🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. بَابُ: الْقُنُوتِ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ
باب: نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1072
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ سُئِلَ" هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ: نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ قَالَ: بَعْدَ الرُّكُوعِ".
ابن سیرین سے روایت ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! (پڑھی ہے) پھر ان سے پوچھا گیا، رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؟ رکوع کے بعد ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1072]
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ پوچھا گیا: رکوع سے پہلے یا بعد؟ آپ نے فرمایا: رکوع کے بعد۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1072]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوتر 7 (1001)، صحیح مسلم/المساجد 54 (677) مختصراً، سنن ابی داود/الصلاة 345 (1444)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 120 (1184)، مسند احمد 3/113، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1640)، (تحفة الأشراف: 1453) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور رکوع سے پہلے کی بھی روایت موجود ہے جیسا کہ ابن ماجہ (حدیث رقم: ۱۱۸۳) میں «نقنت قبل الرکوع وبعدہ» کے الفاظ آئے ہیں اور اس کی سند قوی ہے۔ گویا دونوں طرح جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1073
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قال: حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَامَ هُنَيْهَةً".
ابن سیرین کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی تھی، بیان کیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں «سمع اللہ لمن حمده» کہا تو آپ تھوڑی دیر کھڑے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1073]
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک ایسے صحابی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ صبح پڑھی، (ان کے بیان کے مطابق) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر کھڑے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1073]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 345 (1446)، (تحفة الأشراف: 15667) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1446) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1074
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَفِظْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال:" لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ:" اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں دوسری رکعت سے اپنا سر اٹھایا تو آپ نے دعا کی: اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور لوگوں کو دشمنوں کے چنگل سے نجات دے، اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ سخت کر دے، اور ان کے اوپر یوسف علیہ السلام (کی قوم) جیسا سا قحط مسلط کر دے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1074]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ» اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابوربیعہ اور مکہ میں دوسرے کمزور اور مظلوم مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ! مضر (قریش) پر اپنا عذاب سخت فرما اور اس عذاب کو قحط کی صورت میں نازل فرما جو یوسف علیہ السلام کے دور کے قحط کی طرح ہو۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1074]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأدب 110 (6200)، صحیح مسلم/المساجد 54 (675)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 145 (1244)، مسند احمد 2/239، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1636)، (تحفة الأشراف: 13132)، والحدیث أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 128 (804)، الاستسقاء 2 (1006)، الجھاد 98 (2932)، الأنبیاء 19 (3386)، تفسیر آل عمران 9 (4506)، تفسیر النساء 21 (4598)، الدعوات 58 (6393)، الإکراہ 15 (6940)، سنن ابی داود/الصلاة 345 (1442)، مسند احمد 2/ 239، 255، 271، 418، 470، 507، 521، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1636) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1075
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَمْزَةَ، قال: حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ حِينَ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ: اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَيَسْجُدُ وَضَاحِيَةُ مُضَرَ يَوْمَئِذٍ مُخَالِفُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جس وقت «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہتے تو دعا کرتے، سجدہ میں جانے سے پہلے کھڑے ہو کر، کہتے: «اللہم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن أبي ربيعة والمستضعفين من المؤمنين اللہم اشدد وطأتك على مضر واجعلها عليهم كسني يوسف» اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور مسلمانوں کو دشمنوں کے چنگل سے نجات دے، اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ سخت کر دے، اور ان پر یوسف سا قحط مسلط کر دے، پھر آپ اللہ اکبر کہتے اور سجدہ کرتے، ان دنوں قبیلہ مضر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف تھا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1075]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» پڑھتے تو سجدے میں جانے سے پہلے کھڑے کھڑے دعا فرماتے: «اَللّٰهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ ⋯ الخ» اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابو ربیعہ اور دوسرے کمزور مسلمانوں کو نجات عطا فرما۔ اے اللہ! مضر (قریش) پر اپنا عذاب سخت فرما اور اسے حضرت یوسف علیہ السلام کے دور کے قحط کی صورت میں نازل فرما۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» کہتے اور سجدے کو جاتے۔ ان دنوں مضر کے بادیہ نشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1075]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث سعید بن المسیب أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 128 (803) مطولاً، (تحفة الأشراف: 13155)، وحدیث أبي سلمة أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 345 (1442)، (تحفة الأشراف: 15159) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں