مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(خیبر کے موقع پر نکاح متعہ اور گدھے کے گوشت کی ممانعت)
حدیث نمبر: 37
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَسَنٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ ابْنَا مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِمَا ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ" , قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِى: أَنَّهُ نَهَى عَنْ لُحُومِ الأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ، وَلا يَعْنِي نِكَاحَ الْمُتْعَةِ.
محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوہ) خیبر کے زمانے میں نکاح متعہ اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا۔ سفیان کہتے ہیں اس روایت سے مراد یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی مراد یہ نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر نکاح متعہ سے بھی منع کیا تھا۔ (بلکہ نکاح متعہ کی حرمت کا حکم بعد میں دیا تھا)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 37]
تخریج الحدیث: «إسناد صحيح، أخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 576، وفي صحيح ابن حبان: 4140، 4143، 4145»
(زرہ کے مہر سے شادی اور رخصتی پر دعا کی روایت)
حدیث نمبر: 38
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَرَدْتُ أَنَ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ أَنَّهُ لا شَيْءَ لِي، فَذَكَرْتُ عَائِدَتَهُ وَفَضْلَهُ , فَخَطَبْتُهَا، فَقَالَ لِي: " هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ تُعْطِيهَا إِيَّاهُ؟" , قُلْتُ: لا، قَالَ:" فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَهَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا؟" , قُلْتُ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ:" فَأْتِ بِهَا"، قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا , فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا , فَزَوَّجَنِيهَا، فَلَمَّا أَدْخَلَهَا عَلَيَّ، قَالَ:" لا تُحْدِثَا شَيْئًا حَتَّى آتِيكُمَا"، فَجَاءَنَا وَعَلَيْنَا كِسَاءٌ , أَوْ قَطِيفَةٌ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ تَخَشْخَشْنَا، فَقَالَ:" مَكَانَكُمَا"، فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَدَعَا فِيهِ ثُمَّ رَشَّهُ عَلَيْنَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهِيَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ أَنَا؟ قَالَ:" هِيَ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْكَ، وَأَنْتَ أَعَزُّ عَلَيَّ مِنْهَا" . قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الصَّوَّافُ: وحَدَّثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ . حَدَّثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
عبداللہ بن ابویجیح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: مجھے ان صاحب نے بتایا جنہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے یہ سنا، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے یہ ارادہ کیا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے لیے نکاح کا پیغام بھجواؤں پھر مجھے یاد آیا، میرے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں۔ پھر مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور فضیلت کا خیال آیا، تو میں نے (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے) نکاح کا پیغام دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے، جسے تم (مہر کے طور پر) اسے دو؟ میں نے عرض کی: جی نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری حطمیہ زرہ کہاں ہے؟ جو میں نے فلاں موقع پر تمہیں دی تھی؟ میں نے عرض کیا: وہ میرے پاس ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے ہی لے آؤ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں وہ لے کر آیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ زرہ دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کر دی۔ جب ان کی رخصتی ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک میں تم دونوں کے پاس نہیں آتا اس وقت تک تم دونوں کوئی بات چیت نہ کرنا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے ایک چادر (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک کمبل اوڑھا ہوا تھا۔ جب ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ہم اس میں داخل ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں اپنی جگہ پر رہو! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی موجود تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں دعا مانگی (یعنی اس پر کچھ پڑھ کر دم کیا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہم پر چھڑک دیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ (یعنی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ محبوب ہیں، یا میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے نزدیک تم سے زیادہ محبوب ہے اور تم میرے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہو۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں راوی نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 38]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أحمد 80/1، والبيهقي فى الصداق 234/7 وابوداود:2126»
(مذی کے خروج پر وضو کی کافی ہونے کی ہدایت)
حدیث نمبر: 39
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَ بْنَ أَنَسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ، يَقُولُ: كُنْتُ أَجِدُ مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً، فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتِ ابْنَتُهُ عِنْدِي، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ، فَأَمَرْتُ عَمَّارًا فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يَكْفِي مِنْهُ الْوُضُوءُ" .
عائش بن انس بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ بات کرتے ہوئے سنا۔ میری مذی مکثرت خارج ہوا کرتی تھی میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنا چاہتا تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میری اہلیہ تھیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کرتے ہوئے مجھے شرم محسوس ہوتی تھی، تو میں نے عمار رضی اللہ عنہ (بن یاسر) کو یہ ہدایت کی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس (مذی کے خروج پر) صرف وضو کر لینا کافی ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 39]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 354/1 برقم 456»
(قرآن کے علاوہ صحیفے میں دیت اور قیدی کی رہائی کے احکام)
حدیث نمبر: 40
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ، سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو جُحَيْفَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : هَلْ عِنْدَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ سِوَى الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ:" لا! وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، إِلا أَنْ يُعْطِيَ اللَّهُ عَبْدًا فَهْمًا فِي كِتَابِهِ، أَوْ مَا فِي الصَّحِيفَةِ"، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ:" الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الأَسِيرِ، وَأَنْ لا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ" .
ابوحجیفہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ کے پاس قرآن کے علاوہ کوئی اور ایسی چیز ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی ہو، تو انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ اس ذات کی قسم! جس نے دانے کو چیرا ہے اور جان کو پیدا کیا ہے (ہمارے پاس ایسا کچھ نہیں ہے) صرف وہ چیز ہے، جو اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو اپنی کتاب کے بارے میں فہم عطا کر دیتا ہے یا وہ کچھ ہے، جو اس صحیفے میں موجود ہے۔ میں نے دریافت کیا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیت کے بارے میں، قیدی کو رہائی دلانے کے بارے میں (احکام ہیں اور یہ حکم ہے کہ) کوئی مسلمان کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 40]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أحمد: 79/1، والبخاري فى العلم: 111، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 382/1 برقم 338»
(قربانی کے جانوروں کی تقسیم اور قصائی کو معاوضہ دینے کی ہدایت)
حدیث نمبر: 41
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أُقَسِّمَ جِلالَهَا وَجُلُودَهَا، وَأَنْ لا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا شَيْئًا، وَقَالَ:" نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا" .
عبدالرحمٰن بن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کی نگرانی کروں (یعنی انہیں ذبح کرواؤں) اور پر ڈالے جانے والے کپڑے اور ان کی کھالوں کی تقسیم کر دوں اور ان میں کوئی بھی چیز قصائی کو نہ دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم اسے اپنے پاس سے (معاوضے کی) ادائیگی کریں گے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 41]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أحمد: 79/1، والبخاري فى الحج: 1716، ومسلم: 1317، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 256/1 برقم 298»
(قربانی کی کھالوں کی تقسیم سے متعلق بیان)
حدیث نمبر: 42
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أُقَسِّمَ جِلالَهَا وَجُلُودَهَا" . قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ: لَمْ يَزِدْنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَلَى هَذَا، فَأَمَّا عَبْدُ الْكَرِيمِ فَحَدَّثَنَا أَتَمَّ مِنْ هَذَا.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے جانوروں کی نگرانی کروں اور پر ڈالے جانے والے کپڑے اور ان کی کھالوں کو تقسیم کر دوں۔ حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نے یہ بات بیان کی ہے ابن ابویجیح نے میرے سامنے صرف یہی الفاظ بیان کیے تھے جہاں تک عبدالکریم نامی راوی کا تعلق ہے، تو انہوں نے اس کے مقابلے میں زیادہ مکمل روایت بیان کی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 42]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أحمد: 143/1، والبخاري فى الحج: 1716، ومسلم: 1317، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 233/1 برقم 269»
(خادم مانگنے پر تسبیح کی تلقین اور جنگ صفین کی رات کا ذکر)
حدیث نمبر: 43
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ , أَنَّهُ سَمِعَ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ:" أَلا أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْهُ: تُسَبِّحِينَ اللَّهَ عِنْدَ مَنَامِكِ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَتَحْمَدِينَ اللَّهَ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَتُكَبِّرِينَ اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ" , ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ: إِحْدَاهُنَّ أَرْبَعٌ وَثَلاثُونَ، قَالَ عَلِيٌّ: فَمَا تَرَكْتُهَا مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا لَهُ: وَلا لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ قَالَ: وَلا لَيْلَةَ صِفِّينَ.
عبدالرحمٰن بن ابولیلیٰ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی خادم مانگ لیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہو؟ تم سوتے وقت 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھ لیا کرو۔ (یہ روایت بیان کرنے کے بعد) سفیان نے کہا: ان میں سے کوئی ایک کلمہ 34 مرتبہ ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات سنی ہے میں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا۔ لوگوں نے ان سے دریافت کیا۔ جنگ صفین کی رات بھی نہیں؟ انہوں نے فرمایا: جنگ صفین کی رات بھی (میں نے اسے پڑھنا ترک نہیں کیا)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 43]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أحمد: 80/1، والبخاري: 5362، ومسلم:2727، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 236/1-237 برقم 374 و مصنف ابن ابي شيبه: 262/1 برقم: 9392»
(اہل صفہ کے لیے خادم نہ دینے اور تسبیح کی فضیلت)
حدیث نمبر: 44
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا , فَقَالَ: لا أُعْطِيكِ خَادِمًا، وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تُطْوَى بُطُونُهُمْ مِنَ الْجُوعِ، أَلا أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْهُ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ الأَوَّلِ إِلَى آخِرِهِ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (سیدہ) فاطمہ (رضی اللہ عنہا)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خادم مانگنے کے لیے حاضر ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں خادم نہیں دوں گا۔ کیا میں اہل صفہ کو بھوکا پیٹ چھوڑ دوں؟ کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے؟“ اس کے بعد راوی نے عبید اللہ کے حوالے سے منقول سابقہ روایت آخر تک نقل کی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أحمد: 79/1، والبیھقی فی شعب الایمان: 259/3 برقم: 3480، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 236/1-237 برقم 374 و مصنف ابن ابي شيبه: 263/10 برقم: 93932»
(جنگ صفین کی رات تسبیح پڑھنے کی سند سے روایت)
حدیث نمبر: 45
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا حُصَيْنٌ , عَمَّنْ حَدَّثَهُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ: وَلا لَيْلَةَ صِفِّينَ، قَالَ: وَلا لَيْلَةَ صِفِّينَ ذَكَرْتُهَا مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: عبداللہ بن عتبہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گزارش کی: جنگ صفین کی رات بھی نہیں؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رات کے آخری حصے میں انہیں پڑھا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 45]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف»
(موزوں پر مسح کی مدت اور مسافر کے لیے تین دن کی اجازت)
حدیث نمبر: 46
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ , أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَتِ: ائْتِ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَاسْأَلْهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَألْتُ عَلِيًّا، فَقَالَ: كَانَ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَليْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ، وَثَلاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ لِلْمُسَافِرِ" .
شریح بن ہانی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: تم سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے یہ سوال کرو، کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگوں میں شریک ہوتے رہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا، تو انہوں نے ارشاد فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے: ”مقیم کے لیے اس کی مدت ایک دن اور ایک رات، جبکہ مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں ہیں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 46]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، فقد اخرجه عبدالرزاق: 788، أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 423/1 برقم 560 غيران الحديث صحيح، أخرجه مسلم 276، وابويعلي فى المسنده: 229/1 برقم: 264، وعبدالرزاق: 789، وابن خزيمة: 194، وابن حبان: 13»