صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6ق. باب الْكَشْفِ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَنَقَلَةِ الأَخْبَارِ وَقَوْلِ الأَئِمَّةِ فِي ذَلِكَ
باب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 46
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَلْقَمَةُ: قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فِي سَنَتَيْنِ، فَقَالَ الْحَارِثُ: الْقُرْآنُ هَيِّنٌ، الْوَحْيُ أَشَدُّ،
قتیبہ بن سعید، جریر، مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی، کہا: علقمہ نے کہا: میں نے دو سال میں قرآن پڑھا (تدبر کرتے ہوئے ختم کیا)۔ تو حارث نے کہا: قرآن آسان ہے، وحی اس سے زیادہ مشکل ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 46]
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ علقمہ رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے قرآن دو سال پڑھا، تو حارث نے کہا: قرآن آسان ہے، وحی بہت مشکل اور بھاری ہے“ (یعنی: وہ راز کی باتیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بتائیں اور انہیں اپنا وصی بنایا)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 46]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (000)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 47
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ الْحَارِثَ، قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْقُرْآنَ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ، وَالْوَحْيَ فِي سَنَتَيْنِ، أَوَ قَالَ: الْوَحْيَ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ وَالْقُرْآنَ فِي سَنَتَيْنِ،
حجاج بن شاعر، احمد بن یونس نے ابراہیم نخعی سے روایت کی کہ حارث (اعور) نے کہا: میں نے قرآن تین سال میں سیکھا اور وحی دو سال میں (یا کہا): وحی تین سال میں اور قرآن دو سال میں۔ لغت میں وحی کے کئی معانی ہیں، مثلاً: اشارہ کرنا، کتابت، الہام اور خفیہ کلام وغیرہ، مگر اسلامی اصطلاح میں وحی اللہ کی طرف سے مقررہ طریقوں میں سے کسی طریقے سے، اپنے رسول کی طرف کلام، پیغام وغیرہ بھجوانا ہے۔ حارث کی اس بات سے اسلامی اصطلاحات کے معاملے میں اس کی جہالت کا پتہ چلتا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 47]
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حارث نے کہا: میں نے قرآن مجید تین سال میں سیکھا اور وحی دو سال میں، یا کہا کہ وحی تین سال میں سیکھی اور قرآن دو سال میں (یہی قول علقمہ رحمہ اللہ کی کہی ہوئی بات کے مطابق ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 47]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18399)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 48
وحَدَّثَنِي حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ وَالْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ الْحَارِثَ، اتُّهِمَ.
منصور اور مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی کہ حارث متہم راوی ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 48]
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: حارث پر جھوٹ بولنے کا الزام ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 48]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18397)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 49
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، قَالَ: سَمِعَ مُرَّةُ الْهَمْدَانِيُّ، مِنَ الْحَارِثِ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ: اقْعُدْ بِالْبَابِ، قَالَ: فَدَخَلَ مُرَّةُ، وَأَخَذَ سَيْفَهُ، قَالَ: وَأَحَسَّ الْحَارِثُ بِالشَّرِّ فَذَهَبَ،
حمزہ زیات سے روایت ہے، کہا: مرہ ہمدانی نے حارث سے کوئی بات سنی تو اس سے کہا: تم دروازے ہی پر بیٹھو (اندر نہ آؤ)۔ پھر وہ (گھر میں) داخل ہوئے اور اپنی تلوار اٹھا لی تو حارث نے برا انجام محسوس کر لیا اور چل دیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 49]
حمزہ زیات رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مرہ ہمدانی رحمہ اللہ نے حارث سے کوئی بات سنی، تو اسے کہا: ”دروازے پر بیٹھو (میں ابھی اندر ہو کر آتا ہوں)“ چنانچہ وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور اپنی تلوار اٹھا لی (تاکہ حارث کی گردن اڑا دیں)، حارث نے برائی کو بھانپ لیا (سمجھ گیا کہ وہ اچھے ارادے سے اندر نہیں گئے) تو بھاگ گیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 49]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18597 و 19429)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 50
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيد، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: قَالَ لَنَا إِبْرَاهِيمُ إِيَّاكُمْ وَالْمُغِيرَةَ بْنَ سَعِيدٍ، وَأَبَا عَبْدِ الرَّحِيمِ، فَإِنَّهُمَا كَذَّابَانِ،
(عبداللہ) بن عون سے روایت ہے، کہا: ابراہیم (نخعی) نے ہم سے کہا: تم لوگ مغیرہ بن سعید اور ابوعبدالرحیم سے بچ کر رہو، وہ کذّاب ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 50]
ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں ہم سے ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: اپنے آپ کو مغیرہ بن سعید اور ابو عبد الرحیم سے دور رکھو! کیونکہ یہ دونوں جھوٹے ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 50]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18398)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 51
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: كُنَّا نَأْتِي أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ، وَنَحْنُ غِلْمَةٌ أَيْفَاعٌ، فَكَانَ يَقُولُ لَنَا لَا تُجَالِسُوا الْقُصَّاصَ، غَيْرَ أَبِي الأَحْوَصِ: وَإِيَّاكُمْ وَشَقِيقًا، قَالَ: وَكَانَ شَقِيقٌ هَذَا، يَرَى رَأْيَ الْخَوَارِجِ، وَلَيْسَ بِأَبِي وَائِلٍ،
ہمیں عاصم نے حدیث بیان کی، کہا: ہم بالکل نو عمر لڑکے تھے جو ابوعبدالرحمن سلمی کے پاس حاضر ہوتے تھے، وہ ہم سے کہا کرتے تھے: ابواحوص کے سوا دوسرے قصہ گوؤں (واعظوں) کی مجالس میں مت بیٹھو اور شقیق سے بچ کر رہو۔ شقیق خوارج کا نقطہ نظر رکھتا تھا، یہ ابووائل نہیں (بلکہ شقیق ضبی ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 51]
عاصم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہم ابو عبدالرحمن سلمیٰ رحمہ اللہ کے پاس آتے تھے جبکہ ہم بالغ نوجوان تھے، تو وہ ہمیں کہا کرتے تھے: ”ابو الاحوص رحمہ اللہ کے سوا قصہ خوانوں کے پاس نہ بیٹھا کرو! اور اپنے آپ کو شقیق سے بچاؤ اور اس شقیق کے نظریات خارجیوں والے تھے اور یہ شقیق ابو وائل شقیق بن سلمہ اسدی نہیں ہے (کیونکہ وہ تو کبار تابعین میں سے ہے)۔“ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 51]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18897)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 52
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرًا، يَقُولُ:" لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ يَزِيدَ الْجُعْفِيَّ، فَلَمْ أَكْتُبْ عَنْهُ، كَانَ يُؤْمِنُ بِالرَّجْعَةِ.
جریر کہتے ہیں: میں جابر بن یزید جعفی سے ملا تو میں نے اس سے حدیث نہ لکھی، وہ رجعت پر ایمان رکھتا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 52]
جریر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں جابر بن یزید جعفی سے ملا، لیکن میں نے اس سے حدیثیں نہیں لکھیں، کیونکہ وہ رجعت پر ایمان رکھتا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 52]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18476)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 53
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ، قَبْلَ أَنْ يُحْدِثَ مَا أَحْدَثَ.
مسعر نے کہا: ہم سے جابر بن یزید (جعفی) نے ان بدعتوں سے پہلے، جو اس نے گھڑیں، حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 53]
مسعر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”جابر بن یزید نے ہمیں احادیث سنائیں، ان بدعات سے پہلے جو اس نے ایجاد کر لی ہیں۔“ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 53]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسل - انظر ((التحفة)) برقم (19437)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 54
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَحْمِلُونَ، عَنْ جَابِر، قَبْلَ أَنْ يُظْهِرَ مَا أَظْهَرَ، فَلَمَّا أَظْهَرَ مَا أَظْهَرَ، اتَّهَمَهُ النَّاسُ فِي حَدِيثِهِ، وَتَرَكَهُ بَعْضُ النَّاسِ، فَقِيلَ لَهُ: وَمَا أَظْهَرَ؟ قَالَ: الإِيمَانَ بِالرَّجْعَةِ،
سفیان نے کہا: جابر نے جس (عقیدے) کا اظہار کیا اس کے اظہار سے پہلے لوگ اس سے حدیث لیتے تھے، جب اس نے اس کا اظہار کر دیا تو لوگوں نے اسے اس کی (بیان کردہ) حدیث کے بارے میں مطعون کیا اور بعض نے اسے چھوڑ دیا۔ ان سے پوچھا گیا: اس نے کس چیز کا [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 54]
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: لوگ جابر سے احادیث لے لیتے تھے، جب کہ ابھی اس نے اپنی بدعت کا اظہار نہیں کیا تھا، تو جب اس نے اپنی بدعت (بد اعتقادی) نمایاں کر دی، لوگوں نے اس پر حدیث میں جھوٹ بولنے کا الزام لگایا، اور بعض لوگوں نے اسے چھوڑ دیا۔ سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: اس نے کس چیز کا اظہار کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: وہ رجعت پر ایمان لے آیا تھا۔ (اور اس کی حمایت میں حدیثیں وضع کرنا شروع کر دی تھیں) [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 54]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18774)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 55
وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، وَأَخُوهُ، أنهما سمعا الجراح بن مليح، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: عِنْدِي سَبْعُونَ أَلْفَ حَدِيثٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهَا.
جراح بن ملیح کہتے ہیں: میں نے جابر بن یزید (جعفی) کو یہ کہتے سنا: میرے ابوجعفر (محمد باقر بن علی بن حسین بن علی) کی ستر ہزار حدیثیں ہیں جو سب کی سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (روایت کی گئی) ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 55]
جراح بن ملیح رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے جابر کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”مجھے ابو جعفر رحمہ اللہ (امام محمد باقر) سے ستر ہزار احادیث یاد ہیں۔ وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 55]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18475)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة