🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُهَاجَرَةِ
ملاقات ترک کرنے کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1642
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: بچو تم بد گمانی سے کیونکہ بد گمانی بڑا جھوٹ ہے، اور مت کھوج لگاؤ (لوگوں کی برائیوں کی یا عیبوں کی)، اور مت تفتیش کرو، اور مت حرص کرو دنیا کی، اور مت حسد کرو، نہ بغض کرو، نہ ایک دوسرے سے پیٹھ موڑو، بلکہ ہو جاؤ اللہ کے بندے بھائی بھائی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1642]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5143، 6064، 6724، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2563، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5687، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4917، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1988، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11574، وأحمد فى «مسنده» برقم: 10002، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1117، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 20228، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 457، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 7021، 8461، فواد عبدالباقي نمبر: 47 - كِتَابُ حُسْنِ الْخَلُقِ-ح: 15»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1643
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ عَبْدِ اللَّهِ الْخُرَاسَانِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَصَافَحُوا يَذْهَبْ الْغِلُّ، وَتَهَادَوْا تَحَابُّوا وَتَذْهَبِ الشَّحْنَاءُ"
عطاء بن عبداللہ خراسانی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: مصافحہ کرو ایک دوسرے سے، دل کا کینہ جاتا رہے گا، ہدیہ بھیجو ایک دوسرے کو، دوست ہو جاؤ گے اور دشمنی جاتی رہے گی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1643]
تخریج الحدیث: «مرفوع ضعيف بهذا اللفظ، وأخرجه عبدالله بن وهب فى الجامع: 353/1
شیخ سلیم ہلالی نے اس روایت کو ان الفاظ کے ساتھ ضعیف قرار دیا ہے۔، فواد عبدالباقي نمبر: 47 - كِتَابُ حُسْنِ الْخَلُقِ-ح: 16»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1644
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا"
سیدنا ابوہریرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں پیر اور جمعرات کے روز، تو ہر بندہ مسلمان جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا وہ بخش دیا جاتا ہے، مگر وہ شخص جو اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہو۔ کہا جاتا ہے ان دونوں آدمیوں کے متعلق کہ ان دونوں آدمیوں کو دیکھتے رہو جب تک وہ مل جائیں، ان دونوں آدمیوں کو دیکھتے رہو جب تک وہ مل جائیں۔ (یعنی جب تک آپس میں ملاپ نہ کریں ان کی مغفرت نہیں ہوتی)۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1644]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2565، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2120، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3644، 5661، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4916، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2023، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6487، 6488، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9188، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1005، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7914، 20226، فواد عبدالباقي نمبر: 47 - كِتَابُ حُسْنِ الْخَلُقِ-ح: 17»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1645
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: " تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ كُلَّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ: يَوْمَ الْاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا أَوِ ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے روز بندوں کے اعمال دیکھے جاتے ہیں، پھر ہر مومن بندہ بخش دیا جاتا ہے، مگر وہ بندہ جو اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہو، تو حکم ہوتا ہے کہ ابھی ان دونوں کو رہنے دو، یہاں تک کہ مل جائیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1645]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2565، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2120، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3644، 5661، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4916، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2023، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6487، 6488، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7754، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1005، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6684، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 3860، فواد عبدالباقي نمبر: 47 - كِتَابُ حُسْنِ الْخَلُقِ-ح: 18»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الثِّيَابِ لِلْجَمَالِ بِهَا
کپڑے زینت کے واسطے پہننے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1646
