صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6ق. باب الْكَشْفِ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَنَقَلَةِ الأَخْبَارِ وَقَوْلِ الأَئِمَّةِ فِي ذَلِكَ
باب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 86
وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، وَكَانَ مُتَّهَمًا،
ہم حجاج نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن ابی ذئب نے شرحبیل بن سعد کے حوالے سے حدیث بیان کی اور وہ متہم تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 86]
حجاج رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں ابن ابی ذئب رحمہ اللہ نے شرحبیل بن سعد سے روایات سنائیں، لیکن وہ حدیث میں «مُتَّہَم» تھا، یعنی اس پر کذب بیانی کا الزام ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 86]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19316)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 87
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاق الطَّالَقَانِيّ َ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: لَوْ خُيِّرْتُ بَيْنَ أَنْ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ أَنْ أَلْقَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَرَّرٍ، لَاخْتَرْتُ أَنْ أَلْقَاهُ، ثُمَّ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ كَانَتْ بَعْرَةٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ،
ابواسحاق طالقانی کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مبارک سے سنا، کہہ رہے تھے: (ایک وقت تھا) اگر مجھے اختیار دیا جاتا کہ جنت میں داخل ہوں یا عبداللہ بن محرر سے ملوں تو میں اس کا انتخاب کرتا کہ پہلے میں اس سے مل لوں پھر جنت میں جاؤں گا، پھر جب میں نے اسے دیکھ لیا تو اس کے مقابلے میں ایک مینگنی بھی مجھے زیادہ محبوب تھی۔ طالقانی کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مبارک سے سنا، کہہ رہے تھے: (ایک وقت تھا) اگر مجھے اختیار دیا جاتا کہ جنت میں داخل ہوں یا عبداللہ بن محرر سے ملوں تو میں اس کا انتخاب کرتا کہ پہلے میں اس سے مل لوں پھر جنت میں جاؤں گا، پھر جب میں نے اسے دیکھ لیا تو اس کے مقابلے میں ایک مینگنی بھی مجھے زیادہ محبوب تھی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 87]
حضرت ابن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے عبداللہ بن محرر سے ملنے کا اس قدر اشتیاق تھا کہ اگر مجھے یہ اختیار دیا جاتا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ یا عبداللہ بن محرر سے مل لو، تو میں یہ پسند کرتا کہ پہلے اس سے ملوں پھر جنت میں داخل ہوں، لیکن جب میں نے اس کو دیکھا تو میرے نزدیک مینگنی کی اس سے زیادہ قدر تھی (یعنی جب اس قدر شوق اور عقیدت کے بعد ملاقات کا موقع ملا، تو وہ انتہائی نکما نکلا)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 87]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18932)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 88
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا وَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أُنَيْسَةَ: لَا تَأْخُذُوا عَنْ أَخِي،
ولید بن صالح نے بیان کیا، کہا: ابواسحاق نے کہا: عبیداللہ بن عمرو نے کہا: زید، یعنی ابن ابی انیسہ نے کہا: میرے بھائی (یحییٰ بن ابی انیسہ) سے روایت نہ لو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 88]
عبید اللہ بن عمرو رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، زید رحمہ اللہ یعنی ابن ابی انیسہ نے کہا: میرے بھائی سے روایت نہ لو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 88]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18667)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 89
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ الْوَابِصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ يَحْيَي بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ كَذَّابًا.
عبداللہ بن جعفر رقی نے عبیداللہ بن عمرو کے حوالے سے بیان کیا، کہا: یحییٰ بن ابی انیسہ جھوٹا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 89]
عبید اللہ بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں: یحییٰ بن انیسہ جھوٹا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 89]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18994)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 90
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: ذُكِرَ فَرْقَد عِنْدَ أَيُّوبَ، فَقَالَ: إِنَّ فَرْقَدًا، لَيْسَ صَاحِبَ حَدِيثٍ،
حماد بن زید سے روایت ہے، کہا: ایوب سختیانی کے سامنے فرقد کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: فرقد حدیث (کی مہارت رکھنے) والا نہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 90]
حماد بن زید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایوب رحمہ اللہ کے سامنے فرقد (سخی، عابد، زاہد) کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: وہ حدیث کا اہل نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 90]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18449)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 91
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، ذُكِرَ عِنْدَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيُّ، فَضَعَّفَهُ جِدًّا، فَقِيلَ لِيَحْيَى: أَضْعَفُ مِنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَرْوِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْر ٍ،
مجھ سے عبدالرحمن بن بشر عبدی نے بیان کیا، کہا: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے سنا، جب ان کے سامنے محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر لیثی کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے اسے انتہائی ضعیف قرار دیا۔ (امام) یحییٰ سے کہا گیا: ہاں۔ پھر کہا: میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایک انسان بھی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت کر سکتا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 91]
عبدالرحمن بن بشر عبدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ کے سامنے محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر لیثی کا ذکر کیا گیا، تو انہوں نے اسے بہت ضعیف قرار دیا۔ یحییٰ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا وہ یعقوب بن عطاء سے بھی زیادہ ضعیف ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! پھر کہا: میں نہیں سمجھتا کہ کوئی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت کرتا ہو گا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 91]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19539)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 92
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، ضَعَّفَ حَكِيمَ بْنَ جُبَيْرٍ وَعَبْدَ الأَعْلَى وَضَعَّفَ يَحْيَى مُوسَى بْنَ دِينَارٍ، قَالَ: حَدِيثُهُ رِيحٌ وَضَعَّفَ مُوسَى بْنَ دِهْقَانَ وَعِيسَى بْنَ أَبِي عِيسَى الْمَدَنِيّ،
بشر بن حکم نے بیان کیا، کہا: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے سنا، انہوں نے حکیم بن جبیر اور عبدالاعلیٰ کو ضعیف قرار دیا اور (اسی طرح) یحییٰ نے موسیٰ بن دینار کو بھی ضعیف قرار دیا (اور) کہا: اس کی (بیان کردہ) حدیث ہوا (جیسی) ہے اور موسیٰ بن دہقان اور عیسیٰ بن ابی عیسیٰ مدنی کو (بھی) ضعیف قرار دیا۔ کہا: اور میں نے حسن بن عیسیٰ سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھ سے ابن مبارک نے فرمایا: تم جب جریر کے پاس پہنچو تو تین (راویوں) کی احادیث کے سوا اس کا سارا علم لکھ لینا۔ عبیدہ بن معتب، سری بن اسماعیل اور محمد بن سالم کی احادیث اس سے نہ لکھنا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92]
بشر بن حکم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ سے سنا، انہوں نے حکیم بن جبیر اور عبدالاعلیٰ کو ضعیف قرار دیا، اور یحییٰ بن موسیٰ کی تضعیف کی اور فرمایا: اس کی حدیث «رِيحٌ» ”ہوا“ ہے، یعنی اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اور انہوں نے موسیٰ بن دہقان اور عیسیٰ ابی عیسیٰ مدنی کو بھی ضعیف قرار دیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B1
قََالَ: وَسَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عِيسَى، يَقُولُ: قَالَ لِي ابْنُ الْمُبَارَكِ: إِذَا قَدِمْتَ عَلَى جَرِيرٍ، فَاكْتُبْ عِلْمَهُ كُلَّهُ، إِلَّا حَدِيثَ ثَلَاثَةٍ لَا تَكْتُبْ، حَدِيثَ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ، وَالسَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيل، وَمُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ،
حسن بن عیسیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے کہا: جب تم جریر رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہو، تو ان کا تمام علم (احادیث) لکھ لینا، مگر تین راویوں عبیدہ بن معتب، سری بن اسماعیل اور محمد بن سالم کی روایات نہ لکھنا (کیونکہ یہ تینوں ضعیف اور متروک راوی ہیں)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B1]
ترقیم فوادعبدالباقی:
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 92B2
قَالَ مُسْلِم وَأَشْبَاهُ: مَا ذَكَرْنَا مِنْ كَلَامِ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مُتَّهَمِي رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَإِخْبَارِهِمْ، عَنْ مَعَايِبِهِمْ كَثِيرٌ يَطُولُ الْكِتَابُ بِذِكْرِهِ، عَلَى اسْتِقْصَائِهِ، وَفِيمَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ لِمَنْ تَفَهَّمَ، وَعَقَلَ مَذْهَبَ الْقَوْمِ، فِيمَا قَالُوا مِنْ ذَلِكَ، وَبَيَّنُوا
امام مسلم رحمہ اللہ نے فرمایا: اور اسی کے مانند ہے جو ہم نے متہم راویوں کے بارے میں اہل حدیث کا کلام ذکر کیا ہے اور ان کے عیوب بہت زیادہ ہیں جن کے بیان کرنے سے کتاب لمبی ہو جائے گی اور جس قدر ہم نے بیان کر دیا ہے، وہ اس شخص کے لیے کافی ہے جو اس قوم کا مذہب سمجھ بوجھ جائے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B2]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B3
وَإِنَّمَا أَلْزَمُوا أَنْفُسَهُمُ الْكَشْفَ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ، وَنَاقِلِي الأَخْبَارِ، وَأَفْتَوْا بِذَلِكَ حِينَ سُئِلُوا لِمَا فِيهِ مِنْ عَظِيمِ الْخَطَرِ، إِذْ الأَخْبَارُ فِي أَمْرِ الدِّينِ، إِنَّمَا تَأْتِي بِتَحْلِيلٍ، أَوْ تَحْرِيمٍ، أَوْ أَمْرٍ، أَوْ نَهْيٍ، أَوْ تَرْغِيبٍ، أَوْ تَرْهِيبٍ، فَإِذَا كَانَ الرَّاوِي لَهَا لَيْسَ بِمَعْدِنٍ لِلصِّدْقِ وَالأَمَانَةِ، ثُمَّ أَقْدَمَ عَلَى الرِّوَايَةِ عَنْهُ مَنْ قَدْ عَرَفَهُ، وَلَمْ يُبَيِّنْ مَا فِيهِ لِغَيْرِهِ مِمَّنْ جَهِلَ مَعْرِفَتَهُ، كَانَ آثِمًا بِفِعْلِهِ ذَلِكَ غَاشًّا لِعَوَامِّ الْمُسْلِمِينَ، إِذْ لَا يُؤْمَنُ عَلَى بَعْضِ مَنْ سَمِعَ تِلْكَ الأَخْبَارَ، أَنْ يَسْتَعْمِلَهَا، أَوْ يَسْتَعْمِلَ بَعْضَهَا، وَلَعَلَّهَا، أَوْ أَكْثَرَهَا أَكَاذِيبُ لَا أَصْلَ لَهَا، مَعَ أَنَّ الأَخْبَارَ الصِّحَاحَ مِنْ رِوَايَةِ الثِّقَاتِ وَأَهْلِ الْقَنَاعَةِ، أَكْثَرُ مِنْ أَنْ يُضْطَرَّ إِلَى نَقْلِ مَنْ لَيْسَ بِثِقَةٍ، وَلَا مَقْنَعٍ،
اور حدیثوں کے اماموں نے راویوں کا عیب کھول دینا ضروری سمجھا اور اس بات کا فتویٰ دیا جب ان سے پوچھا گیا، اس لیے کہ یہ بڑا اہم کام ہے؛ کیونکہ دین کی بات جب نقل کی جائے گی تو وہ کسی امر کے حلال ہونے کے لیے ہو گی یا حرام ہونے کے لیے، یا اس میں کسی بات کا حکم ہو گا یا کسی بات کی ممانعت ہو گی، یا کسی کام کی طرف رغبت دلائی جائے گی یا کسی کام سے ڈرایا جائے گا۔ بہرحال جب راوی سچا اور امانت دار نہ ہو پھر اس سے کوئی روایت کرے جو اس کے حال کو جانتا ہو اور وہ حال دوسرے سے بیان نہ کرے جو نہ جانتا ہو، تو وہ گنہگار ہو گا اور عام مسلمانوں کو دھوکا دینے والا ہو گا۔ اس لیے کہ بعض لوگ ان حدیثوں کو سنیں گے اور ان سب پر یا بعض پر عمل کریں گے اور شاید وہ سب یا ان میں سے اکثر جھوٹی ہوں (اور بعض نسخوں میں یہ ہے کہ ان میں کم یا بہت جھوٹی ہوں) جن کی اصل نہ ہو، حالانکہ ثقہ لوگوں کی صحیح حدیثیں، جن کی روایت پر قناعت ہو سکتی ہے، کیا کم ہیں کہ بے اعتبار اور جن کی روایت پر قناعت نہیں ہو سکتی ان کی روایتوں کی احتیاج پڑے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B3]
ترقیم فوادعبدالباقی: