سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ: الاِئْتِمَامِ بِالإِمَامِ يُصَلِّي قَاعِدًا
باب: امام بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں۔
حدیث نمبر: 833
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ اس سے گر گئے اور آپ کے داہنے پہلو میں خراش آ گئی، تو آپ نے کچھ نمازیں بیٹھ کر پڑھیں، ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ سلام پھیر کر پلٹے تو فرمایا: ”امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 833]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس سے گر گئے اور آپ کا دایاں پہلو چھل گیا۔ آپ نے کوئی ایک نماز بیٹھ کر پڑھی، ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، لہٰذا جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 833]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 51 (689)، صحیح مسلم/الصلاة 19 (411)، سنن ابی داود/الصلاة 69 (601)، (تحفة الأشراف: 1529)، موطا امام مالک/الجماعة 5 (16)، سنن الدارمی/الصلاة 44 (1291) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 834
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قالت: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُومُ فِي مَقَامِكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ فَقَالَتْ: لَهُ فَقَالَ: إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً قَالَتْ: فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ فَذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قُمْ كَمَا أَنْتَ قَالَتْ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ جَالِسًا فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَقْتَدُونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھ گئی، بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی خبر دینے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوبکر نرم دل آدمی ہیں، وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو (قرآن) نہیں سنا سکیں گے ۱؎ اگر آپ عمر کو حکم دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو صلاۃ پڑھائیں“، تو میں نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو، تو حفصہ نے (بھی) آپ سے کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یوسف علیہ السلام کی ساتھ والیاں ہو ۲؎، ”ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، (بالآخر) لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو جب انہوں نے نماز شروع کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو آپ اٹھے اور دو آدمیوں کے سہارے چل کر نماز میں آئے، آپ کے دونوں پاؤں زمین سے گھسٹ رہے تھے، جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کے آنے کی آہٹ محسوس کی، اور وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ ”جس طرح ہو اسی طرح کھڑے رہو“، ام المؤمنین کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے، ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 834]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بیمار ہوئے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ابوبکر بہت نرم دل آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو (رونے کی وجہ سے) لوگوں کو قراءت نہ سنا سکیں گے، اگر آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں (تو اچھی بات ہے)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نہیں) ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ میں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”تم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو۔“ انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے والی عورتوں کی طرح ہو، ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا۔ پھر جب انہوں نے نماز شروع کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ میں کچھ آرام اور افاقہ محسوس کیا، آپ اٹھے اور دو آدمیوں کے درمیان آپ کو ان کے کندھوں کے سہارے چلایا گیا، پھر بھی آپ کے پاؤں مبارک زمین پر گھسٹ رہے تھے (آپ میں پاؤں اٹھانے کی سکت نہ تھی)۔ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی آہٹ محسوس کر کے پیچھے ہٹنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ فرمایا کہ ”اسی طرح کھڑے رہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے، چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر آپ کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 834]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 39 (664)، 67 (712)، 68 (713)، صحیح مسلم/الصلاة 21 (418)، سنن ابن ماجہ/إقامة 142 (1232)، (تحفة الأشراف: 15945)، مسند احمد 6/34، 96، 97، 210، 224، 228، 249، 251، سنن الدارمی/المقدمة 14 (82) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر ایسی رقت طاری ہو جائے گی کہ وہ رونے لگیں گے، اور قرأت نہیں کر سکیں گے۔ ۲؎: اس سے مراد صرف عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، جیسے قرآن میں صرف «امرأۃ العزیز» مراد ہے، اور مطلب یہ ہے کہ «عائشہ امرأۃ العزیز» کی طرح دل میں کچھ اور چھپائے ہوئے تھیں، اور اظہار کسی اور بات کا کر رہی تھیں، وہ یہ کہتی تھیں کہ اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی جگہ امامت کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ کی وفات ہو گئی تو لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو منحوس سمجھیں گے، اس لیے بہانہ بنا رہی تھیں رقیق القلبی کا، ایک موقع پر انہوں نے یہ بات ظاہر بھی کر دی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 835
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ: أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ" فَقُلْنَا: لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ:" ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ" فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ" قُلْنَا: لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ:" ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ" فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: فِي الثَّالِثَةِ مِثْلَ قَوْلِهِ قَالَتْ: وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ صَلِّ بِالنَّاسِ فَجَاءَهُ الرَّسُولُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا رَقِيقًا فَقَالَ: يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَجَاءَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ وَأَمَرَهُمَا فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَعَمْ فَحَدَّثْتُهُ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ: لَا، قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ.
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اور میں نے ان سے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت کا حال نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی شدت بڑھ گئی، تو آپ نے پوچھا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ تو ہم نے عرض کیا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے ٹب میں پانی رکھو“؛ چنانچہ ہم نے رکھا، تو آپ نے غسل کیا، پھر اٹھنے چلے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ تو ہم نے عرض کیا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے ٹب میں پانی رکھو“؛ چنانچہ ہم نے رکھا، تو آپ نے غسل کیا، پھر آپ اٹھنے چلے تو پھر بیہوش ہو گئے، پھر تیسری بار بھی آپ نے ایسا ہی فرمایا، لوگ مسجد میں جمع تھے، اور عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہلوا بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو قاصد ان کے پاس آیا، اور اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی تھے، تو انہوں نے (عمر رضی اللہ عنہ سے) کہا: عمر! تم لوگوں کو نماز پڑھا دو، تو انہوں نے کہا: آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں؛ چنانچہ ان ایام میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اندر ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں کے سہارے (ان دونوں میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے) نماز ظہر کے لیے آئے، تو جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں، اور ان دونوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ان کے بغل میں بٹھا دیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھا رہے تھے، لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صلاۃ کی اقتداء کر رہے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے۔ (عبیداللہ کہتے ہیں) میں ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آیا، اور میں نے ان سے کہا: کیا میں آپ سے وہ چیزیں بیان نہ کر دوں جو مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے متعلق بیان کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں! ضرور بیان کرو، تو میں نے ان سے سارا واقعہ بیان کیا، تو انہوں نے اس میں سے کسی بھی چیز کا انکار نہیں کیا، البتہ اتنا پوچھا: کیا انہوں نے اس شخص کا نام لیا جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: وہ علی (کرم اللہ وجہہ) تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 835]
عبید اللہ بن عبد اللہ سے منقول ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: ”کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ موت کے بارے میں بیان نہیں فرماتیں؟“ وہ فرمانے لگیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بیمار ہو گئے تو فرمانے لگے: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے کہا: ”نہیں۔ وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» ”میرے لیے ٹب میں پانی ڈالو۔“ ہم نے تعمیل کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا (تاکہ بخار کی حدت کم ہو۔) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو بے ہوش ہو گئے۔ پھر ہوش میں آئے تو فرمانے لگے: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! نہیں۔ بلکہ وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» ”میرے لیے ٹب میں پانی رکھو۔“ ہم نے تعمیل کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر غسل کیا اور اٹھنے کا ارادہ کیا مگر دوبارہ بے ہوش ہو گئے۔ پھر تیسری دفعہ بھی ایسے ہی فرمایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”لوگ مسجد میں بیٹھے عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ قاصد ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی تھے۔ کہنے لگے: اے عمر! تم نماز پڑھاؤ۔ انہوں نے کہا: آپ ہی اس اعزاز (امامت) کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔ پھر ان دنوں میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نمازیں پڑھائیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں افاقہ محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ ظہر کے لیے دو آدمیوں کے سہارے تشریف لائے۔ ان دو آدمیوں میں سے ایک حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لانے والے) ان دو آدمیوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بٹھا دیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے۔ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھتے رہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے رہے۔“ عبید اللہ نے کہا: میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور میں نے کہا: ”کیا میں آپ کے سامنے وہ روایت پیش نہ کروں جو مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ موت کے بارے میں بیان کی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ میں نے پوری روایت بیان کی۔ انہوں نے کسی بھی لفظ کا انکار نہیں کیا مگر انہوں نے کہا: ”کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہیں اس آدمی کا نام بتایا جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دینے والے) تھے؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ انہوں نے فرمایا: ”وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 835]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 51 (687)، صحیح مسلم/الصلاة 21 (418)، (تحفة الأشراف: 16317)، مسند احمد 2/52، 6/249، 251، سنن الدارمی/الصلاة 44 (1292) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه