مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1068
حدیث نمبر: 1068
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ لَهُ، جَعَلَ الدَّوَابُّ وَالْفَرَاشُ يَقْتَحِمُونَ فِيهَا، فَأَنَا آخِذٌ بِحُجُزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَأَنْتُمْ تَقْتَحِمُونَ فِيهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میری اور لوگوں کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو آگ جلاتا ہے جب اس کے آس پاس کا حصہ روشن ہو جاتا ہے، تو پتنگے وغیرہ اس آگ کی طرف لپکتے ہیں، تو میں تم لوگوں کو کمر سے پکڑ کر آگ سے بچاتا ہوں اور تم لوگ اس میں گرنے کی کوشش کرتے رہتے ہو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1068]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3426، 6483، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2284، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6408، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2874، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8232، 11119، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 3275»
حدیث نمبر 1069
حدیث نمبر: 1069
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا بَعَثْتُ سَرِيَّةً أَتَخَلَّفُ عَنْهَا لَيْسَ عِنْدِي مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ، وَيْشَقُّ عَلَيَّ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اگر مجھے اہل ایمان کے مشقت کا شکار ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں جو بھی جنگی مہم روانہ کرتا اس میں بذات خود شریک ہوتا لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ میں ان سب کو سواری کے لیے جانور فراہم کروں اور یہ بات ان کے لیے مشقت کا باعث ہوگی کہ وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1069]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 36، 237، 2785، 2787، 2797، 2803، 2972، 3123، 5533، 7226، 7227، 7457، 7463، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1876، 1878، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4610، 4621، 4622، 4627، 4652، 4736، 4737، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3098، 3122، 3123، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1619، 1656، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2436، 2450، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2753، 2795، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6904، 17895، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7278، 7422»
حدیث نمبر 1070
حدیث نمبر: 1070
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أَحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أَحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ" , قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، ثَلاثًا: أَشْهَدُ لِلَّهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میری یہ خواہش ہے کہ مجھے اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جائے۔ پھر زندہ کیا جائے۔ پھر شہید کر دیا جائے پھر زندہ کیا جائے پھر شہید کر دیا جائے۔“ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ یہ الفاظ کہے: ”میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1070]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح و انظر الحديث السابق»
حدیث نمبر 1071
حدیث نمبر: 1071
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمُّ إِنِّي مُتَّخِذٌ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْفِرَهُ، أَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ آذَيْتُهُ، جَلْدُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلاةً وَزَكَاةً، دُعَاءً لَهُ" , قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: فَهِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّمَا هِيَ جَلَدْتُهُ لَعَنْتُهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں یہ عہد کر رہا ہوں ایسا عہد جس کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔ جس بھی مسلمان کو میں اذیت پہنچاؤں جیسے میں نے اسے کوڑا مارا ہو، یا اس پر لعنت کی ہو، تو یہ چیز اس کے لیے رحمت اور پاکیزگی کا ذریعہ بنا دینا اور اسے اس کے لیے دعا بنا دینا۔“ شیخ ابوزناد کہتے ہیں: روایت کے الفاظ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی لغت کے مطابق بیان کئے ہیں ورنہ اصل لفظ یہ ہے: «جَلَدْتُهُ، لَعَنْتُهُ» [مسند الحميدي/حدیث: 1071]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6361، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2601، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6515، 6516، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2807، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13509، 13510، 13511، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7431، 8316»
حدیث نمبر 1072
حدیث نمبر: 1072
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلا يَطْعَنُ الشَّيْطَانُ فِي نُغْضِ كَتِفِهِ، إِلا عِيسَى وَأُمَّهُ، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ حَفَّتْ بِهِمَا، وَاقْرَءُوا وَإِنْ شِئْتُمْ: وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ سورة آل عمران آية 36" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے، شیطان اس کے کندھے کے اوپری حصے پر ٹہوکا دیتا ہے۔ صرف سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کے ساتھ ایسا نہیں ہوا کیونکہ ان دونوں کو فرشتوں نے ڈھانپ لیا تھا۔ اگر تم چاہو، تو یہ آیت تلاوت کر لو: «وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» (3-آل عمران:36) ”میں اس کو اور اس کی اولاد کو مردود شیطان (کے شر سے) تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1072]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3286، 3431، 4548، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2366، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6234، 6235، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 4180، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7303، 7823، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5971، والبزار فى «مسنده» برقم: 7724، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 32147، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 6784»
حدیث نمبر 1073
حدیث نمبر: 1073
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنَ النَّهَارِ لا يُكَلَّمُنِي وَلا أُكَلِّمُهُ، حَتَّى أَتَى سُوقَ قَيْنُقَاعٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ حَتَّى أَتَى فِنَاءَ عَائِشَةَ، فَجَلَسَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: أَثَمَّ أَثَمَّ، يَعْنِي حَسَنًا، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ إِنَّمَا تَحْبِسُهُ أُمُّهُ لأَنْ تُغَسِّلَهُ وَتُلْبِسُهُ سِخَابًا، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ يَسْعَى حَتَّى اعْتَنَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمُّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں دن کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چند دیگر لوگوں سمیت جا رہا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی۔ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو قنیقاع کے بازار میں تشریف لائے۔ پھر وہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مڑے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے آئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا وہ یہاں ہے؟ کیا وہ یہاں ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھ رہے تھے میں نے یہ اندازہ لگایا کہ ان کی والدہ نے انہیں روکا ہوا ہے، جو انہیں نہلا رہی تھیں اور انہوں نے انہیں ہار پہنایا تھا۔ تھوڑی دیر بعد سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے لگ گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں، تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو شخص اس سے محبت رکھتا ہو اس سے بھی محبت رکھ۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1073]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2122، 5884، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2421، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6963، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 4805، 4819، 4827، 4849، 4851، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8108، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 142، 143، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6995، 21135، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7516، 7991»
حدیث نمبر 1074
حدیث نمبر: 1074
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ: مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ، وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”لوگ اس (حکومت کے) معاملے میں قریش کے تابع ہوں گے، مسلمان لوگ، مسلمان قریش کے تابع ہوں گے اور کافر لوگ، کافر قریش کے تابع ہوں گے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1074]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3493، 3495، 6058، 7179، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1818، 2526، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 92، 5754، 5755، 5757، 6264، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4872، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2025، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5378، 16627، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7426، 7459، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6070، 6264»
حدیث نمبر 1075
حدیث نمبر: 1075
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ، فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلامِ إِذَا فَقُهُوا" ,
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم لوگوں کو معدن کی طرح پاؤ گے، جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہتر شمار ہوں گے، جب کہ انہیں دین کی سمجھ بوجھ حاصل ہو جائے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1075]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3353، 3493، 3495، 6058، 7179، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1818، 2526، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 92، 5754، 5755، 5757، 6264، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4872، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2025، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5378، 16627، 16759، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7426، 7459، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6070، 6264، 6265، 6439»
حدیث نمبر 1076
حدیث نمبر: 1076
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي طُعْمَةُ بْنُ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1076]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وانظر الحديث السابق»
حدیث نمبر 1077
حدیث نمبر: 1077
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1077]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5082، 5365، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2527، 2527، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6267، 6268، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9085، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14833، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7765، 7766، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6673»