سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ: إِقَامَةِ الصُّفُوفِ قَبْلَ خُرُوجِ الإِمَامِ
باب: امام کے نکلنے سے پہلے صفوں کی درستگی کا بیان۔
حدیث نمبر: 810
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقُمْنَا فَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَانْصَرَفَ فَقَالَ:" لَنَا مَكَانَكُمْ" فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا قَدِ اغْتَسَلَ يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً فَكَبَّرَ وَصَلَّى.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو ہم کھڑے ہوئے، اور صفیں اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلیں درست کر لی گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے یہاں تک کہ جب آپ اپنی نماز پڑھانے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہو گئے تو اس سے پہلے کہ کے آپ تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہیں ہماری طرف پلٹے، اور فرمایا: ”تم لوگ اپنی جگہوں پہ رہو“، تو ہم برابر کھڑے آپ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ہماری طرف آئے، آپ غسل کئے ہوئے تھے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، تو آپ نے تکبیر (تحریمہ) کہی، اور صلاۃ پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 810]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جماعت کی اقامت ہو گئی تو ہم کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل صفیں درست کر لی گئیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، حتیٰ کہ جب اپنی نماز گاہ میں کھڑے ہو گئے تو تکبیرِ تحریمہ سے قبل ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑے اور ہم سے فرمایا: ”اپنی جگہ کھڑے رہو۔“ ہم کھڑے انتظار کرتے رہے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہائے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرِ مبارک سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیرِ تحریمہ کہی اور نماز پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 810]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 17 (275)، صحیح مسلم/المساجد 29 (605)، سنن ابی داود/الطہارة 94 (235)، (تحفة الأشراف: 15309)، مسند احمد 2/518 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه