مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1216
حدیث نمبر: 1216
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ، وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً، وَكُنَّ أُمَّهَاتِي يَحْثُثْنِي عَلَى خِدْمَتِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَارَنَا، فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ لَنَا دَاجِنٍ، وَشِيبَ لَهُ بِمَاءٍ فِي بِئْرٍ فِي الدَّارِ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ، وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ، وَعُمَرُ نَاحِيتَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَاوِلْ أَبَا بَكْرٍ، فَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ: " الأَيْمَنُ فَالأَيْمَنُ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے میں اس وقت دس سال کا لڑکا تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس وقت میں 20 سال کا لڑکا تھا میری امی اور خالائیں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں پھر ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں گھر تشریف لائے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی پالتو بکری کا دودھ دوہ لیا اور اس میں گھر میں موجود کنویں کا پانی ملا دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک دیہاتی تھا، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک کونے میں تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! (دیہاتی سے پہلے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو (اپنا بچا ہوا دودھ دیں) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دیہاتی کو دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”پہلے دائیں طرف والوں کا حق ہوتا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1216]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2352، 2571، 5612، 5619، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2029، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5333، 5334، 5336، 5337، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6832، 6833، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3726، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1893، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2162، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3425، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14783، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12260، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3552، 3553، 3554»
حدیث نمبر 1217
حدیث نمبر: 1217
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقَاطَعُوا , وَلا تَدَابَرُوا، وَلا تَبَاغَضُوا، وَلا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثٍ" , فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فِيهِ: وَلا تَنَاجَشُوا؟ قَالَ: لا.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آپس میں قطع رحمی نہ کرو، آپس میں ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اللہ کے بندے اور بھائی، بھائی بن کر رہو، کسی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے، وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لا تعلق رہے۔“ سفیان نامی راوی سے دریافت کیا گیا: اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ”آپس میں مصنوعی بولی نہ لگاؤ“، تو انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1217]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6065، 6076، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2559، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5660، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4910، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1935، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14891، 21123، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12256، 12888، 13253، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3261، 3549، 3550، 3551»
حدیث نمبر 1218
حدیث نمبر: 1218
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ ، عَنِ ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ" , قَالَ سُفْيَانُ: وَقَدْ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحِدِّثُ بِهِ فَلَمْ أَحْفَظْهُ، وَكَانَ بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ يُجَالِسُ الزُّهْرِيَّ مَعَنَا.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں ستو اور کھجوروں کے ذریعے (مہمانوں کی، تواضع کی تھی) سفیان کہتے ہیں: میں نے زہری کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا لیکن میں اس کو یاد نہیں رکھ سکا (میں نے بکر نامی جس راوی سے روایت نقل کی ہے) بکر بن وائل ہمارے ساتھ زہری کی محفل میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1218]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5387، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4061، 4063، 4064، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6566، 6569، 6570، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3744، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1095، 1096، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1909، 1910، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14621، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12134، 12261، 13883، 14014، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3559، 3580»
حدیث نمبر 1219
حدیث نمبر: 1219
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دباء (کدو) اور مزفت میں نبیذ تیار نہ کرو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1219]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5587، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1992، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5645، 5658، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5119، 5132، 6797، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2156، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17552، 17553، 17554، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12254، 12282، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3545، 3589، 3599»
حدیث نمبر 1220
حدیث نمبر: 1220
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَتْبَعُ الْمَيِّتَ إِلَى قَبْرِهِ ثَلاثَةٌ: أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ، فَيْرِجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدٌ، يَرْجِعُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَيَبْقَى عَمَلُهُ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میت کے ساتھ تین چیزیں اس کی قبر تک جاتی ہیں اس کے اہل خانہ، اس کا مال اور اس کا عمل، دو واپس آ جاتے ہیں اور ایک ساتھ رہ جاتا ہے، اس کے اہل خانہ اور اس کا مال واپس آ جاتے ہیں اور اس کا عمل باقی رہ جاتا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1220]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6514، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2960، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3107، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 249، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1936، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2075، 11760، 11761، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2379، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12263، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 35908»
حدیث نمبر 1221
حدیث نمبر: 1221
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ الرَّحَّالُ سَنَةَ عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ ثَلاثَ عَشْرَةَ سَنَةً وَأَرْبِعَةِ أَشْهُرٍ وَنِصْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِرَبًا لِبَنِي النَّجَّارِ، يُرِيدُ قَضَاءَ حَاجَةٍ، فَخَرَجَ مَذْعُورًا، أَوْ قَالَ: فَزِعًا وَهُوَ يَقُولُ: " لَوْلا أَنْ تَدَافَنُوا لَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ أَهْلِ الْقُبُورِ مَا أَسْمَعَنِي" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے کسی کھنڈر میں قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے واپس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے۔ ”اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم لوگ (مردوں کو) دفن کرنا ہی چھوڑ دو گے، تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا کہ قبروں کے عذاب سے متعلق وہ چیز تمہیں سنائے، جو اس نے مجھے سنائی ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1221]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2868، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3126، 3131، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 118، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2057، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2196، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4751، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12189، 12279، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2996، 3693، 3727، 4300»
حدیث نمبر 1222
حدیث نمبر: 1222
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشَفَ السِّتَارَةَ يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا رَأَوْهُ كَأَنَّهُمْ أَيْ تَحَرَّكُوا، " فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اثْبُتُوا فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، وَأَلْقَى السِّجْفَ وَتُوُفِّيَ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زیارت میں نے اس وقت کی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیر کے دن پردہ ہٹایا تھا لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنا کر نماز ادا کر رہے تھے ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ حرکت کرنے لگے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ تم لوگ اپنی جگہ پر رہو، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک کی طرف دیکھا، تو وہ یوں تھا جیسے وہ قرآن مجید کا کوئی ورق ہوتا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ گرا دیا اور اسی دن کے آخری حصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1222]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 680، 681، 754، 1205، 4448، 7219، 7269، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 419،وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 867، 1488، 1650، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2065، 6620، 6875، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1830، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1970، 7070، 7072، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1624، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5125، 5126، 16681، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12255، 12862، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3548، 3567، 3596، 3924»
حدیث نمبر 1223
حدیث نمبر: 1223
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، يَقُولُ: سَقَطَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ، فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا وَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ، قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمُّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں پہلو زخمی ہوا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نماز کا وقت ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر ہمیں نماز پڑھائی۔ ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ تکبیر کہے، تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ جب وہ (رکوع سے) اٹھے تو تم بھی اٹھ جاؤ جب وہ «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» پڑھے تو تم «رَبَّنَا لَكَ وَالْحَمْدُ» پڑھو وہ سجدے میں جائے تو تم بھی سجدے میں جاؤ جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1223]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 378، 689، 732، 733، 805، 1114، 1911، 2469، 5201، 5289، 6684، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 411، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 977، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1908، 2102، 2103، 2108، 2111، 2113، 4277، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 793، 831، 1060، 3456، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 652، 871، وأبو داود فى «سننه» برقم: 601، والترمذي فى «جامعه» برقم: 361، 690، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1291، 1349، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 876، 1238، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2662، 3715، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12257، 12848، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3558، 3595، 3728، 3825»
حدیث نمبر 1224
حدیث نمبر: 1224
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ السَّاعَةِ فَقَالَ: مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ فَلَمْ يَذْكُرْ كَثِيرًا , إِلا أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ" , قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: سَمِعْتُ الْحُمَيْدِيَّ يَقُولَ: لَقِيَ ابْنُ عُيَيْنَةَ سِتَّةً وَثَمَانِينَ مِنَ التَّابِعِينَ، وَكَانَ يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ أَيُّوبَ , قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ لَفْظُ الزُّهْرِيِّ إِذَا , حَدَّثَنَا عَنْ أَنَسٍ وَسَهْلٍ سَمِعْتُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“ تو اس نے بہت زیادہ چیزوں کا تذکرہ نہیں کیا صرف اس نے یہ کہا: میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جس سے محبت رکھتے ہو اس کے ساتھ ہوگے۔“ ابوعلی نامی راوی کہتے ہیں:
امام حمیدی رحمہ اللہ یہ فرماتے ہیں ابن عینیہ نے 86 تابعین کی زیارت کی ہے، وہ یہ فرماتے ہیں: میں نے ایوب جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، جب زہری ہمیں سیدنا انس رضی اللہ عنہ یا سہل کے حوالے سے روایات بیان کرتے تھے، تو یہ کہتے تھے: میں نے یہ روایت سنی ہے، میں نے یہ روایت سنی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1224]
امام حمیدی رحمہ اللہ یہ فرماتے ہیں ابن عینیہ نے 86 تابعین کی زیارت کی ہے، وہ یہ فرماتے ہیں: میں نے ایوب جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، جب زہری ہمیں سیدنا انس رضی اللہ عنہ یا سہل کے حوالے سے روایات بیان کرتے تھے، تو یہ کہتے تھے: میں نے یہ روایت سنی ہے، میں نے یہ روایت سنی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1224]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3688، 6167، 6171، 7153، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2639، 2953، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1796، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 8، 105، 563، 564، 565، 2988، 2991، 7348، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5842، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5127، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2385، 2386، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5918، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12195، 12258، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2758، 2777، 2888»
حدیث نمبر 1225
حدیث نمبر: 1225
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ" ,
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ظہر کی نماز میں 4 رکعات ادا کیں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ”ذو الحلیفہ“ میں عصر کی نماز میں دو رکعات ادا کیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1225]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1089، 1546، 1547، 1548، 1551، 1714، 1715، 2951، 2986، 4353، 5553، 5554، 5558، 5564، 5565، 7399، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 690، 1232، 1251، 1966، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2618، 2619، 2894، 2895، 2896، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2743، 2744، 2747، 2748، 3930، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1742، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 468، 476، 1587، 2661، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1202، 1773، 1774، 1795، 1796، 2793، 2794، والترمذي فى «جامعه» برقم: 546، 821، 1494، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1548، 1549، 1965، 1966، 1988، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2917، 2968، 2969، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5527، 5528، وأحمد فى «مسنده» برقم: 5091، 5242، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2794، 2806، 2807، 2811، 2812»