🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 346
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 346
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ قَيْسِ بِنْتَ مُحْصَنٍ الأَسَدِيَّةَ ، تَقُولُ:" دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَرَشَّهُ عَلَيْهِ" .
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اپنے ایسے چھوٹے بیٹے کو ساتھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 346]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري في «الطب» برقم: 223،5692، 5693،5713، 5715،5718، ومسلم فى «الطهارة» برقم: 287، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1373،1374،6070، وعبد الرزاق فى «مصنفه» ، برقم: 1485، برقم: 1486، وابن أبى شيبة في «مصنفه» ، برقم: 1296، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 27638»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 347
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 347
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتِ مُحْصَنٍ ، تَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَام تَدْغَرْنَ أَوْلادَكُنَّ بِهَذَا الْعَلاقِ؟ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ يُسَعَّطُ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيَلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ" . قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَسَّرَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ اثْنَيْنِ، وَلَمْ يُفَسِّرْ لَنَا خَمْسَةً، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: الْعُودُ الْهِنْدِيُّ هُوَ الْقُسْطُ.
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اپنے بیٹے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے اس کے حلق کے ورم کی وجہ سے اس کا گلا ملا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس طرح گلا مل کر اپنے بچوں کو کیوں تکلیف پہنچاتی ہو؟ تم پر لازم ہے کہ تم عود ہندی استعمال کرو، کیونکہ اس میں سات قسم کی شفائیں ہیں۔ حلق میں ورم کی صورت میں اسے ناک میں ڈالا جائے گا اور ذات الجنب کی صورت میں اسے زبان کے نیچے ٹپکایا جائے گا۔ زہری کہتے ہیں: عبیداللہ نامی راوی نے دو چیزوں کا ذکر کر دیا باقی پانچ کا تذکرہ نہیں کیا (یعنی باقی کون سی پانچ بیماریوں کے لیے شفا ہے؟)
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عود ہندی سے مراد قسط ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 347]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح أخرجه البخاري فى "الطب" 223،5692،5693، 5713، 5715، 5718، ومسلم فى «السلام» 287،2214، ومالك فى «الموطأ» ، برقم: 207،وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 27638، وابن حبان في «صحيحه» برقم: 1373،1374، 6070»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں