سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب : من مثل بعبده فهو حر
باب: جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا (یعنی اس کا کوئی عضو کاٹ دیا) تو وہ آزاد ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 2679
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ رَوْحِ بْنِ زِنْبَاعٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ خَصَى غُلَامًا لَهُ فَأَعْتَقَهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُثْلَةِ.
سلمہ بن روح بن زنباع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے اپنے غلام کو خصی کر دیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام کو مثلہ (ناک کان یا کوئی عضو کاٹ دینا) کئے جانے کی بناء پر آزاد کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2679]
حضرت سلمہ بن روح بن زنباع اپنے دادا (زنباع بن روح جذامی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے اپنے غلام کو خصی کر دیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلے کی وجہ سے اس غلام کو آزاد کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2679]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 3650، ومصباح الزجاجة: 947) (حسن)» (سند میں اسحاق بن عبد اللہ ضعیف ہے، اور سلمہ بن روح مجہول، لیکن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی اگلی حدیث سے تقویت پاکر اور دوسرے شواہد سے حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2679
| أعتقه النبي بالمثلة |
Sunan Ibn Majah Hadith 2679 in Urdu
سلمة بن روح الجذامي ← زنباع بن روح الجذامي