مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1107
حدیث نمبر: 1108
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةَ ، قَالَ: أَلا أُخْبِرُكُمْ بِأَشْيَاءَ قِصَارٍ سَمِعْنَاهَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، هذَا أَحَدُهَا؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَمْنَعَنَّ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ" , قَالَ أَيُّوبُ: وَلَوْ قُلْتُ لَكَ: أَنَّ الْحَسَنَ تَرَكَ كَثِيرًا مِنَ التَّفْسِيرِ حِينَ قَدِمَ عِكْرِمَةُ الْبَصْرَةَ حَتَّى خَرَجَ مِنْهَا لَصَدَقْتُ.
عکرمہ بیان کرتے ہیں: کیا میں تم لوگوں کو ان مختصر چیزوں کے بارے میں نہ بتاؤں جو میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبانی سنی ہیں؟ ان میں سے ایک یہ ہے وہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کوئی بھی شخص اپنے پڑوسی کو اس بات سے ہرگز منع نہ کرے کہ وہ اس کی دیوار میں اپنا شہتیر گاڑے۔“ ایوب نامی راوی کہتے ہیں: اگر میں تم سے یہ کہوں کہ عکرمہ بصرہ آئے، تو حسن بصری نے بہت سی تفسیری روایات بیان کرنا ترک کر دی تھیں، تو میری یہ بات سچ ہوگی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1108]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2463، 5627، 5628، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1609، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 515، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7306، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3634، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1353، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2164، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2335، 3420، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11491، 11492، 11493، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7274، 7275، 7398، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6249، 6309»
حدیث نمبر 1109
حدیث نمبر: 1109
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَنَّ امْرَأَ اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ، فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ، فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ جُنَاحٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اگر کوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیر تمہارے گھر میں جھانکنے کی کوشش کرے اور تم اسے کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو، تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1109]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6888، 6902، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2158، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6002، 6003، 6004، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4875، 4876، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7036، 7037، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5172، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17732، 17733، 17734، 17735، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3451، 4274، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7433، 7731، 9119»
حدیث نمبر 1110
حدیث نمبر: 1110
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، وَحَدَّثَنِي وَلَيْسَ مَعِي وَلا مَعَهُ أَحَدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْمَعْدَنُ جُبَارٌ، وَالْبِيَرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" ,
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جانور کے زخمی کرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا۔ معدنیات میں گر کر مرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا۔ کنوئیں میں گر کر مرنے کا کوئی تاوان نہیں ہوگا، اور خزینے میں پانچویں حصے کی ادائیگی لازم ہوگی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1110]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1499، 2355، 6912، 6913، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1710، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2326، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6005، 6006، 6007، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2494، 2495، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3085، 4593، 4594، والترمذي فى «جامعه» برقم: 642، 1377، 1377 م، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1710، 2422، 2423، 2424، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2509، 2673، 2676، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7734، 7739، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7241، 7374، 7574، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6050، 6072، 6075، 6308»
حدیث نمبر 1111
حدیث نمبر: 1111
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1111]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وانظر الحديث السابق»
حدیث نمبر 1112
حدیث نمبر: 1112
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَفِي الْمُزَفَّتِ" , ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ عِنْدِهِ: وَاجْتَنِبُوا الْحَنَاتِمَ وَالنَّقِيرَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دباء اور مزفت میں نبیذ تیار نہ کرو۔“ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی طرف سے یہ بات بیان کی حنتم اور نقیر (دباء، مزفت، حنتم اور نقیر یہ چاروں برتن ہیں جن میں زمانہ جاہلیت میں شراب پی جاتی تھی تو برتنوں سے اس لیے منع فرمایا تاکہ برتنوں کو دیکھ کر طبیعت اس طرف مائل نہ ہو) سے بھی اجتناب کرو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1112]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1993، ومالك فى «الموطأ» برقم: 641، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5604، 5605، 5646، 5651، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3693، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3401، 3408، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17518، 17555، 17556، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4674، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7408، 7867، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5944، 6077، 6128»
حدیث نمبر 1113
حدیث نمبر: 1113
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا، فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ، وَلا يُثَرِّبْ، ثُمَّ إِنْ عَادَتْ فَزَنَتْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا، فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ، وَلا يُثَرِّبْ، ثُمَّ إِنْ عَادَتَ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ مِنْ شَعْرٍ" ، يَعْنِي الْحَبْلَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کی کنیز زنا کا ارتکاب کرے اور اس کا زنا کرنا ظاہر ہو جائے، تو وہ اسے کوڑے مارے لیکن زبانی طور پر اسے برا نہ کہے پھر اگر وہ کنیز دوبارہ زنا کا ارتکاب کرے اور اس کا زنا کرنا ثابت ہو جائے، تو وہ اسے پھر حد کے طور پر کوڑے مارے لیکن زبانی طور پر اسے برا نہ کہے۔ اگر وہ پھر ایسا کرے اور اس کا پھر زنا کرنا ظاہر ہو جائے، تو وہ اسے فروخت کر دے، اگرچہ بالوں سے بنی ہوئی رسی کے عوض کرے۔“ لفظ ”ضفیر“ کا مطلب رسی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1113]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2152، 2153، 2232، 2234، 2555، 6837، 6839، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1703، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4444، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7202، 7203، 7204، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4469، 4470 والترمذي فى «جامعه» برقم: 1440، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2371، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2565، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17181، 17182، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7513، 9008، 9586، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6541، 6608»
حدیث نمبر 1114
حدیث نمبر: 1114
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، سَمِعَهُ مِنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ يُحَدِّثُهُ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ: أَتَى أَبَا هُرَيْرَةَ رَجُلٌ فَارِسِيٌّ، وَامْرَأَةٌ لَهُ يَخْتَصِمَانِ فِي ابْنٍ لَهُمَا، فَقَالَ الْفَارِسِيُّ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا بُسَر، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِمَا شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ:" يَا غُلامُ , هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ، فَاخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ"، ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَشَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ يَخْتَصِمَانِ فِي ابْنٍ لَهُمَا، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنِي يَسْقِينِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا غُلامُ , هَذَا أَبُوكَ، وَهَذِهِ أُمُّكَ فَاخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ" .
ابو میمونہ بیان کرتے ہیں: ایک ایرانی شخص اور اس کی بیوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ دونوں اپنے بیٹے کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے۔ ایرانی نے کہا: اے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ ہمارا بیٹا ہے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے: میں تم دونوں کے درمیان وہ فیصلہ دوں گا جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فیصلہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ اے لڑکے! یہ تمہارے ابوہیں اور یہ تمہاری امی ہے تم ان دونوں میں سے جسے چاہو اختیار کر لو۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ایک شخص اور اس کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کے بارے میں ایک مقدمہ لے کر حاضر ہوئے۔ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ!یہ میرا بیٹا ہے، جو ابوعنبہ کے کنوئیں سے مجھے پانی پلاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لڑکے! یہ تمہارے ابوہیں یہ تمہاری امی ہیں تم ان دونوں میں سے جسے چاہو اختیار کر لو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1114]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 7131، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3496، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5660، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2277، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1357، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2339، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2351، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2275، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15858، 15859، 15860، 15861، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7469، 9902، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1114، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6131»