🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَابُ: مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ نَذْرٌ
باب: جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ نذر ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2132
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ وَلَمْ تَقْضِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْضِهِ عَنْهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا کہ میری ماں کے ذمہ ایک نذر تھی وہ مر گئیں، اور اس کو ادا نہ کر سکیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کی جانب سے اسے پوری کر دو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2132]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا کہ ان کی والدہ کے ذمے نذر تھی، وہ نذر پوری کیے بغیر فوت ہو گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی طرف سے تم پوری کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2132]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوصایا 19 (2761)، الأیمان والنذور30 (6698)، الحیل 3 (6959)، صحیح مسلم/النذور1 (1638)، سنن ابی داود/الأیمان 25 (3307)، سنن الترمذی/الأیمان 19 (1546)، سنن النسائی/الوصایا 8 (3686)، الأیمان 34 (3848، 3849، 3850)، (تحفة الأشراف: 5835)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النذور1 (1)، مسند احمد (1/219، 329) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2133
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ، وَعَلَيْهَا نَذْرُ صِيَامٍ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَصُمْ عَنْهَا الْوَلِيُّ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے کہا: میری ماں کا انتقال ہو گیا، اور ان کے ذمہ روزوں کی نذر تھی، اور وہ اس کی ادائیگی سے پہلے وفات پا گئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا ولی ان کی جانب سے روزے رکھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2133]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: اللہ کے رسول! میری والدہ فوت ہو گئی ہیں اور ان کے ذمے نذر کے روزے تھے، وہ نذر پوری کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی طرف سے ولی روزے رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2554) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 2077)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ میت کی طرف سے نذر کا روزہ ہو یا نماز اس کا ولی رکھ سکتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک عورت کو جس کی ماں نے قبا میں نماز پڑھنے کی نذر مانی تھی اور وہ مر گئی تھی، حکم دیا کہ تم اس کی طرف سے پڑھ لو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن لھيعة ضعيف مدلس
وحديث ’’ من مات وعليه صيام صام عنه وليه ‘‘ (البخاري:1952،مسلم: 1147) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 455

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں