🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

54. بَابُ: إِعَادَةِ مَا نَامَ عَنْهُ مِنَ الصَّلاَةِ لِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ
باب: جس نماز سے آدمی سو جائے تو اسے دوسرے روز اس کے وقت پر دوبارہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 618
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَامُوا عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلْيُصَلِّهَا أَحَدُكُمْ مِنَ الْغَدِ لِوَقْتِهَا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب لوگ نماز سے سو گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے دوسرے روز اس کے وقت پر پڑھنا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 618]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب صحابہ صبح کی نماز سے سوئے رہ گئے تھے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو گیا تھا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: کل تم یہ نماز اس کے وقت پر پڑھنا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12093) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ آج نیند کی وجہ سے تقصیر ہو گئی تو ہو گئی، اس کی ابھی قضاء پڑھ لی ہے، لیکن کل سے اسے اپنے وقت پر پڑھنا، کیونکہ صحیح مسلم میں اس روایت کے الفاظ یوں ہیں «فلیصلھاحین ینتبہ لھا، فإذا کان الغد فلیصلھاعند وقتھا» یعنی: اس نماز کو جب اٹھے تب پڑھ لے (یعنی قضاء کر کے)، اور کل سے اس کو اپنے وقت پر پڑھا کرے) مؤلف سے ذہول ہوا ہے، اسی ذہول کی بنا پر انہوں نے مذکورہ باب باندھا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 619
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا نَسِيتَ الصَّلَاةَ فَصَلِّ إِذَا ذَكَرْتَ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14". قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: حَدَّثَنَا بِهِ يَعْلَى مُخْتَصَرًا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز بھول جاؤ تو یاد آنے پر اسے پڑھ لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «أقم الصلاة لذكري» ۱؎ نماز قائم کرو جب میری یاد آئے۔ عبدالاعلی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہم سے یعلیٰ نے مختصراً بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 619]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز بھول جاؤ تو جب یاد آئے اسے پڑھ لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ (قرآن مجید میں) فرماتا ہے: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] اور میری یاد آنے پر نماز قائم کرو۔ عبدالاعلیٰ رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں یہ روایت یعلی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13243) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مشہور قرأت یاء متکلم کی طرف اضافت کے ساتھ ہے لیکن یہ قرأت مقصود کے مناسب نہیں اس لیے اس کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ مضاف مقدر ہے اصل عبارت یوں ہے «وقت ذکر صلاتی» اور ایک شاذ قرأت «للذکریٰ» اسم مقصور کے ساتھ ہے جو أوفق بالمقصود ہے، (جو رقم: ۶۲۱ کے تحت آ رہی ہے)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 620
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى، قَالَ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نماز قائم کرو جب میری یاد آئے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 620]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز بھول جائے تو اسے چاہیے کہ اسے یاد آنے پر پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] اور میری یاد آنے پر نماز پڑھو۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13373) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 621
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى، يَقُولُ: 0 أَقِمْ الصَّلَاةَ لِلذِّكْرَى 0". قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: هَكَذَا قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: نماز قائم کرو یاد آنے پر، معمر کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح پڑھا ہے؟ کہا: ہاں (یعنی: «للذکریٰ»[سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 621]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز بھول جائے تو اسے جب یاد آئے، اسی وقت پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] یاد آنے پر نماز قائم کرو۔معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح قراءت فرمائی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 620 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں