سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى مَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ
باب: مقروض آدمی کی نماز جنازہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1962
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ , فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا" , قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُوَ عَلَيَّ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِالْوَفَاءِ" , قَالَ: بِالْوَفَاءِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ.
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کا ایک شخص لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو (میں نہیں پڑھتا) کیونکہ اس پر قرض ہے“، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میرے ذمہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اس کی ادائیگی کرو گے؟“ تو انہوں نے کہا: ہاں میں اس کی ادائیگی کروں گا، تب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1962]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انصاری شخص کی میت جنازے کے لیے لائی گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو (میں نہیں پڑھوں گا) اس پر تو قرض ہے۔“ میں نے عرض کیا: وہ قرض میرے ذمہ رہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو یہ ذمہ داری پوری بھی کرے گا؟“ میں نے کہا: ضرور پوری کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1962]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 69 (1069)، سنن ابن ماجہ/الکفالة 9 (2407)، (تحفة الأشراف: 12103)، مسند احمد 5/301، 302، 311، سنن الدارمی/البیوع 53 (2635) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1963
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْأَكْوَعِ، قال: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , صَلِّ عَلَيْهَا , قَالَ:" هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا؟" , قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" , قَالُوا: لَا , قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ" , قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ: صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ.
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے نبی! اس کی نماز جنازہ پڑھ دیجئیے، آپ نے پوچھا: ”کیا اس نے اپنے اوپر کچھ قرض چھوڑا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو“، تو ابوقتادہ نامی ایک انصاری نے عرض کیا: آپ اس کی نماز (جنازہ) پڑھ دیجئیے، اس کا قرض میرے ذمہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز (جنازہ) پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1963]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس کا جنازہ پڑھیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر کچھ قرض تو نہیں؟“ لوگوں نے کہا: قرض ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ادائیگی کے لیے کچھ مال چھوڑ گیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔“ انصار میں سے ایک شخص جنہیں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، نے کہا: آپ اس کا جنازہ پڑھیے، اس کا قرض میرے ذمے ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ پڑھ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1963]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحوالة 3 (2289)، والکفالة 3 (2295)، (تحفة الأشراف: 4547)، مسند احمد 4/47 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1964
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَوْمَسِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَأُتِيَ بِمَيْتٍ , فَسَأَلَ:" أَعَلَيْهِ دَيْنٌ؟" , قَالُوا: نَعَمْ، عَلَيْهِ دِينَارَانِ , قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ" قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، مَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے، چنانچہ ایک جنازہ آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ہاں، اس پر دو دینار (کا قرض) ہے، آپ نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی پر نماز جنازہ پڑھ لو“، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دونوں دینار میرے ذمہ ہیں، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتح و نصرت عطا کی، تو آپ نے فرمایا: ”میں ہر مومن پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں، جو قرض چھوڑ کر مرے (اس کی ادائیگی) مجھ پر ہے، اور جو مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1964]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے جس پر قرض ہوتا تھا۔ ایک میت آپ کے پاس لائی گئی۔ آپ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں! اس پر دو دینار قرض ہے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تم اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔“ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ دو دینار میرے ذمے ہیں۔ آپ نے جنازہ پڑھ دیا، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات دیں تو آپ نے فرمایا: ”میں ہر مومن کے لیے اس کے نفس سے بھی بڑھ کر قریبی ہوں، لہٰذا جو قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے (یعنی بیت المال کے) ذمے ہے اور جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کو ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1964]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخراج 15 (2954)، البیوع 9 (3343)، (تحفة الأشراف: 3158)، مسند احمد 3/296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1965
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تُوُفِّيَ الْمُؤْمِنُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ سَأَلَ:" هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ؟" فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنْ قَالُوا: لَا قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ" , فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن مرتا اور اس پر قرض ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: ”کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟“ اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ کہتے: ”تم اپنے ساتھی پر نماز (جنازہ) پڑھ لو“۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح و نصرت کا دروازہ کھولا، تو آپ نے فرمایا: ”میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں، تو جو وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو، تو (اس کی ادائیگی) مجھ پر ہے، اور اگر کوئی مال چھوڑ کر گیا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1965]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مسلمان فوت ہوتا اور اس کے ذمے قرض ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: ”کیا یہ مرنے والا اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ مال چھوڑ گیا ہے؟“ اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھتے، ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”تم اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔“ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات سے نوازا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ﴿النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6] میں مسلمانوں کے لیے ان کے نفوس سے بھی زیادہ قریبی ہوں، لہٰذا جو شخص مقروض فوت ہو جائے تو اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمے ہوگی اور جو شخص مال چھوڑ کر فوت ہو تو وہ مال اس کے ورثاء کو ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1965]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکفالة 5 (2298)، والنفقات 15 (2398)، صحیح مسلم/الفرائض 4 (1619)، سنن الترمذی/الجنائز 69 (1070)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 13 (2415)، (تحفة الأشراف: 15257، 15315)، مسند احمد 2/290، 453 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه