🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

58. بَابُ: الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ
باب: عرفات سے لوٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3017
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سُئِلَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ حِينَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ؟، قَالَ:" كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ"، قَالَ وَكِيعٌ: وَالنَّصُّ يَعْنِي: فَوْقَ الْعَنَقِ.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: عرفات سے لوٹتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے چلتے تھے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم «عنق» کی چال (تیز چال) چلتے، اور جب خالی جگہ پاتے تو «نص» کرتے یعنی دوڑتے۔ وکیع کہتے ہیں کہ «عنق» سے زیادہ تیز چال کو «نص» کہتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3017]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفات سے روانہ تھے تو کس طرح چلتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: درمیانی رفتار سے چلتے تھے۔ جب کھلی جگہ ملتی تو رفتار تیز کر دیتے۔ راویِ حدیث وکیع رحمہ اللہ نے کہا: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانی رفتار سے تھوڑا تیز چلتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3017]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 93 (1666)، الجہاد 136 (2999)، المغازي 77 (4413)، صحیح مسلم/الحج 47 (1280، 1286)، سنن ابی داود/الحج 64 (1923)، سنن النسائی/الحج 205 (3026)، 214 (3054)، (تحفة الأشراف: 104)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج57 (176)، مسند احمد (5/205، 210)، سنن الدارمی/المناسک 51 (1922) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3018
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَتْ قُرَيْشٌ:" نَحْنُ قَوَاطِنُ الْبَيْتِ، لَا نُجَاوِزُ الْحَرَمَ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: قریش کہتے تھے کہ ہم بیت اللہ کے رہنے والے ہیں، حرم کے باہر نہیں جاتے ۱؎، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ: «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» پھر تم بھی وہیں سے لوٹو جہاں سے اور لوگ لوٹتے ہیں (یعنی عرفات سے) اتاری۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3018]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قریش کہتے تھے: ہم بیت اللہ کے پاس رہنے والے ہیں۔ ہم حرم (کی حدود) سے آگے نہیں جائیں گے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ﴾ [سورة البقرة: 199] پھر وہاں سے واپس آؤ جہاں سے (دوسرے) لوگ واپس آئیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3018]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16922، ومصباح الزجاجة: 1054) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اسی وجہ سے وہ عرفات میں وقوف نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ «حل» میں واقع ہے، یعنی حرم سے باہر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں