🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. بَابُ: مَنْ مَثَّلَ بِعَبْدِهِ فَهُوَ حُرٌّ
باب: جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا (یعنی اس کا کوئی عضو کاٹ دیا) تو وہ آزاد ہو جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2679
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ رَوْحِ بْنِ زِنْبَاعٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ خَصَى غُلَامًا لَهُ فَأَعْتَقَهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُثْلَةِ.
سلمہ بن روح بن زنباع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے اپنے غلام کو خصی کر دیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام کو مثلہ (ناک کان یا کوئی عضو کاٹ دینا) کئے جانے کی بناء پر آزاد کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2679]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 3650، ومصباح الزجاجة: 947) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں اسحاق بن عبد اللہ ضعیف ہے، اور سلمہ بن روح مجہول، لیکن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی اگلی حدیث سے تقویت پاکر اور دوسرے شواہد سے حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2680
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى السَّمَرْقَنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ الصَّيْرَفِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَارِخًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكَ؟"، قَالَ: سَيِّدِي رَآنِي أُقَبِّلُ جَارِيَةً لَهُ، فَجَبَّ مَذَاكِيرِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيَّ بِالرَّجُلِ"، فَطُلِبَ فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ"، قَالَ: عَلَى مَنْ نُصْرَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: يَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنِ اسْتَرَقَّنِي مَوْلَايَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ أَوْ مُسْلِمٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چیختا ہوا آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے؟ وہ بولا: میرے مالک نے مجھے اپنی ایک لونڈی کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھ لیا، تو میرے اعضاء تناسل ہی کاٹ ڈالے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ جب اسے ڈھونڈا گیا تو وہ نہیں مل سکا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو، غلام بولا: اللہ کے رسول! میری مدد کون کرے گا؟ یعنی اگر میرا مالک مجھے پھر غلام بنا لے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی صورت میں ہر مومن یا مسلمان پر تمہاری مدد لازم ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2680]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 7 (4519)، (تحفة الأ شراف: 8716)، و قد أخرجہ: مسند احمد (2/182، 225) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ان دونوں حدیثوں سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی اپنے غلام یا لونڈی کو سخت ایذا دے مثلاً اس کا کوئی عضو کاٹے یا اس کا بدن جلائے تو حاکم اس کو آزاد کر سکتا ہے، اور اس کے مالک کو جو سزا مناسب سمجھے وہ دے سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں