سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
63. بَابُ: الرُّكُوعِ دُونَ الصَّفِّ
باب: صف میں ملے بغیر رکوع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 872
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، تو انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ آپ کی حرص میں اضافہ فرمائے، پھر ایسا نہ کرنا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاذان 114 (783)، سنن ابی داود/الصلاة 101 (683، 684)، (تحفة الأشراف: 11659)، مسند احمد 5/39، 42، 45، 46، 50 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ خیر کی حرص گو محبوب و مطلوب ہے لیکن اسی صورت میں جب یہ شریعت کے مخالف نہ ہو، اور اس طرح صف میں شامل ہونا شرعی طریقے کے خلاف ہے، اس لیے اس سے بچنا اولیٰ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 873
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو أُسَامَةَ، قال: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمًا، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ:" يَا فُلَانُ أَلَا تُحَسِّنُ صَلَاتَكَ أَلَا يَنْظُرُ الْمُصَلِّي كَيْفَ يُصَلِّي لِنَفْسِهِ إِنِّي أُبْصِرُ مِنْ وَرَائِي كَمَا أُبْصِرُ بَيْنَ يَدَيَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر سلام پھیر کر پلٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! تم اپنی نماز درست کیوں نہیں کرتے؟ کیا نمازی دیکھتا نہیں کہ اسے اپنی نماز کیسی پڑھنی چاہیئے، (سن لو) میں اپنے پیچھے سے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 873]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 24 (423)، (تحفة الأشراف: 4334)، مسند احمد 2/449 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم