صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6ق. باب الْكَشْفِ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَنَقَلَةِ الأَخْبَارِ وَقَوْلِ الأَئِمَّةِ فِي ذَلِكَ
باب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 76
وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ: قَدْ أَكْثَرْتَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، فَمَا لَكَ لَمْ تَسْمَعْ مِنْهُ حَدِيثَ الْعَطَّارَةِ، الَّذِي رَوَى لَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ لِيَ: اسْكُتْ، فَأَنَا لَقِيتُ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، فَسَأَلْنَاهُ، فَقُلْنَا لَهُ: هَذِهِ الأَحَادِيثُ الَّتِي تَرْوِيهَا، عَنْ أَنَسٍ؟ فَقَالَ: أَرَأَيْتُمَا رَجُلًا يُذْنِبُ فَيَتُوبُ، أَلَيْسَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِ؟ قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: مَا سَمِعْتُ مِنْ أَنَسٍ، مِنْ ذَا قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا، إِنْ كَانَ لَا يَعْلَمُ النَّاسُ، فَأَنْتُمَا لَا تَعْلَمَانِ، أَنِّي لَمْ أَلْقَ أَنَسًا، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: فَبَلَغَنَا بَعْدُ أَنَّهُ يَرْوِي، فَأَتَيْنَاهُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: أَتُوبُ، ثُمَّ كَانَ بَعْدُ يُحَدِّثُ، فَتَرَكْنَاهُ،
محمود بن غیلان نے کہا: میں نے ابوداود طیالسی سے کہا: آپ نے عباد بن منصور سے بہت زیادہ روایتیں لی ہیں، پھر کیا ہوا کہ آپ نے عطارہ والی روایت جو نضر بن شمیل نے ہمارے سامنے بیان کی، ان سے نہیں سنی؟ انہوں نے مجھ سے کہا: خاموش رہو، میں اور عبدالرحمن بن مہدی زیاد بن میمون سے ملے اور اس سے پوچھتے ہوئے کہا: یہ احادیث جو تم حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہو (کیا ہیں؟) تو وہ کہنے لگا: تم دونوں دیکھو کہ ایک آدمی گناہ کرتا ہے، پھر توبہ کر لیتا ہے تو کیا اللہ اس کی توبہ قبول نہیں کرتا! کہا: ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: میں نے ان (احادیث) میں سے انس رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا، نہ کم نہ زیادہ، اگر لوگ نہیں جانتے تو (کیا) تم دونوں بھی نہیں جانتے کہ میں انس رضی اللہ عنہ سے نہیں ملا! ابوداود نے کہا: پھر ہمیں یہ خبر پہنچی کہ وہ (وہی) روایتیں بیان کرتا ہے تو میں اور عبدالرحمن اس کے پاس آئے تو وہ کہنے لگا: میں توبہ کرتا ہوں، پھر اس کے بعد بھی وہ وہی حدیثیں بیان کرتا تھا تو ہم نے اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 76]
محمود بن غیلان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابو داؤد طیالسی رحمہ اللہ سے کہا: آپ نے عباد بن منصور سے بہت سی روایات بیان کی ہیں، تو کیا وجہ ہے؟ آپ نے اس سے عطارہ کی حدیث نہیں سنی، جو ہمیں نضر بن شمیل رحمہ اللہ نے سنائی ہے؟ انہوں نے مجھ سے کہا: ”خاموش ہو جا! کیونکہ میں اور عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ دونوں زیاد بن میمون کو ملے، تو ہم نے اس سے پوچھا: یہ احادیث جو تم حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہو؟ (ان کی کیا حقیقت ہے) تو اس نے کہا: بتاؤ ایک آدمی گناہ کرتا ہے، پھر توبہ کر لیتا ہے، تو کیا اللہ اس کی توبہ قبول نہیں کر لیتا؟ ہم نے کہا: معاف کر دیتا ہے۔ اس نے کہا: میں نے ان احادیث میں سے کم یا زیادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا، اگر عام لوگوں کو علم نہیں ہے تو کیا آپ دونوں کو بھی علم نہیں ہے؟ میری حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں بعد میں خبر پہنچی کہ وہ پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتا ہے، تو میں اور عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ اس کے پاس آئے، تو اس نے کہا: میں توبہ کرتا ہوں، بعد میں وہ پھر بیان کرنے لگا، تو ہم نے اس کو چھوڑ دیا (کہ یہ تو جھوٹا آدمی ہے)۔“ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 76]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18782 و 18807)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 77
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِي، قَالَ: سَمِعْتُ شَبَابَةَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ الْقُدُّوسِ يُحَدِّثُنَا، فَيَقُولُ: سُوَيْدُ بْنُ عَقَلَةَ: قَالَ شَبَابَةُ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ الْقُدُّوسِ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ يُتَّخَذَ الرَّوْحُ عَرْضًا، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: أَيُّ شَيْءٍ هَذَا! قَالَ: يَعْنِي تُتَّخَذُ كُوَّةٌ فِي حَائِطٍ، لِيَدْخُلَ عَلَيْهِ الرَّوْحُ، قَال مُسْلِمٌ: وسَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ لِرَجُلٍ بَعْدَ مَا جَلَسَ مَهْدِيُّ بْنُ هِلَالٍ بِأَيَّامٍ: مَا هَذِهِ الْعَيْنُ الْمَالِحَةُ الَّتِي نَبَعَتْ قِبَلَكُمْ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا أَبَا إِسْمَاعِيل،
حسن حلوانی نے بیان کیا، کہا: میں نے شبابہ سے سنا (کہا: عبدالقدوس ہمارے سامنے حدیث بیان کرتا تھا اور کہتا تھا: سوید بن عقلہ) شبابہ نے کہا: میں نے عبدالقدوس سے سنا، کہتا تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”روح کو عرض“ بنانے سے منع فرمایا ہے (کہا) اس سے کہا گیا: اس کا کیا مطلب ہے؟ تو اس نے کہا: مطلب یہ ہے کہ دیوار میں سوراخ رکھا جائے تاکہ اس میں ہوا داخل ہو۔ (امام) مسلم نے کہا: میں نے عبیداللہ بن عمر قواریری سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے حماد بن زید سے سنا، وہ (مہدی بن ہلال کے علمی مجلس منعقد کرنے سے چند دن بعد) ایک آدمی سے کہہ رہے تھے: یہ نمکین چشمہ کیا ہے جو آپ کی طرف سے پھوٹا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، اے ابواسماعیل! (آپ کی بات ٹھیک ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 77]
شبابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبدالقدوس ہمیں حدیث سناتا اور راوی کا نام سوید بن غفلہ لیتا تھا اور متن یوں سناتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «الرُّوحَ عَرَضًا» (روح کو عرض بنانے) سے منع فرمایا ہے۔“ اس سے پوچھا گیا کہ یہ کیا ہے؟ یعنی اس کا مطلب کیا ہے؟ تو اس نے کہا: ہوا کے داخل ہونے کے لیے دیوار میں سوراخ یا کھڑکی رکھنا منع فرمایا ہے۔ عبید اللہ بن عمیر قواریری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حماد بن زید رحمہ اللہ کو کسی آدمی سے کہتے ہوئے سنا، جبکہ وہ شخص مہدی بن ہلال کے پاس چند روز بیٹھ چکا تھا: ”یہ تمہاری طرف پھوٹنے والا نمکین چشمہ کیسا ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں اے ابو اسماعیل! (یہ حماد بن زید رحمہ اللہ کی کنیت ہے) وہ ایسا ہی ہے، یعنی واقعی ضعیف ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 77]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (18589 و 18798)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 78
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَفَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَوَانَةَ، قَالَ: مَا بَلَغَنِي عَنِ الْحَسَنِ حَدِيثٌ، إِلَّا أَتَيْتُ بِهِ أَبَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ، فَقَرَأَهُ عَلَيَّ.
عفان نے کہا: میں نے ابوعوانہ سے سنا، کہا: مجھے حسن (بصری) سے کوئی حدیث نہ پہنچی مگر میں اسے ابان بن ابی عیاش کے پاس لے گیا تو اس نے اسے میرے سامنے پڑھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 78]
ابو عوانہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے حسن رحمہ اللہ سے جو روایت بھی پہنچی، میں وہ لے کر ابان بن عیاش رحمہ اللہ کے پاس آگیا، تو اس نے وہ مجھے (جھوٹ کے طور پر) سنا دی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 78]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19518)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 79
وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَا وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ مِنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، نَحْوًا مِنْ أَلْفِ حَدِيثٍ، قَالَ عَلِيٌّ:" فَلَقِيتُ حَمْزَةَ فَأَخْبَرَنِي، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ مَا سَمِعَ مِنْ أَبَانَ، فَمَا عَرَفَ مِنْهَا إِلَّا شَيْئًا يَسِيرًا، خَمْسَةً أَوْ سِتَّةً،
علی بن مسہر نے بیان کیا، کہا: میں نے اور حمزہ زیات نے ابان بن ابی عیاش سے تقریباً ایک ہزار احادیث سنیں۔ علی نے کہا: پھر (کچھ عرصے بعد) میں حمزہ سے ملا تو اس نے مجھے بتایا کہ اس نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ احادیث جو ابان سے سنی تھیں آپ کی خدمت میں پیش کیں۔ آپ نے ان میں بہت معمولی حصے، پانچ یا چھ حدیثوں کے سوا کسی چیز کو نہ پہچانا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 79]
علی بن مسہر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اور حمزہ زیات رحمہ اللہ نے ابان بن ابی عیاش رحمہ اللہ سے تقریباً ایک ہزار روایات سنیں۔ علی بن مسہر رحمہ اللہ کہتے ہیں: بعد میں، میں حمزہ رحمہ اللہ سے ملا، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میں نے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ابان سے سنی ہوئی احادیث پیش کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے چند ایک، پانچ یا چھ کے سوا کسی حدیث کو نہ پہچانا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 79]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18596)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 80
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ: اكْتُبْ عَنْ بَقِيَّةَ مَا رَوَى عَنِ الْمَعْرُوفِينَ، وَلَا تَكْتُبْ عَنْهُ مَا رَوَى عَنْ غَيْرِ الْمَعْرُوفِينَ، وَلَا تَكْتُبْ عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ، مَا رَوَى عَنِ الْمَعْرُوفِينَ، وَلَا عَنْ غَيْرِهِمْ،
زکریا بن عدی نے کہا: مجھ سے ابواسحاق فزاری نے کہا: بقیہ سے وہی احادیث لکھو جو اس نے معروف لوگوں سے روایت کی ہیں، وہ نہ لکھو جو اس نے غیر معروف لوگوں سے روایت کی ہیں اور اسماعیل بن عیاش سے، جو اس نے معروف لوگوں سے روایت کیں یا غیر معروف سے، کچھ نہ لکھو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 80]
زکریا بن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں، مجھ سے ابو اسحاق فزاری رحمہ اللہ نے کہا: بقیہ سے صرف وہ احادیث لکھو جو وہ معروف اور مشہور راویوں سے بیان کرتا ہے اور جو روایات وہ غیر معروف راویوں سے بیان کرتا ہے وہ نہ لکھو، اور اسماعیل بن عیاش سے کسی قسم کی روایت نہ لکھو، چاہے وہ معروف راویوں سے بیان کرتا ہو یا غیر معروف سے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 80]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في الامثال، باب: ما جاء في مثل الله علباده بعد حديث (2859) انظر ((التحفة)) برقم (18391)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 81
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ بَعْضَ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: نِعْمَ الرَّجُلُ بَقِيَّةُ، لَوْلَا أَنَّهُ كَانَ يَكْنِي الْأَسَامِيَ وَيُسَمِّي الْكُنَى، كَانَ دَهْرًا يُحَدِّثُنَا، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْوُحَاظِيِّ، فَنَظَرْنَا فَإِذَا هُوَ وَعَبْدُ الْقُدُّوسِ،
اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، کہا: میں نے عبداللہ کے اصحاب (شاگردوں) میں سے ایک سے سنا، کہا: ابن مبارک نے فرمایا: بقیہ اچھا آدمی ہے اگر یہ نہ ہوتا کہ وہ ناموں کو کنیتوں سے بدل دیتا ہے اور کنیتوں کو ناموں سے۔ وہ ایک زمانے تک ہمیں ابوسعید وحاظی سے روایتیں سناتا رہا، ہم نے اچھی طرح غور کیا تو وہ عبدالقدوس نکلا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 81]
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بقیہ رحمہ اللہ اچھے آدمی تھے، اگر وہ ناموں کی جگہ کنیت اور کنیت کی جگہ نام نہ لیتے۔ ایک عرصے تک وہ ہمیں ابو سعید وحاظی سے روایت سناتے رہے، جب ہم نے غور و فکر کیا تو معلوم ہوا کہ وہ عبدالقدوس ہے (جو ضعیف راوی ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 81]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18930)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 82
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ يُفْصِحُ بِقَوْلِهِ كَذَّابٌ، إِلَّا لِعَبْدِ الْقُدُّوسِ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ: كَذَّابٌ،
عبدالرزاق کہتے ہیں: میں نے ابن مبارک کو (ایسا کرتے) نہیں دیکھا کہ وہ کھل کر اپنی یہ بات (رائے) کہہ دیں کہ فلاں جھوٹا ہے، سوائے عبدالقدوس کے۔ میں نے انہیں خود یہ کہتے سنا کہ وہ جھوٹا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 82]
عبدالرزاق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کو کبھی عبدالقدوس کے سوا کسی کو صاف طور پر جھوٹا کہتے نہیں سنا، میں نے ان سے اس کو «كَذَّابٌ» کہتے سنا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 82]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18931)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 83
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نُعَيْمٍ، وَذَكَرَ الْمُعَلَّى بْنَ عُرْفَانَ، فَقَال: قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا ابْنُ مَسْعُودٍ بِصِفِّينَ، فَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: أَتُرَاهُ بُعِثَ بَعْدَ الْمَوْتِ؟.
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے ابونعیم سے سنا (اور انہوں نے معلی بن عرفان کا ذکر کیا) اور کہا: اس نے کہا: ہم سے ابووائل نے بیان کیا، کہا: صفین میں ابن مسعود ہمارے سامنے نکلے تو ابونعیم نے کہا: ان کے بارے میں تمہاری رائے ہے کہ وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو گئے تھے؟ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 83]
ابو نعیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ معلیٰ بن عرفان رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں ابو وائل رحمہ اللہ نے بتایا کہ جنگِ صفین کے موقع پر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے آئے۔ تو ابو نعیم رحمہ اللہ نے کہا: کیا تمہارے خیال کے مطابق وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو گئے تھے؟ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 83]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 84
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ عَفَّانَ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ، فَحَدَّثَ رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِثَبْتٍ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: اغْتَبْتَهُ؟ قَالَ إِسْمَاعِيل: مَا اغْتَابَهُ، وَلَكِنَّهُ حَكَمَ أَنَّهُ لَيْسَ بِثَبْتٍ.
عفان بن مسلم سے روایت ہے، کہا: ہم اسماعیل بن عُلیہ کے ہاں تھے تو ایک آدمی نے ایک دوسرے آدمی سے روایت (بیان) کی۔ میں نے کہا: یہ مضبوط (ثقہ کا ہم پلہ) نہیں۔ تو اس آدمی نے کہا: تم نے اس کی غیبت کی ہے۔ اسماعیل کہنے لگے: انہوں نے اس کی غیبت نہیں کی بلکہ حکم (فیصلہ) بیان کیا ہے وہ ثبت نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 84]
عفان بن مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم اسماعیل بن علیہ رحمہ اللہ کی مجلس میں حاضر تھے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص سے حدیث بیان کی تو میں نے کہا: یہ تو ثقہ اور قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ اس نے کہا: تم نے اس کی غیبت کی ہے۔ اسماعیل رحمہ اللہ نے کہا: اس نے غیبت نہیں کی، لیکن حقیقت بتائی ہے کہ وہ ثقہ نہیں ہے (اور راوی کی اصلیت ظاہر کرنا غیبت نہیں ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 84]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18437)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 85
وحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الَّذِي يَرْوِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَقَالَ: لَيْسَ بِثِقَةٍ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، فَقَالَ: لَيْسَ بِثِقَةٍ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، فَقَالَ: لَيْسَ بِثِقَةٍ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ شُعْبَةَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، فَقَالَ: لَيْسَ بِثِقَةٍ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ، فَقَالَ: لَيْسَ بِثِقَةٍ، وَسَأَلْتُ مَالِكًا، عَنْ هَؤُلَاءِ الْخَمْسَةِ، فَقَالَ: لَيْسُوا بِثِقَةٍ، فِي حَدِيثِهِمْ وَسَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ آخَرَ نَسِيتُ اسْمَهُ، فَقَالَ: هَلْ رَأَيْتَهُ فِي كُتُبِي؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: لَوْ كَانَ ثِقَةً، لَرَأَيْتَهُ فِي كُتُبِي
بشر بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے امام مالک بن انس سے محمد بن عبدالرحمن کے بارے میں پوچھا جو سعید بن مسیب سے احادیث روایت کرتا ہے تو انہوں نے کہا: وہ ثقہ نہیں۔ میں نے مالک بن انس سے ابوحویرث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ ثقہ نہیں۔ (پھر) میں نے ان سے اس شعبہ کے بارے میں سوال کیا جس سے ابن ابی ذئب روایت کرتے ہیں تو فرمایا: وہ ثقہ نہیں۔ میں نے ان سے صالح مولیٰ توامہ کے بارے میں سوال کیا تو کہا: ثقہ نہیں۔ میں نے ان سے حرام بن عثمان کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: ثقہ نہیں۔ میں نے امام مالک سے ان پانچوں کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا: یہ سب حدیث کے بیان کرنے میں ثقہ نہیں۔ میں نے ان سے ایک اور شخص کے بارے میں پوچھا جس کا (اب) میں نام بھول گیا ہوں تو انہوں نے کہا: کیا تم نے میری کتابوں میں اس کا نام دیکھا ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں۔ فرمایا: اگر ثقہ ہوتا تو تم اس کا ذکر میری کتابوں میں دیکھتے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 85]
بشر بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے محمد بن عبدالرحمن، جو حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کرتا ہے، کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: ”وہ قابلِ اعتماد نہیں ہے۔“ اور میں نے ان سے توامہ کے آزاد کردہ غلام صالح کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”وہ ثقہ نہیں ہے۔“ میں نے ان سے ابو الحویرث (عبدالرحمن بن معاویہ) کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: ”وہ معتبر نہیں ہے۔“ میں نے ان سے اس شعبہ کے بارے میں پوچھا، جس سے ابن ابی ذئب (محمد بن عبدالرحمن بن مغیرہ القرشی) روایت کرتے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا: ”وہ قابلِ اعتماد نہیں ہے۔“ اور میں نے ان سے حرام بن عثمان کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”وہ قابلِ اعتماد نہیں۔“ میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے ان پانچ کے بارے میں دریافت کیا، چنانچہ انہوں نے ان سب کے بارے میں فرمایا: ”وہ حدیث بیان کرنے میں معتبر نہیں ہیں۔“ اور میں نے ان سے ایک اور آدمی کے بارے میں پوچھا جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا، تو انہوں نے جواب دیا: ”کیا تم نے اس سے میری کتابوں میں روایت دیکھی ہے؟“ میں نے کہا: نہیں! فرمایا: ”اگر وہ ثقہ ہوتا تو اس سے میری کتابوں میں روایت دیکھ لیتے۔“ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 85]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19249)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة