سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ: الْخِضَابِ بِالْحِنَّاءِ
باب: مہندی کا خضاب لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3621
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ , وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُخْبِرَانِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى , لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے، تو تم ان کی مخالفت کرو (یعنی خضاب لگاؤ)“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3621]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ یہودی اور عیسائی بالوں کو نہیں رنگتے، چنانچہ تم ان کی مخالفت کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 50 (3462)، اللباس 67 (5899)، صحیح مسلم/اللباس 25 (2103)، سنن ابی داود/الترجل 18 (4203)، سنن النسائی/الزینة 14 (5075)، (تحفة الأشراف: 13480، 15142)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس20 (1752)، مسند احمد (2/240، 260، 309، 401) (صحیح)»
وضاحت: بالکل سیاہ رنگ سے اجتناب کیا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3622
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ الْأَجْلَحِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدَّيْلَمِيِّ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالوں کی سفیدی بدلنے کے لیے سب سے بہترین چیز مہندی اور کتم ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3622]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑھاپے (کے بالوں) کا رنگ بدلنے کے لیے سب سے بہتر چیز مہندی اور وسمہ ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 18 (4205)، سنن الترمذی/اللباس20 (1753)، سنن النسائی/الزینة 16 (5081، 5082)، (تحفة الأشراف: 11927، 18882)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/147، 150، 154، 156، 169) (صحیح)»
وضاحت: ۱ ؎: «كَتَمُ» : ایک پودا ہے جس کی جڑ سے خضاب بنایا جاتا ہے، نیز اس کو جوش دے کر روشنائی تیار کی جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3623
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ , قَالَ:" فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ شَعَرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ".
عثمان بن موہب کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال نکال کر مجھے دکھایا، جو مہندی اور کتم سے رنگا ہوا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3623]
حضرت عثمان بن موہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند بال نکال کر مجھے دکھائے جو مہندی اور وسمہ سے رنگے ہوئے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 66 (5896، 5897)، (تحفة الأشراف: 18196)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/296، 319، 322) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري