مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(عید کے روزوں کی ممانعت اور قربانی کا گوشت کھانا)
حدیث نمبر: 8
حَدَّثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدٍ ، يَقُولُ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَبَدَأَ بِالصَّلاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، وَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ الأَضْحَى , فَأَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الأَضْحَى فَكُلُوا فِيهِ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ" . ثُمَّ ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ جُمُعَةٍ , فَبَدَأَ بِالصَّلاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اجْتَمَعَ فِيهِ عِيدَانِ لِلْمُسْلِمِينَ، فَمَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي، فَأَحَبَّ أَنْ يَذْهَبَ فَقَدْ أَذِنَّا لَهُ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَمْكُثَ فَلْيَمْكُثْ" . ثُمَّ ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَبَدَأَ بِالصَّلاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، قَالَ: " لا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ مِنْ لَحْمِ نُسُكِهِ فَوْقَ ثَلاثٍ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّهُمْ يَرْفَعُونَ هَذِهِ الْكَلِمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ سُفْيَانُ: لا أَحْفَظُهَا مَرْفُوعَةً وَهِيَ مَنْسُوخَةٌ.
ابوعبید بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید کی نماز میں شریک ہوا، انہوں نے خطبہ دینے سے پہلے نماز ادا کی پھر یہ بات بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو دنوں کا روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ عیدالفطر کا دن اور عید الاضحیٰ کا دن، جہاں تک عید الفطر کے دن کا تعلق ہے، تو یہ ایک ایسا دن ہے، جب تم روزے رکھنے ختم کر دیتے ہو، تو اس دن تم کھاؤ پیو گے۔ جہاں تک عید الاضحیٰ کے دن کا تعلق ہے، تو اس دن تم اپنی قربانی کا گوشت کھاؤ۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں عید کی نماز میں شریک ہوا تو اس دن جمعہ بھی تھا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز ادا کی پھر یہ بات بیان کی: آج وہ دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے دو عیدیں اکٹھی کر دی ہیں، تو یہاں نواحی علاقوں میں رہنے والے جو لوگ موجود ہیں ان میں سے اگر کوئی شخص واپس جانا چاہے، تو ہم اسے اجازت دیتے ہیں اور جو شخص ٹھہرنا چاہے، وہ ٹھہر جائے۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں عید کی نماز میں شریک ہوا تو انہوں نے خطبے سے پہلے نماز ادا کی اور یہ بات ارشاد فرمائی: کوئی بھی شخص اپنی قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ ہرگز نہ کھائے۔
امام ابوبکر حمیدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: محدثین نے تو یہ کلمات، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ”مرفوع“ حدیث کے طور پر روایت کیے ہیں، تو سفیان بولے: میری یاداشت کے مطابق یہ روایت ”مرفوع“ حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے۔ ویسے بھی یہ روایت ”منسوخ“ ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 8]
امام ابوبکر حمیدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: محدثین نے تو یہ کلمات، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ”مرفوع“ حدیث کے طور پر روایت کیے ہیں، تو سفیان بولے: میری یاداشت کے مطابق یہ روایت ”مرفوع“ حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے۔ ویسے بھی یہ روایت ”منسوخ“ ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 8]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 5571، 5572، 5573، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1137، ومالك فى «الموطأ» برقم: 613، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2802، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2416، والترمذي فى «جامعه» برقم: 771، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1722، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5393، 5936، وأحمد فى «مسنده» برقم: 165، 229، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 150، 232 وابن حبان: 3600»
(حجر اسود کا بوسہ اور اس کی حقیقت کی وضاحت)
حدیث نمبر: 9
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَرْجِسَ ، يَقُولُ: رَأَيْتُ الأُصَيْلِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى الْحَجَرَ الأَسْوَدَ فَقَبَّلَهُ، ثُمَّ قَالَ:" وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لا تَضُرُّ وَلا تَنْفَعُ، وَلَوْلا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ" .
عبداللہ بن سرجس بیان کرتے ہیں: میں نے ”آگے سے کم بالوں والے“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ حجر اسود کے پاس آئے انہوں نے اس کا بوسہ لیا پھر وہ بولے: ”اللہ کی قسم! میں یہ بات جانتا ہوں کہ تم ایک پتھر ہو تم کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہیں بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا، تو میں تمہیں بوسہ نہ دیتا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 9]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري: 1597، ومسلم: 1270، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3821، 3822، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2711، 2714، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1678، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2936، 2937، 2938، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3904، 3905، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1873، والترمذي فى «جامعه» برقم: 860، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1906، 1907، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2943، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9311، 9312، 9315، 9369، وأحمد فى «مسنده» برقم: 100، 133، وأبو يعلى الموصلي فى «مسنده» برقم: 189»
(پیاز لہسن کی بو ختم کرنے اور بقیع کی ہدایت)
حدیث نمبر: 10
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا يَحْيَى بْنُ صَبِيحٍ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي لأَحْسَبُ أَنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ يَعْنِي: خَبِيثَتَيْنِ الْبَصَلَ وَالثُّومَ، فَإِنْ كُنْتُمْ لا بُدَّ فَاعِلِينَ، فَاقْتُلُوهُمَا بِالنُّضْجِ ثُمَّ كُلُوهُمَا،" فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِدُ رِيحَهُ مِنَ الرَّجُلِ , فَيَأْمُرُ بِهِ , فَيَخْرُجُ إِلَى الْبَقِيعِ" .
معدان بن ابوطلحہ الیعمری سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم لوگ ان دو درختوں۔ (سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مراد، بو دار درخت پیاز اور لہسن تھے) کی پیدوار کھاتے ہو۔ اگر تم نے ضرور ایسا کرنا ہے تو تم پکا کر ان کی بو کو ختم کر دو، پھر انہیں کھاؤ، کیونکہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ اگر آپ کو اس کی بو محسوس ہوتی تو آپ اس کے بارے میں حکم دیتے تھے، تو اسے ”بقیع“ کی طرف نکال دیا جاتا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 10]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم 567، 1617، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2091 والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 707، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 789، 6648، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5144، 12399، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 184، 256»
(سند کے فرق سے بو دار چیزوں کی ہدایت)
حدیث نمبر: 11
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا حُصَيْنٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِثْلَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ حُصَيْنٌ مَعْدَانَ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے اس میں حصین نامی راوی نے معدان نامی راوی کا تذکرہ نہیں کیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 11]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وانظر حديث سابق، وحصين هو ابن عبدالرحمن»
(بیع صرف اور دست بدست لین دین کا شرعی حکم)
حدیث نمبر: 12
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَوَّلا قَبْلَ أَنْ نَلْقَى الزُّهْرِيَّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ: أَتَيْتُ بِمِائَةِ دِينَارٍ أَبْغِي بِهَا صَرْفًا، فَقَالَ طَلْحَةُ: عِنْدَنَا صَرْفٌ انْتَظِرْ يَأْتِي خَازِنُنَا مِنَ الْغَابَةِ، وَأَخَذَ مِنِّي الْمِائَةَ دِينَارٍ، فَقَالَ لِي عُمَرُ : لا تُفَارِقْهُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءَ هَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلا هَاءَ هَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلا هَاءَ هَاءَ" فَلَمَّا جَاءَ الزُّهْرِيُّ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْكَلامَ. وَسَمِعْتُ وَسَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ" . قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا أَصَحُّ حَدِيثٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا يَعْنِي: فِي الصَّرْفِ.
سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک سو دینار لے کر آیا، میں ان کے ذریعے ”بیع صرف“ کرنا چاہتا تھا، تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بولے: ہم ”بیع صرف“ کرنا چاہتے ہیں، تم انتظار کرو کہ ہمارا خزانچی ”غابہ“ سے آ جائے۔ انہوں نے مجھ سے ایک سو دینار وصول کر لئے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: تم اس سے الگ نہ ہونا، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ”چاندی کے عوض میں سونے کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ گندم کے عوض گندم کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ جو کے عوض جو کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ کھجور کے عوض کھجور کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔“ راوی کہتے ہیں: جب زہری آئے، تو انہوں نے اس کلام کو نقل نہیں کیا۔ ویسے میں نے زہری کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مالک بن اوس کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”چاندی کے عوض میں سونے کا لین دین سود ہے، ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ گندم کے عوض گندم کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ جو کے عوض جو کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ کھجور کے عوض کھجور کا لین دین سود ہے مسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔“ حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نے یہ بات بیان کی ہے اس بارے میں منقول احادیث میں یہ روایت سب سے زیادہ مستند ہے۔ سفیان کی مراد یہ تھی کہ ”بیع صرف“ جو روایت منقول ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 12]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2134، 2170، 2174، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1586، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4572، 4586، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6105، 6120، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3348، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1243، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2620، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2253، 2259، 2260، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10585، 10601، وأحمد فى «مسنده» برقم: 164، 244، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 149، 208، 209، 234، والطبراني فى «الصغير» برقم: 178»
(شراب کی فروخت پر لعنت اور حرام چیز کی ممانعت)
حدیث نمبر: 13
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي طَاوُس , أنهٌ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا، فَقَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا" يَعْنِى: أَذَابُوهَا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب فروخت کی ہے، تو وہ بولے: اللہ تعالیٰ سمرہ کو برباد کرے، کیا اس کو اس بات کا پتہ نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے کہ جب ان کے لیے چربی کو حرام قرار دیا گیا، تو انہوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا۔“ یعنی انہوں نے اسے پگھلا دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 13]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2223، 3460، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1582، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6252، 6253، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4268، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4569، 11107، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2150، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3383، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11158، 17426، 18806، وأحمد فى «مسنده» برقم: 172، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 200»
(مال فے میں شراب خنزیر کی قیمت کی ممانعت)
حدیث نمبر: 14
حَدَّثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: حَدَّثنا مِسْعَرٌ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي فُلانٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ بِيَدِهِ عَلَى الْمِنْبَرِ هَكَذَا يَعْنِي يُحَرِّكُهَا يَمِينًَا وَشِمَالا: عُوَيْمِلٌ لَنَا بِالْعِرَاقِ، عُوَيْمِلٌ لَنَا بِالْعِرَاقِ خَلَطَ فِي فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ أَثْمَانَ الْخَمْرِ وَالْخَنَازِيرِ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ، فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا" , يَعْنِي: أَذَابُوهَا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبر پر اپنے ہاتھ کے ذریعے اس طرح اشارہ کرتے ہوئے یعنی اپنے ہاتھ کو بائیں طرف اور دائیں طرف حرکت دیتے ہوئے، یہ کہتے ہوئے سنا: عراق میں ہمارے ایک چھوٹے اہل کار نے مسلمانوں کے ”مال فے“ میں شراب اور خنزیر کی قیمت بھی خلط ملط کر دی ہے، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے ان کے لیے چربی کو حرام قرار دیا گیا، تو انہوں نے اسے پگھلا کر اسے فروخت کر دیا۔“ راوی کہتے ہیں: یعنی انہوں نے اسے پگھلا دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 14]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه، وانظر حديث سابق»
(اللہ کی راہ میں دیے گھوڑے کی واپسی کی ممانعت)
حدیث نمبر: 15
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَرَأَيْتُهُ يُبَاعُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَشْتَرِيهِ؟ فَقَالَ:" لا تَشْتَرِهِ، وَلا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ" .
امام مالک بن انس نے زید بن اسلم سے سوال کیا، تو زید نے بتایا: میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے، میں نے اپنا ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں (جہاد میں حصہ لینے کے لیے) دیا، پھر بعد میں، میں نے اس گھوڑے کو فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا میں اسے خرید لوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے نہ خریدو اور تم اپنی صدقہ کی ہوئی چیز کو واپس نہ لو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 15]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1490، 2623، 2636، 2775، 2970، 2971، 3002، 3003، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1620، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5124، 5125، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2614، 2615، 2616، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2408، 2409، 2410، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1593، والترمذي فى «جامعه» برقم: 668، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2390، 2392، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7725، 7726، 7727، 7728، وأحمد فى «مسنده» برقم: 168، 264، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 166، 225، 255، 5840»
(سند کے فرق سے گھوڑے کی فروخت کا بیان)
حدیث نمبر: 16
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِثْلَهُ، إِلا أَنَّهُ قَالَ: رَآهَا تُبَاعُ , أَوْ بَعْضَ نِتَاجِهَا.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تھا یا شاید اس کی اولاد میں سے کسی جانور کو فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 16]
تخریج الحدیث: «إسناده صحیح، وانظر حديث سابق»
(حج اور عمرے کو آگے پیچھے کرنے کی فضیلت)
حدیث نمبر: 17
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَابِعُوا مَا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّ مُتَابَعَةً بَيْنَهُمَا يَزِيدَانِ فِي الأَجَلِ، وَيَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ الْخَبَثَ" . قَالَ سُفْيَانُ : هَذَا الْحَدِيثُ حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ عَبْدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدَةُ أَتَيْنَاهُ لِنَسْأَلَهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا حَدَّثَنِيهِ عَاصِمٌ، وَهَذَا عَاصِمٌ حَاضِرٌ، فَذَهَبْنَا إِلَى عَاصِمٍ فَسَأَلْنَاهُ، فَحَدَّثَنَا بِهِ هَكَذَا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَمَرَّةً يَقِفُهُ عَلَى عُمَرَ وَلا يَذْكُرُ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ، وَأَكْثَرُ ذَلِكَ كَانَ يُحَدِّثُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ سُفْيَانُ: وَرُبَّمَا سَكَتْنَا عَنْ هَذِهِ الْكَلِمَةِ: يَزِيدَانِ فِي الأَجَلِ، فَلا نُحَدِّثُ بِهَا مَخَافَةَ أَنْ يَحْتَجَّ بِهَا هَؤُلاءِ يَعْنِي: الْقَدَرِيَّةَ , وَلَيْسَ لَهُمْ فِيهَا حُجَّةٌ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”حج اور عمرے کو آگے پیچھے کرو، کیونکہ ان دونوں کو آگے پیچھے کرنا زندگی میں اضافہ کرتا ہے غربت اور گناہوں کو ختم کر دیتا ہے، جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو ختم کر دیتی ہے۔“ سفیان کہتے ہیں: یہ روایت عبدالکریم نامی راوی نے عبدہ نامی راوی کے حوالے سے اور انہوں نے عاصم کے حوالے سے بیان کی تھی۔ جب عبدہ آئے، تو ہم اس روایت کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے بتایا: عاصم نے یہ روایت مجھے سنائی ہے اور عاصم بھی یہاں موجود ہیں، یعنی اسی شہر میں ہیں، تو ہم لوگ عاصم کے پاس گئے اور ان سے روایت کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے یہ روایت اسی طرح ہمیں سنائی۔ پھر اس کے بعد میں نے انہیں سنا کہ ایک مرتبہ انہوں نے اس روایت کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تک ”موقوف“ روایت کے طور پر بیان کیا اور ایک مرتبہ انہوں نے اس کی سند میں اپنے والد کا تذکرہ نہیں کیا۔ تاہم اکثر اوقات وہ اس روایت کو عبداللہ بن عامر کے حوالے سے، وہ ان کے والد کے حوالے سے، وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں: بعض اوقات وہ ہمارے سامنے یہ الفاظ بھی بیان نہیں کرتے تھے: ”یہ دونوں زندگی میں اضافہ کرتے ہیں۔“ تو ہم ان کلمات کو حدیث میں بیان نہیں کرتے ہیں اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ لوگ اس کے ذریعے استدلال نہ کریں۔ سفیان کی مراد وہ لوگ تھے جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ اس روایت میں ان لوگوں کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 17]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولكن متن صحيح وأخرجه الضياء المقدسي فى «الأحاديث المختارة» برقم: 143، 144، 160، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2887، 2887 م، وأحمد فى «مسنده» برقم: 169، 15938، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 198، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8797، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 12781، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 5529»