🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 1226
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1226
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1226]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وانظر التعليق السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1227
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1227
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ظہر کی نماز میں چار رکعات ادا کیں اور ذو الحلیفہ میں عصر کی نماز میں دو رکعات ادا کیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1227]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وانظر الحديثين السابقين»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1228
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1228
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: " صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا وَأُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اور یتیم لڑکا ہمارے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے جبکہ میری والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1228]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 380، 727، 860، 871، 874، 1164، 6080، 6334، 6344، 6378، 6380، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 658، 659، 2480 وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1539، 1540، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2205، 7177، 7178، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 736، برقم: 800، 868، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 818، 878، 944، وأبو داود فى «سننه» برقم: 612، 658، والترمذي فى «جامعه» برقم: 234، 3829، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1324، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5241، 5301، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12264، 12534، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3200، 3238، 3239، 4236»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1229
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1229
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : سَمِعَهُ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، يَقُولُ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَنْصَارَ لِيُقْطَعَ لَهُمُ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالُوا: لا حَتَّى تُقْطِعَ لإِخْوانِنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ انصاریوں کو بلایا، تاکہ انہیں بحرین میں کچھ قطعۂ اراضی عطا کریں، تو انہوں نے عرض کی: ہم یہ اس وقت تک نہیں لیں گے، جب تک ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی اس کی مانند قطعۂ اراضی عطا نہیں کریں گے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد تم لوگ ترجیحی سلوک دیکھو گے، تو تم صبر سے کام لینا یہاں تک تم مجھ سے آ ملو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1229]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2376، 3147، 3163، 3793، 3794، 4331، 5860، 7441، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1059، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7275، 7276، 7277، 7278، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7066، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8277، 8287، 11158، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11905، 11914، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12268، 12893، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3594، 3649، 3651، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1027»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1230
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1230
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: بَالَ أَعْرَابِيٌّ فِي الْمَسْجِدِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" صُبُّوا عَلَيْهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔ لوگ اس کی طرف (گھور کر) دیکھنے لگے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روکا اور ارشاد فرمایا: اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1230]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 219، 221، بدون ترقيم، 6025، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 284، 285، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 293، 296، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1401، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 51، 52، 53، والترمذي فى «جامعه» برقم: 148، والدارمي فى «مسنده» برقم: 767، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 528، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4208، 4209، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12265، 12315، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3467، 3652، 3654»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1231
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1231
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ"، وَقَالَ:" فِي كُلُّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: انصار کے خاندانوں میں سب سے بہتر بنو نجار کا خاندان ہے، پھر بنو عبداشہل کا خاندان، پھر بنو حارث بن خزرج کا خاندان ہے، پھر بنو ساعدہ کا خاندان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ویسے انصار کا ہر خاندان بہتر ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1231]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5300، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2511، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7284، 7285، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8278، 8279، 8280، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3910، وأحمد فى «مسنده» برقم: 399، 7744، 12207، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3650، 3855»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1232
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1232
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ يَوْمَ الْخَمِيسِ بُكْرَةً، فَجَاءَ قَدْ فَتَحُوا الْحِصْنَ، وَخَرَجُوا مِنْهُ مَعَهُمُ الْمَسَاحِيَّ، فَلَمَّا رَأَوْهُ لَجَئُوا إِلَى الْحِصْنِ، فَقَالُوا: مُحَمَّدٌ وَالْخُمَيْسُ، مُحَمَّدٌ وَالْخُمَيْسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، وَإِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمرات کی صبح خیبر پہنچے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے اس وقت وہاں کے لوگوں نے قلعے کا دروازہ کھول دیا تھا اور اپنے بیلچے وغیرہ لے کر اس میں سے باہر نکل رہے تھے، جب ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو دوڑتے ہوئے اپنے قلعے کی طرف واپس گئے اور بولے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کا لشکر آ گئے ہیں، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کا لشکر آ گئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر! اللہ اکبر! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور فرمایا: خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے میدان جنگ میں اترتے ہیں، تو ان لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے جنہیں ڈرایا گیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1232]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 371، 610، 947، 2228، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 382، 1365، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 351، 400، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4091، 4745، 4746، 5274، 6521، 7212، 7213، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 69، 546، 3342، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2054، 2634، 2995، 2996، 2997، 2998، 3009، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1115، 1550، 1618 م، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2034، 2288، 2289، 2489، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1957، 2272، 3196، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 907، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1933، 3288، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12138، 12174، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2828، 2908، 3043»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1233
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1233
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (بلند آواز میں) قرأت کا آغاز سورۃ الفاتحہ کے ذریعے کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1233]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 743، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 399، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 491، 492، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1798، 1799، 1800، 1802، 1803، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 859، 861، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 901، 902، 905، 906 والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 977، 978، 980، 981، وأبو داود فى «سننه» برقم: 782، والترمذي فى «جامعه» برقم: 246، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1276، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 813، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2453، 2454، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12173، 12267، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2881، 2980، 2981»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1234
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1234
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ أَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ، فَنَحَرْنَاهَا، فَطَبَخْنَا مِنْهَا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَاكُمْ عَنْهَا، فَإِنَّهَا رِجْزٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ" ، فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ بِمَا فِيهَا وَإِنَّهَا لَتَفُورُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا تو ہمیں بستی سے باہر کچھ گدھے ملے، ہم نے انہیں ذبح کر کے پکانا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کیا: خبردار! بے شک اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ان سے منع کر رہے ہیں کیونکہ یہ ناپاک ہیں اور شیطان کے عمل سے تعلق رکھتے ہیں۔ (راوی کہتے ہیں) تو ہنڈیاں میں جو کچھ موجود تھا اس سب کو الٹ دیا گیا حالانکہ وہ ابل رہی تھیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1234]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 4198، 4199، 4200، 4201، 4211، 4213، 5085، 5086، 5159، 5169، 5528، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1940، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 351، 400، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4091، 4745، 4746، 5274، 6521، 7212، 7213، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 69، برقم: 546، برقم: 3342، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2054، 2634، 2995، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1115، 1550، 1618 م، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2034، 2288، 2289، 2489، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1957، 2272، 3196، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1933، 3288، 3289، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12138، 12174، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2828، 2908، 3043، 3050»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1235
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1235
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الأَنْصَارِ، وَلَوْلا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ، الأَنْصَارُ كِرْشِي، وَعَيْبَتِي، فَأَحْسِنُوا إِلَى مَحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ" , قَالَ ابْنُ جُدْعَانَ: وَزَادَنِي الْحَسَنُ: إِلا فِي حَدٍّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں، تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا اگر ہجرت نہ ہوتی، تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا، انصار میرے دست و بازو ہیں، تو ان میں سے جو شخص اچھا ہو، اس کے ساتھ تم اچھائی کرو اور جو شخص برا ہو اس سے تم درگزر کرو۔ ابن جدعان نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے۔ حسن نامی راوی نے یہ الفاظ مزید نقل کیے ہیں: البتہ حد کا حکم مختلف ہے (وہ برے شخص پر جاری کی جائے گی)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1235]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، لضعف على بن جدعان۔ ولكن الحديث صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3146، 3528، 3778، 4332، 4333، 4334، 4337، 6762، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1059، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4501، 4769، 7268، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2609، 2610، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2402، 2403، 8268، 8269، 8289، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3901، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2569، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2900، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13059، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12203، 12370، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3002، 3207، 3229، 3606»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں