🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. بَابُ: شِدَّةِ الزَّمَانِ
باب: زمانہ کی سختی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4035
حَدَّثَنَا غِيَاثُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّحَبِيُّ , أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ , يَقُولُ: قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ رَبِّهِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا بَلَاءٌ وَفِتْنَةٌ".
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا میں فتنوں اور مصیبتوں کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4035]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: دنیا میں صرف آزمائش اور فتنہ ہی باقی رہ گیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4035]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11457، ومصباح الزجاجة: 1422)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/94) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4036
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ , عَنْ إِسْحَاق بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتُ , يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ , وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ , وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ , وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ , وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ , قِيلَ: وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ؟ قَالَ: الرَّجُلُ التَّافِهُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکر و فریب والے سال آئیں گے، ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن، اور اس زمانہ میں «رويبضة» بات کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: «رويبضة» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقیر اور کمینہ آدمی، وہ لوگوں کے عام انتظام میں مداخلت کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4036]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب لوگوں پر دھوکے سے بھر پور سال آئیں گے۔ ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا کہا جائے گا۔ بد دیانت کو امانت دار سمجھا جائے گا اور دیانت دار کو بد دیانت کہا جائے گا اور «الرُّوَيْبِضَةُ» رُوَیْبِضَہ باتیں کریں گے۔ کہا گیا: «الرُّوَيْبِضَةُ» رُوَیْبِضَہ (کا مطلب) کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقیر آدمی جو عوام کے معاملات میں رائے دے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4036]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12950، ومصباح الزجاجة: 1423)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/291) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ابن قدامہ ضعیف، اور اسحاق بن أبی الفرات مجہول ہیں، لیکن مسند احمد 2 / 338 کے طریق سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، اور انس رضی اللہ عنہ کی حدیث مسند احمد 3/220، سے تقویت پاکر صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الملك بن قدامة الجمحي ضعيف (تقريب: 4204) و روي أحمد (2/ 338 ح 8459) بسند حسن عن سعيد بن عبيد بن السباق (ثقة تابعي) عن أبي ھريرة قال قال رسول اللّٰه ﷺ: ((قبل الساعة سنون خدّاعة،يكذّب فيھا الصادق و يصدّق فيھا الكاذب ويخوّن فيھا الأمين و يؤتمن فيھا الخائن و ينطق فيھا الرويبضة (وفي رواية سريج): و ينظر فيھا للرويبضة)) وھو يغني عنه۔وقال ابن الأثير في الرويبضة: ’’ تصغير الرابضة وھو العاجز الذي ربض عن معالي الأمور و قعد عن طلبھا ‘‘ (النهاية في غريب الحديث والأثر 2/ 185)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 520

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4037
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيل الْأَسْلَمِيِّ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ , فَيَتَمَرَّغَ عَلَيْهِ , وَيَقُولَ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَكَانَ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ , وَلَيْسَ بِهِ الدِّينُ إِلَّا الْبَلَاءُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا اس وقت تک ختم نہ ہو گی جب تک آدمی قبر پر جا کر نہ لوٹے، اور یہ تمنا نہ کرے کہ کاش! اس قبر والے کی جگہ میں دفن ہوتا، اس کا سبب دین و ایمان نہیں ہو گا، بلکہ وہ دنیا کی بلا اور فتنے کی وجہ سے یہ تمنا کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4037]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ» قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا ختم نہیں ہوگی حتیٰ کہ (یہ نوبت آجائے گی کہ) آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرے گا تو اس پر گر پڑے گا اور کہے گا: «يَا لَيْتَنِي مَكَانَ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ» کاش! میں اس قبر والے کی جگہ (مر کر دفن ہو چکا) ہوتا۔ وہ دین (کے بارے میں پیش آنے والی مشکلات) کی وجہ سے ایسے نہیں کرے گا بلکہ (دنیوی) مشکلات کی وجہ سے کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفتن 18 (157)، (تحفة الأشراف: 13393)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الفتن 22 (7115)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (53) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4038
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ يُونُسَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ يَعْنِي: مَوْلَى مُسَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَتُنْتَقَوُنَّ كَمَا يُنْتَقَى التَّمْرُ مِنْ أَغْفَالِهِ , فَلْيَذْهَبَنَّ خِيَارُكُمْ وَلَيَبْقَيَنَّ شِرَارُكُمْ , فَمُوتُوا إِنِ اسْتَطَعْتُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسے چن لیے جاؤ گے جیسے عمدہ کھجوریں ردی کھجوروں میں سے چنی جاتی ہیں، تمہارے نیک لوگ گزر جائیں گے، اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، تو اگر تم سے ہو سکے تو تم بھی مر جانا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4038]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح چن لیے جاؤ گے جس طرح نکمی اور ردی کھجوروں میں سے (عمدہ) کھجوریں چن (کر اٹھا) لی جاتی ہیں۔ اچھے لوگ (دنیا سے) چلے جائیں گے اور برے لوگ رہ جائیں گے، پس اگر تم سے ہو سکے تو مر جانا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4038]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14878، ومصباح الزجاجة: 1424) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ابو حمید مجہول راوی ہیں، لیکن اصل حدیث رویفع بن ثابت کے شاہد سے تقویت پاکر صحیح ہے، جس کی تصحیح ابن حبان نے کی ہے، آخری جملہ «فموتوا إن استطعتم» ضعیف ہے، اس لئے کہ اس کا شاہد نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف بهذا التمام وهو ثابت دون قوله فموتوا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن شھاب الزهري عنعن
و روي البخاري (6434) عن مرداس الأسلمي رضي اللّٰه عنه قال قال النبي ﷺ: ((يذھب الصالحون الأول فالأول و يبقي حفالة الشعير أوالتمر،لا يباليھم اللّٰه بالة)) وھو يغني عنه وانظر صحيح ابن حبان (الموارد: 1832)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 520

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4039
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْجَنَدِيُّ , عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا يَزْدَادُ الْأَمْرُ إِلَّا شِدَّةً , وَلَا الدُّنْيَا إِلَّا إِدْبَارًا , وَلَا النَّاسُ إِلَّا شُحًّا , وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ , وَلَا الْمَهْدِيُّ إِلَّا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دن بہ دن معاملہ سخت ہوتا چلا جائے گا، اور دنیا تباہی کی طرف بڑھتی جائے گی، اور لوگ بخیل ہوتے جائیں گے، اور قیامت بدترین لوگوں پر ہی قائم ہو گی، اور مہدی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4039]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاملہ ہمیشہ سخت سے سخت ہوتا چلا جائے گا، دنیا پیچھے ہٹتی چلی جائے گی، لوگوں میں بخل ہی زیادہ ہوتا جائے گا، قیامت محض بد ترین لوگوں پر قائم ہو گی اور عیسیٰ ابن مریم کے سوا کوئی مہدی نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4039]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 541، ومصباح الزجاجة: 1425) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن خالد الجندی ضعیف راوی ہیں، اور حسن بصری مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن «ولا تقوم الساعة إلا على شرار الناس» کا جملہ دوسری حدیث سے ثابت ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا إلا جملة الساعة فصحيحة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
فيه علل: الحسن عنعن
الجندي لم يثبت توثيقه عن ابن معين،الإختلاف في السند،أبان لم يسمع من الحسن ولبعض الحديث شواهد ضعيفة،والمهدي (خليفة المسلمين) غير عيسي بن مريم كما جاء في الأحاديث المتواترة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 520

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں