🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ: مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَتَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ
باب: (سورج ڈوبنے سے پہلے) عصر کی دو رکعت پا لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 515
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قال: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَوْ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی دو رکعت ۲؎ یا سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے (نماز کا وقت) پا لیا ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 515]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عصر کی دو رکعتیں سورج غروب ہونے سے پہلے پڑھ لیں یا صبح کی ایک رکعت سورج طلوع ہونے سے پہلے پڑھ لی تو اس نے نماز پالی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 30 (608)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (412)، مسند احمد 2/ 282، (تحفة الأشراف: 13576) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بعض نسخوں میں اس باب میں «ركعة» کا لفظ ہے۔ ۲؎: اکثر روایتوں میں ہے ایک رکعت پالی۔ ۳؎: یعنی اس کی یہ دونوں صلاتیں ادا سمجھی جائیں گی نہ کہ قضاء۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 516
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قال: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَوْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَقَدْ أَدْرَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی یا سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی اس نے (پوری نماز) پالی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 516]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سورج غروب ہونے سے قبل عصر کی نماز سے ایک رکعت پالے یا سورج طلوع ہونے سے قبل صبح کی ایک رکعت پالے تو یقیناً اس نے وہ نماز پالی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 516]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 30 (608)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 11 (700)، (تحفة الأشراف: 15274)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (5)، مسند احمد 2/254، 260، 282، 399، 462، 474 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 517
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قال: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَدْرَكَ أَحَدُكُمْ أَوَّلَ سَجْدَةٍ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ، وَإِذَا أَدْرَكَ أَوَّلَ سَجْدَةٍ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج ڈوبنے سے پہلے جب تم میں سے کوئی نماز عصر کا پہلا سجدہ پا لے تو اپنی نماز مکمل کر لے، اور جب سورج نکلنے سے پہلے نماز فجر کا پہلا سجدہ پا لے تو اپنی نماز مکمل کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 517]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص عصر کی نماز کی پہلی رکعت سورج غروب ہونے سے پہلے پالے تو وہ باقی نماز پوری کرے اور جب صبح کی نماز کی پہلی رکعت سورج طلوع ہونے سے پہلے پالے تو وہ باقی نماز پوری کرے۔ (اس کی نماز فاسد نہ ہوگی)۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 517]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 17 (556)، (تحفة الأشراف: 15375)، مسند احمد 2/306 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 518
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنْ الْأَعْرَجِ يُحَدِّثُونَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے فجر پالی، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے عصر پالی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 518]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے صبح کی نماز کی ایک رکعت طلوعِ شمس سے قبل پالی تو اس نے ساری نمازِ صبح پالی اور جس نے عصر کی نماز کی ایک رکعت غروبِ شمس سے پہلے پالی تو اس نے پوری نمازِ عصر پالی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 518]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 28 (579)، صحیح مسلم/المساجد 30 (608)، سنن الترمذی/الصلاة 23 (186)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 11 (699)، (تحفة الأشراف: 12206)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (5)، مسند احمد 2/ 462، سنن الدارمی/الصلاة 22 (1258) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 519
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَدِّهِ مُعَاذٍ، أَنَّهُ طَافَ مَعَ مُعَاذِ ابْنِ عَفْرَاءَ فَلَمْ يُصَلِّ، فَقُلْتُ: أَلَا تُصَلِّي؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، وَلَا بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا، تو انہوں نے نماز (طواف کی دو رکعت) نہیں پڑھی، تو میں نے پوچھا: کیا آپ نماز نہیں پڑھیں گے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ۱؎ یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، اور فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک سورج نکل آئے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 519]
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا اور (دو رکعت) نماز نہ پڑھی، میں نے کہا: آپ (طواف کی دو رکعت) نماز نہیں پڑھیں گے؟ وہ فرمانے لگے: تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: عصر کے بعد (نفل) نماز نہ پڑھی جائے حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے اور صبح کے بعد بھی (نفل) نماز نہ پڑھی جائے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 519]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی (تحفة الأشراف: 11374)، مسند احمد 4/219، 220 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’نصر بن عبدالرحمن کنانی‘‘ لین الحدیث ہیں، لیکن معنی دوسری روایات سے ثابت ہے، دیکھئے حدیث رقم 562، 569)»
وضاحت: ۱؎: یہاں نفی نہی کے معنی میں ہے جیسے «لارفث ولا فسوق» میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، نصر مجهول (التحرير :7117). وفيه علة أخري،انظر الإصابة (3/ 428 ت 8039) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 324

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں