سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ: الْخِضَابِ بِالسَّوَادِ
باب: کالے خضاب کے استعمال کا بیان۔
حدیث نمبر: 3624
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: جِيءَ بِأَبِي قُحَافَةَ , يَوْمَ الْفَتْحِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبُوا بِهِ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَلْتُغَيِّرْهُ , وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، اس وقت ان کے بال سفید گھاس کی طرح تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں ان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ کہ وہ انہیں بدل دے (یعنی خضاب لگا دے)، لیکن کالے خضاب سے انہیں بچاؤ“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3624]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”فتح مکہ کے دن حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا گیا، ان کا سر «الثَّغَامَةِ» (سفید گھاس) کی طرح (سفید) تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں ان (کے گھر) کی کسی خاتون کے پاس لے جاؤ، وہ (مہندی وغیرہ کے ذریعے) ان کے بالوں کا رنگ تبدیل کر دے اور انہیں سیاہ رنگ سے بچانا۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2932، ومصباح الزجاجة: 1263)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 24 (2102)، سنن ابی داود/الترجل 18 (4204)، سنن النسائی/الزینة 15 (5079)، الزینة من المجتبیٰ 10 (5244)، مسند احمد (3/، 322، 338) (صحیح)» (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، کمافی التخریج)
وضاحت: ۱؎: خضاب لگانے کا مقصد یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہے، اہل کتاب کی مخالفت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود کرتے تھے، اور اس کا حکم بھی دیتے تھے، البتہ اس حدیث کی روشنی میں کالے خضاب سے بچنا چاہیے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3625
حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الصَّيْرَفِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ زَكَرِيَّا الرَّاسِبِيُّ , حَدَّثَنَا دَفَّاعُ بْنُ دَغْفَلٍ السَّدُوسِيُّ , عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ صُهَيْبِ الْخَيْرِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحْسَنَ مَا اخْتَضَبْتُمْ بِهِ لَهَذَا السَّوَادُ أَرْغَبُ لِنِسَائِكُمْ فِيكُمْ , وَأَهْيَبُ لَكُمْ فِي صُدُورِ عَدُوِّكُمْ".
صہیب الخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خضاب تم لگاتے ہو ان میں بہترین کالا خضاب ہے، اس سے عورتیں تمہاری طرف زیادہ راغب ہوتی ہیں، اور تمہارے دشمنوں کے دلوں میں تمہاری ہیبت زیادہ بیٹھتی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3625]
حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین چیز جس سے تم خضاب کرتے ہو، سیاہ رنگ ہے۔ اس سے تمہاری عورتوں کے دلوں میں تمہاری رغبت (اور محبت) زیادہ ہوتی ہے اور تمہارے دشمنوں کے دلوں میں تمہارا رعب زیادہ ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3625]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4965، ومصباح الزجاجة: 1264) (ضعیف)» (عمر بن خطاب بن زکریا راسبی اور دفاع سدوسی دونوں ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
دفاع: ضعيف (تقريب: 1827)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 508
إسناده ضعيف
دفاع: ضعيف (تقريب: 1827)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 508