صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ نَقْضِ شَعَرِ الْمَرْأَةِ:
باب: میت عورت ہو تو غسل کے وقت اس کے بال کھولنا۔
حدیث نمبر: Q1260
وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ لَا بَأْسَ أَنْ يُنْقَضَ شَعَرُ الْمَيِّتِ.
اور ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا کہ میت (عورت) کے سر کے بال کھولنے میں کوئی حرج نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: Q1260]
حدیث نمبر: 1260
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَيُّوبُ: وَسَمِعْتُ حَفْصَةَ بِنْتَ سِيرِينَ , قَالَتْ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ نَقَضْنَهُ، ثُمَّ غَسَلْنَهُ، ثُمَّ جَعَلْنَهُ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ".
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے ایوب نے بیان کیا کہ میں نے حفصہ بنت سیرین سے سنا، انہوں نے کہا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بالوں کو تین لٹوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ پہلے بال کھولے گئے پھر انہیں دھو کر ان کی تین چٹیاں کر دی گئیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1260]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بالوں کی تین مینڈھیاں بنائیں، اس طرح کہ انہوں نے بال کھولے، انہیں دھویا، پھر ان کی تین چوٹیاں بنائیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1260]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة