🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ: كِرَاءِ الأَرْضِ
باب: زمین کرایہ پر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2453
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يُكْرِي أَرْضًا لَهُ مَزَارِعًا فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ فَأَخْبَرَهُ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ"، فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ وَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَاهُ بِالْبَلَاطِ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ" فَتَرَكَ عَبْدُ اللَّهِ كِرَاءَهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنی زمین کرایہ پر کھیتی کے لیے دیا کرتے تھے، ان کے پاس ایک شخص آیا اور انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ والی حدیث کی خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرائیے پر دینے سے منع کیا ہے، یہ سن کر ابن عمر رضی اللہ عنہما چلے اور میں بھی ان کے ساتھ چلا یہاں تک کہ بلاط میں رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرائیے پر دینے سے منع کیا ہے، اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان زمینوں کو کرایہ پر دینا چھوڑ دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2453]
حضرت نافع رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی زمین کے کھیت کرائے (ٹھیکے) پر دیا کرتے تھے۔ ان کے پاس ایک شخص آیا اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ (حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے پاس) گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ گیا۔ انہوں نے مقام بلاط پر ان سے ملاقات کی اور یہ مسئلہ دریافت کیا تو حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے زمین کرائے پر دینی ترک کر دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2453]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإجارة 22 (2285)، الحرث 18 (2345)، صحیح مسلم/البیوع 17 (1547)، سنن ابی داود/البیوع 31 (3394)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3921)، (تحفة الأشراف: 3586)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الأرض 1 (3)، مسند احمد (1/234، 4/142) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بلاط: مسجد نبوی کے پاس ایک مقام کا نام ہے۔ یہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی اگلی حدیث کے خلاف ہے، اس میں بٹائی سے منع کیا ہے، لیکن سونے چاندی کے بدلے زمین کا کرایہ پر دینا درست بیان ہوا ہے،اور اس روایت میں مطلقاً کرایہ پر دینے سے ممانعت ہے اسی واسطے اہل حدیث نے رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث کو ترک کیا کیونکہ وہ مضطرب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2454
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ ابْنِ شَوْذَبٍ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا وَلَا يُؤَاجِرْهَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا: جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں خود کھیتی کرے، یا کسی کو کھیتی کے لیے دیدے، لیکن کرائے پر نہ دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2454]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: جس کے پاس زمین ہو تو وہ اسے کاشت کرے، یا کسی سے کاشت کرا لے، اور اسے کرائے پر نہ دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2454]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/البیوع 17 (1536)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3908)، (تحفة الأشراف: 2486)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحرث 18 (2340)، الھبة 35 (2632)، مسند احمد (3/302، 304، 312، 354، 363)، سنن الدارمی/البیوع 72 (2657) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2455
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُحَاقَلَةُ اسْتِكْرَاءُ الْأَرْضِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ سے منع کیا ہے، اور محاقلہ زمین کو کرایہ پر دینا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2455]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُحَاقَلَةِ» (محاقلہ) سے منع فرمایا اور محاقلہ کا مطلب ہے: زمین کرائے پر دینا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2455]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 81 (2186)، صحیح مسلم/البیوع 17 (1546)، (تحفة الأشراف: 4418)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 13 (24)، مسند احمد (3/6، 8، 60)، سنن الدارمی/البیوع 23 (2599) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح ق وليس عند خ تفسير المحاقلة
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں