🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. بَابُ مَا جَاءَ فِي شُرْبِ الرَّجُلِ وَهُوَ قَائِمٌ
کھڑے ہو کر پانی پینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1679
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِ ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " يَشْرَبُ قَائِمًا"
حضرت ابوجعفر قاری نے دیکھا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کھڑے ہوکر پانی پیتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1679]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14764، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24094، 24584، 24591، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 6868، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 15»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1680
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ " يَشْرَبُ قَائِمًا"
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر پانی پیتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1680]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14764، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24580، 24584، 24591، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 6868، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 16»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ السُّنَّةِ فِي الشُّرْبِ وَمُنَاوَلَتِهِ عَنِ الْيَمِينِ
پانی یا شربت پلانا داہنی طرف سے شروع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1681
حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ مِنَ الْبِئْرِ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ: " الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا، جس میں کنوئیں کا پانی ملا ہوا تھا، اور داہنی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعرابی (بدوی) تھا اور بائیں طرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی کر اعرابی کو دیا اور کہا: پہلے داہنی طرف والے کو دو، پھر جو اس سے ملا ہوا ہے پھر جو اس سے ملا ہوا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1681]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2352، 2571، 5612، 5619، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2029، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5333، 5334، 5336، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6832، 6833، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3726، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1893، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2162، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3425، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14783، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12145، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1216، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19582، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24674، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 17»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1682
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ: " أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ؟" فَقَالَ الْغُلَامُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا، قَالَ: فَتَلَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنی طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بوڑھے بوڑھے لوگ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے سے فرمایا: اگر تو اجازت دے تو پہلے میں ان لوگوں کو دے دوں؟ (جو بائیں طرف تھے)، لڑکے نے کہا: نہیں! اللہ کی قسم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنا حصّہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوٹھے (پیئے ہوئے) میں سے کسی کو دینا نہیں چاہتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اسی لڑکے کو دے دیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1682]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2351، 2366، 2451، 2602، 2605، 5620، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2030، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5335، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6839، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14784، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23212، والطبراني فى «الكبير» برقم: 5769، 5780، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 18»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ جَامِعِ مَا جَاءَ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ
کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1683
حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ: لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ، ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَأَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟" قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" لِلطَّعَامِ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ:" قُومُوا"، قَالَ: فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُهُمْ، فَقَالَتْ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ؟" فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا فَآدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ بِالدُّخُولِ"، فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ" فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ" فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ" فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ" حَتَّى أَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلًا أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلًا"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ (دوسرے شوہر تھے سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا کے جو والدہ تھیں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی) نے سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی جو بھوک کی وجہ سے نہیں نکلتی تھی، تو تیرے پاس کوئی چیز ہے کھانے کی؟ سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے کچھ روٹیاں جَو کی نکالیں اور ایک کپڑے میں لپیٹ کر میری بغل میں دبا دیں، اور کچھ کپڑا مجھے اڑھا دیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کو لے کر آگیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ بہت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میں کھڑا ہو رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پوچھا: کیا تجھ کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانے کے واسطے؟ میں نے کہا: ہاں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سب ساتھیوں کو فرمایا: سب اٹھو۔ سب اٹھ کر چلے، میں سب کے آگے آگیا اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو جا کر خبر کی، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ساتھ لیئے ہوئے آتے ہیں اور ہمارے پاس اس قدر کھانا نہیں ہے جو سب کو کھلائیں۔ سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے ہیں۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر ملے، یہاں تک کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں مل کر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اُم سلیم! جو کچھ تیرے پاس ہو لے آ۔ سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا وہی روٹیاں لے آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرایا، پھر سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک کپی گھی کی اس پر نچوڑ دی، وہ ملیدہ بن گیا، اس کے بعد جو اللہ جل جلالہُ کو منظور تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس آدمیوں کو بلاؤ۔ انہوں نے دس آدمیوں کو بلایا، وہ سب کھا کر سیر ہو کر چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس آدمیوں کو بلاؤ۔ وہ بھی آئے اور سیر ہو کر چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس آدمیوں کو بلاؤ۔ وہ بھی آئے اور سیر ہو کر چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس کو اور بلاؤ۔ یہاں تک کہ جتنے لوگ آئے ستر (70) آدمی تھے یا اسّی (80) سب سیر ہو گئے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1683]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 422، 3578، 5381، 5450، 6688، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2040، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5285، 6534، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 6582، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3630، والدارمي فى «مسنده» برقم: 44، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3342، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14708، 14709، وأحمد فى «مسنده» برقم: 13316، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 19»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1684
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " طَعَامُ الْاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ، وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: دو شخصوں کا کھانا کفایت کرتا ہے تین آدمیوں کو، اور تین کا کھانا چار کو کفایت کرتا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1684]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5392، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2058، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 6742، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1820، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7318، 9400، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1099، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6275، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 20»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1685
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَغْلِقُوا الْبَاب وَأَوْكُوا السِّقَاءَ وَأَكْفِئُوا الْإِنَاءَ أَوْ خَمِّرُوا الْإِنَاءَ وَأَطْفِئُوا الْمِصْبَاحَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ غَلَقًا وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً، وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى النَّاسِ بَيْتَهُمْ"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: بند کرو دروازے کو، اور منہ باندھا کرو مشک کا، اور بند رکھا کرو برتن کو، اور بجھا دیا کرو چراغ کو، کہ شیطان بند دروازہ کو نہیں کھولتا، اور ڈاٹ کو نہیں نکالتا، اور برتن نہیں کھولتا، اور چوہا گھر والوں کو جلا دیتا ہے۔ (یعنی اگر سوتے وقت چراغ روشن رہے تو چوہا بتی لے جاتا ہے تو گھر میں اکثر آگ لگ جاتی ہے)۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1685]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3280، 3304، 3316، 5623، 5624، 6295، 6296، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2012، 2013، خزيمة فى «صحيحه» برقم: 131، 132، 133، 2559، 2560، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1271، 1272، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7307، 7796، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 6716، 9668، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2732، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1812، 2766، 2767، 2857، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3410، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14277، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1310، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1771، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 21»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1686
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَضِيَافَتُهُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ"
سیدنا ابی شریح الکعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر تو اسے چاہیے نیک بات بولا کرے یا چپ رہے، اور جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر تو اسے چاہیے اپنے ہمسایہ (یعنی پڑوسی) کی خاطر داری کیا کرے، اور جو ایمان لایا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر تو اس کو چاہیے کہ اپنے مہمان کی آؤ بھگت کرے، ایک رات دن تک مہمانی اچھے طور سے کرے، اور تین رات دن تک جو کچھ حاضر ہو کھلائے، اور زیادہ اس سے ثواب ہے، اور مہمان کو لائق نہیں کہ بہت ٹھہرے میزبان کے پاس کہ تکلیف دے اس کو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1686]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6019، 6135، 6476، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 48، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5287، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7389، 7391، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11779، 11780، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1967، 1968، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2078، 2079، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3672، 3675، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9270، وأحمد فى «مسنده» برقم: 27703، والحميدي فى «مسنده» برقم: 585، 586، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 2774، 2775، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 22»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1687
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ إِذْ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئْرًا، فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ وَخَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي بَلَغَ مِنِّي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا؟ فَقَالَ: ”فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ.“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص راستہ میں جا رہا تھا، اس کو بہت شدّت سے پیاس لگی، تو اس نے ایک کنواں دیکھا، اس میں اتر کر پانی پیا، جب کنوئیں سے نکلا تو دیکھا ایک کُتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس نے سوچا اس کا بھی پیاس کی وجہ سے میری طرح حال ہوگا، پھر اس نے کنوئیں میں اُتر کر اپنے موزے میں پانی بھرا اور منہ میں اس کو دبا کر اوپر چڑھا اور کُتے کو پانی پلایا، اللہ جل جلالہُ اس سے خوش ہو گیا اور اس کو بخش دیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کو جانوروں کے پانی پلانے میں بھی ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، ہر جاندار جگر میں ثواب ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1687]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2363، 2466، 6009، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2244، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 543، 544، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2550، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7900، 15918، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8861، والبزار فى «مسنده» برقم: 8946، 8969، 8986، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 35856، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 23»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1688
 وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ، فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلَاثُمِائَةٍ، قَالَ: وَأَنَا فِيهِمْ، قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ، فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ ذَلِكَ الْجَيْشِ، فَجُمِعَ ذَلِكَ كُلُّهُ، فَكَانَ مِزْوَدَيْ تَمْرٍ، قَالَ: فَكَانَ يُقَوِّتُنَاهُ كُلَّ يَوْمٍ قَلِيلًا قَلِيلًا، حَتَّى فَنِيَ، وَلَمْ تُصِبْنَا إِلَّا تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ، فَقُلْتُ: وَمَا تُغْنِي تَمْرَةٌ، فَقَالَ: لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حَيْثُ فَنِيَتْ، قَالَ: ”ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَى الْبَحْرِ، فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ، فَأَكَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْجَيْشُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلْعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَنُصِبَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِلَتْ، ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا وَلَمْ تُصِبْهُمَا“
قَالَ مَالِكٌ: «الظَّرِبُ الْجُبَيْلُ»
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا ساحلِ دریا کی طرف، اور ان پر حاکم مقرر کیا سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو۔ اس لشکر میں تین سو آدمی تھے، میں بھی ان میں شریک تھا، راہ میں کھانا ختم ہوچکا، سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے حکم کیا کہ جس قدر کھانا باقی ہے اس کو اکٹھا کرو، سب اکٹھا کیا گیا تو دو ظرف کھجور کے ہوئے۔ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اس میں سے ہر روز ہم کو تھوڑا تھوڑ کھانا دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ ایک کھجور ہمارے حصّہ میں آنے لگی، پھر وہ بھی تمام ہوگئی۔ وہب بن کیسان کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ایک ایک کھجور میں تمہارا کیا ہوتا تھا؟ انہوں نے کہا: جب وہ بھی نہ رہی تو قدر معلوم ہوئی۔ جب ہم دریا کے کنارے پہنچے تو ہم نے ایک مچھلی پڑی پائی پہاڑ کے برابر، سارا لشکر اس سے اٹھارہ دن رات تک کھاتا رہا، پھر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے حکم کیا اس مچھلی کی ہڈیاں کھڑی کرنے کا، دو ہڈیاں کھڑی کر کے رکھی گئیں تو ان کے نیچے سے اونٹ چلا گیا اور ان سے نہ لگا۔
امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں(حدیث کے لفظ) «الظَّرِبُ» سے مراد چھوٹا پہاڑ ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1688]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2483، 2983، 4360، 4361، 4362، 5493، 5494، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1935، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5259، 5260، 5261، 5262، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4356، 4359، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4844، 4845، 4846، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3840، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2475، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2055، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4159، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19026، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14477، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1278، 1279، 1280، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 24»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں