🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. بَابُ: كَيْفَ الْوِتْرُ بِتِسْعٍ
باب: نو رکعت وتر پڑھنے کی کیفیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1721
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنَّا نُعِدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، وَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدْعُو بَيْنَهُنَّ وَلَا يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا، ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ وَيَقْعُدُ، وَذَكَرَ كَلِمَةً نَحْوَهَا، وَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدْعُو , ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا , ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیا کرتے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ کو جگانا منظور ہوتا تورات میں آپ کو جگا دیتا، آپ مسواک کرتے (پھر) وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے، ان میں صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اور اللہ کی حمد کرتے، اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز (درود و رحمت) بھیجتے، اور ان کے درمیان دعائیں کرتے، اور کوئی سلام نہ پھیرتے، پھر نویں رکعات پڑھتے اور قعدہ کرتے، راوی نے اس طرح کی کوئی بات ذکر کی کہ آپ اللہ کی حمد کرتے، اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز (درود و رحمت) بھیجتے، اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جسے ہمیں سناتے، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1721]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کی مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ پسند فرماتا، رات میں آپ کو اٹھا دیتا۔ آپ (اٹھ کر) مسواک اور وضو فرماتے اور نو رکعات اس طرح پڑھتے کہ ان میں سے کسی کے آخر میں نہ بیٹھتے مگر آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اللہ کی حمد کرتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے اور دعائیں کرتے مگر سلام نہ پھیرتے، پھر نویں (رکعت) پڑھ کر بیٹھتے اور اللہ کی حمد و ثنا فرماتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے اور دعائیں کرتے پھر اتنی آواز سے سلام کہتے کہ ہمیں سنائی دیتا، پھر بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1721]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1316 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1722
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ لَمَّا أَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا أَخْبَرَنَا، أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ أَوْ أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: مَنْ؟ قَالَ: عَائِشَةُ، فَأَتَيْنَاهَا فَسَلَّمْنَا عَلَيْهَا وَدَخَلْنَا فَسَأَلْنَاهَا , فَقُلْتُ: أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ:" كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَجْلِسُ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ فَتِلْكَ تِسْعًا أَيْ بُنَيَّ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا".
سعد بن ہشام بن عامر کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں اس ہستی کو نہ بتاؤں یا اس ہستی کی خبر نہ دوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کو زمین والوں میں سب سے زیادہ جانتی ہے؟ میں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، تو ہم ان کے پاس آئے، اور ہم نے انہیں سلام کیا، اور ہم اندر گئے، اور اس بارے میں میں نے ان سے پوچھا، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے آپ کی مسواک اور آپ کے وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے، پھر رات کو جب اللہ تعالیٰ کو جگانا منظور ہوتا آپ کو جگا دیتا، آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے، پھر نو رکعتیں پڑھتے، سوائے آٹھویں کے ان میں سے کسی میں قعدہ نہیں کرتے، اللہ کی حمد کرتے اس کا ذکر کرتے، اور دعا مانگتے، پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہو جاتے، پھر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے تو اللہ کی حمد اور اس کا ذکر کرتے اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جسے آپ ہمیں سناتے، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، میرے بیٹے! اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوتی تھیں، لیکن جب آپ بوڑھے ہو گئے اور آپ کے جسم پر گوشت چڑھ گیا تو آپ وتر سات رکعت پڑھنے لگے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، اس طرح میرے بیٹے! یہ کل نو رکعتیں ہوتی تھیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو چاہتے کہ اس پر مداومت کریں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1722]
حضرت زرارہ بن اوفیٰ رحمہ اللہ سے منقول ہے، فرماتے ہیں: جب حضرت سعد بن ہشام بن عامر رحمہ اللہ ہمارے پاس آئے تو انہوں نے ہمیں بتایا: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر نماز کے بارے میں پوچھا۔ وہ فرمانے لگے: کیا میں تمہیں ایسی شخصیت نہ بتاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر نماز کو روئے ارض پر بسنے والے تمام لوگوں سے زیادہ جانتی ہیں؟ میں نے کہا: کون؟ فرمایا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (کیونکہ وہ آپ کی بیوی تھیں اور آپ کی خلوت کی ساتھی تھیں۔) ہم وہاں گئے، انہیں سلام کیا، ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے سوال کیا۔ میں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کی نماز کے بارے میں بتائیے۔ فرمانے لگیں: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کی مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے۔ رات کو جس وقت اللہ تعالیٰ چاہتا، آپ کو جگا دیتا۔ آپ مسواک اور وضو فرماتے، پھر نو رکعتیں اس طرح پڑھتے کہ آٹھویں رکعت کے علاوہ کسی رکعت میں تشہد کے لیے نہ بیٹھتے۔ (آٹھویں رکعت میں بیٹھ کر) اللہ تعالیٰ کی حمد و ذکر فرماتے اور دعائیں پڑھتے، پھر بغیر سلام کے اٹھ کھڑے ہوتے اور نویں رکعت پڑھ کر بیٹھتے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ذکر فرماتے اور دعائیں پڑھتے، پھر اتنی آواز سے سلام پھیرتے کہ ہمیں سنائی دیتا، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے۔ تو یہ گیارہ رکعات ہو گئیں، اے بیٹے! پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے اور آپ کو گوشت نے پکڑ لیا (آپ فربہ ہو گئے) تو سات رکعات پڑھ کر سلام پھیرتے اور بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے۔ تو اے بیٹا! یہ نو ہو گئیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز شروع فرما لیتے تو اس پر ہمیشگی اور پابندی کو پسند فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1722]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1316، 1602 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1723
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قال: أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَلَمَّا ضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے، تو جب آپ کمزور ہو گئے تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1723]
حضرت سعد بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے سنا: تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعات وتر پڑھ کر، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعت پڑھتے۔ اور جب کمزور ہو گئے تو سات رکعات وتر پڑھتے، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعت پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1723]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1652 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1724
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ بِتِسْعٍ وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعت وتر پڑھتے تھے، اور دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1724]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعات وتر پڑھتے، پھر بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1724]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16099) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1725
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قال: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ وَفَدَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ , فَسَأَلَهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِالتَّاسِعَةِ , وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" مُخْتَصَرٌ.
سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور انہوں نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے بتایا: آپ رات کو آٹھ رکعتیں پڑھتے، اور نویں رکعت کے ذریعہ اسے وتر کر لیتے، پھر آپ بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1725]
حضرت سعد بن ہشام رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ رات کو آٹھ رکعات پڑھتے، پھر نویں رکعت وتر پڑھتے اور بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1725]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1652 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1726
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَعْمَشِ أُرَاهُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1726]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو (نفل نماز) نو رکعت پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1726]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 211 (443، 444)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 181 (1360)، (تحفة الأشراف: 15951)، مسند احمد 6/100، 253 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں