🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

68. بَابُ: تَرْكِ الصَّلاَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ
باب: خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1966
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنِ ابْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَنَا فَلَا أُصَلِّي عَلَيْهِ".
ابن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے تیر کی انی سے خودکشی کر لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا میں تو میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1966]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے تیروں سے خودکشی کرلی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس کا جنازہ نہیں پڑھوں گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1966]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 36 (978)، (تحفة الأشراف: 2157)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 51 (3185) مطولاً، سنن الترمذی/الجنائز 68 (1068)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 31 (1526)، مسند احمد 5/87، 90، 91، 92، 94، 96، 97، 100، 107 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1967
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّى خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَحَسَّى سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ ثُمَّ انْقَطَعَ عَلَيَّ شَيْءٌ خَالِدٌ , يَقُولُ: كَانَتْ حَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے آپ کو کسی پہاڑ سے گرا کر مار ڈالے، تو وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش اپنے آپ کو اوپر سے نیچے گراتا رہے گا، اور جو زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالے تو وہ زہر اس کے ہاتھ میں رہے گا اسے وہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں پیتا رہے گا، اور جو شخص کسی دھار دار چیز سے اپنے آپ کو مار ڈالے (راوی کہتے ہیں: پھر کوئی چیز میرے سننے سے رہ گئی ۱؎، خالد کہہ رہے تھے:) تو اس کا لوہا اس کے ہاتھ میں ہو گا اسے وہ جہنم کی آگ میں اپنے پیٹ میں برابر گھونپتا رہے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1967]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو پہاڑ (یا کسی اور بلند مقام) سے گر کر خودکشی کرے، وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ (جہنمی پہاڑ) سے گرتا رہے گا۔ اور جس شخص نے زہر پی کر خودکشی کی تو اس کا زہر اس کے ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ اسے پیتا رہے گا۔ اور جو آدمی کسی تیز دھار آلے (تلوار، خنجر، چاقو یا چھری وغیرہ) سے خودکشی کرے تو اس کا وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں اسے اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1967]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 56 (5778)، صحیح مسلم/الإیمان 47 (109)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 11 (3872)، سنن الترمذی/الطب 7 (1044)، سنن ابن ماجہ/الطب 11 (1043)، (تحفة الأشراف: 12394)، مسند احمد 2/254، 278، 488، سنن الدارمی/الدیات 10 (2407) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ متن حدیث کا حصہ نہیں ہے بلکہ خالد سے روایت کرنے والے راوی کا کلام ہے یعنی خالد کہہ رہے تھے کہ «من قتل نفسہ بحدیدۃ» کے بعد کوئی لفظ رہ گیا ہے جسے میں سن نہیں سکا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں