کی کہ یہ آیت اس وقت کی ہے جب زکاۃ کا حکم نہیں اترا تھا، اور مطلق مال کا حاصل کرنا اور اس سے محفوظ رکھنا منع تھا، اس کے بعد زکاۃ کا حکم اترا، اب جس مال حلال میں سے زکاۃ دی جائے وہ کنز (خزانہ) نہیں ہے، اگرچہ لاکھوں کروڑوں روپیہ ہو، بلکہ مال حلال اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔ اور انسان جو عبادتیں مالداری کی حالت میں کر سکتا ہے جیسے صدقہ و خیرات، اسلامی لشکر کی تیاری، اور تعلیم دین وغیرہ میں مدد مفلسی اور غریبی میں ہونا ناممکن ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جب مال حلال عنایت فرمائے تو اس کا شکریہ یہ ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق اس کو خرچ کرے، آپ کھائے دوسروں کو کھلائے، صلہ رحمی کرے، مدرسے اور یتیم خانے، مسجدیں اور کنویں بنوا دے، مسافروں اور محتاجوں کی مدد کرے، اور جو مالدار اس طرح حلال مال کو اللہ کی رضا مندی میں صرف کرتا ہے اس کا درجہ بہت بڑا ہے۔ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ہزار غلام آزاد کئے اور ہزار گھوڑے اللہ کی راہ میں مجاہدین کو دیئے اور اس کے ساتھ وہ دنیا کی حکومت اور عہدے سے نفرت کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1788
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کر دی، تو تم نے وہ حق ادا کر دیا جو تم پر تھا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1788]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کر دی تو اپنے فرض سے سبک دوش ہو گیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1788]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزکاة 2 (618)، (تحفة الأشراف: 13591) (ضعیف)» (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2218)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1789
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنْهَا سَمِعَتْهُ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَيْسَ فِي الْمَالِ حَقٌّ سِوَى الزَّكَاةِ".
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مال میں زکاۃ کے علاوہ کوئی حق نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1789]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”زکاۃ کے سوا مال میں کوئی حق نہیں (جس کا ادا کرنا مالک پر فرض ہو۔)“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1789]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزکاة 27 (659، 660)، (تحفة الأشراف: 18026)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الزکاة 13 (1677) (ضعیف منکر)» (سند میں درج ابو حمزہ میمون ا الٔاعور ضعیف راوی ہے، اور شریک القاضی بھی ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4383)
وضاحت: ۱؎: امام ترمذی نے فاطمہ بنت قیس سے اس کے خلاف روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک مال میں اور حق بھی ہیں، سوائے زکاۃ کے، تو یہ حدیث مضطرب ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (659،660)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 443
إسناده ضعيف
ترمذي (659،660)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 443