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي أَنْمَارٍ، قَالَ جَابِرٌ: فَبَيْنَا أَنَا نَازِلٌ تَحْتَ شَجَرَةٍ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلُمَّ إِلَى الظِّلِّ، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ إِلَى غِرَارَةٍ لَنَا، فَالْتَمَسْتُ فِيهَا شَيْئًا، فَوَجَدْتُ فِيهَا جِرْوَ قِثَّاءٍ فَكَسَرْتُهُ، ثُمَّ قَرَّبْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا؟" قَالَ: فَقُلْتُ: خَرَجْنَا بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ الْمَدِينَةِ، قَالَ جَابِرٌ: وَعِنْدَنَا صَاحِبٌ لَنَا نُجَهِّزُهُ يَذْهَبُ يَرْعَى ظَهْرَنَا، قَالَ: فَجَهَّزْتُهُ ثُمَّ أَدْبَرَ يَذْهَبُ فِي الظَّهْرِ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ لَهُ قَدْ خَلِقَا، قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " أَمَا لَهُ ثَوْبَانِ غَيْرُ هَذَيْنِ؟" فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَهُ ثَوْبَانِ فِي الْعَيْبَةِ كَسَوْتُهُ إِيَّاهُمَا، قَالَ:" فَادْعُهُ فَمُرْهُ فَلْيَلْبَسْهُمَا"، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ فَلَبِسَهُمَا ثُمَّ وَلَّى يَذْهَبُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَهُ؟ ضَرَبَ اللَّهُ عُنُقَهُ، أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا لَهُ؟" قَالَ: فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي سَبِيلِ اللَّهِ". قَالَ: فَقُتِلَ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے غزوہ بن انمار(1) میں، تو ہم ایک درخت کے تلے اترے ہوئے تھے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دکھائی دیئے، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سائے میں آیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آکر اترے، میں اپنی زنبیل کو دیکھنے گیا، اس میں ڈھونڈنے لگا تو ایک ککڑی ملی، میں اس کو توڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لے گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کہاں سے آئی؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مدینہ سے ہم اس کو لے کر نکلے تھے، پھر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمارے ساتھ ایک شخص تھا جس کا سامانِ سفر ہم نے کر دیا تھا، وہ ہمارے جانور چراتا تھا، جب وہ پیٹھ موڑ کر جانور چرانے جانے لگا تو وہ چادریں اوڑھے ہوئے تھا جو پھٹ کر چندی چندی (پرانی) ہوگئی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھ کر فرمایا: کیا اور کپڑے اس کے پاس نہیں ہیں؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہیں، گٹھری میں بندھے ہیں، میں نے اس کو پہننے کے لئے دئیے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے کہو کہ وہ کپڑے پہن لے۔ میں نے اس کو بلایا، اس نے وہ کپڑے گٹھری سے نکال کر پہن لئے، جب پھر جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو کیا ہوگیا تھا (جو کپڑے موجود ہوتے ہوئے پھٹی پرانی چادریں اوڑھے ہوئے تھا)، اللہ اس کی گردن مارے، اب کیا اچھا معلوم نہیں ہوتا اس کو۔ اس شخص نے یہ سن کر کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اللہ کی راہ میں میری گردن ماری جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اللہ کی راہ میں۔ پھر وہ شخص شہید ہوا اللہ کی راہ میں(2)۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1646]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «دلائل النبوة» ‏‏‏‏ برقم: 244/6، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5418، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7370، 7462، 7463، وابن عساكر فى «تاريخ دمشق» برقم: 193/21، فواد عبدالباقي نمبر: 48 - كِتَابُ اللِّبَاسِ-ح: 1»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1647
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: " إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ أَنْظُرَ إِلَى الْقَارِئِ أَبْيَضَ الثِّيَابِ"
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں چاہتا ہوں عالم کو اچھے کپڑے پہنے ہوئے دیکھوں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1647]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه أبو نعيم اصبهاني في «‏‏‏‏حلية الاولياء» برقم: 328/6، فواد عبدالباقي نمبر: 48 - كِتَابُ اللِّبَاسِ-ح: 2»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1648
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " إِذَا أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، فَأَوْسِعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ"
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب اللہ تم کو وسعت دے تو اپنے اوپر بھی وسعت کرو، اپنے کپڑے بنالو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1648]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 365، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم:1386، فواد عبدالباقي نمبر: 48 - كِتَابُ اللِّبَاسِ-ح: 3»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الثِّيَابِ الْمُصَبَّغَةِ وَالذَّهَبِ
رنگین کپڑے پہننے اور سونا پہننے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1649
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ " يَلْبَسُ الثَّوْبَ الْمَصْبُوغَ بِالْمِشْقِ وَالْمَصْبُوغَ بِالزَّعْفَرَانِ" .
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گیرو میں رنگے ہوئے کپڑے اور زعفران میں رنگے ہوئے کپڑے پہنا کرتے تھے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1649]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه النسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5118، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9346، وأحمد فى «مسنده» برقم: 5821، 6204، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19968
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن، فواد عبدالباقي نمبر: 48 - كِتَابُ اللِّبَاسِ-ح: 4»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1649B1
قَالَ يَحْيَى: وَسَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ: وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ يَلْبَسَ الْغِلْمَانُ شَيْئًا مِنَ الذَّهَبِ، لِأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ"، فَأَنَا أَكْرَهُهُ لِلرِّجَالِ الْكَبِيرِ مِنْهُمْ وَالصَّغِيرِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میرے نزدیک بچوں کو یعنی لڑکوں کو سونا پہنانا مکروہ ہے، کیونکہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا، اور میں مکروہ جانتا ہوں سونے کا پہننا بڑے مرد اور چھوٹے لڑکے کے واسطے۔ زرقانی نے کہا: بڑے مرد کے واسطے مکروہ تنزیہی ہے، مگر چاندی کا زیور لڑکے کو پہنانا بعض علماء کے نزدیک درست ہے، اور بعض کے نزدیک مکروہ ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1649B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 48 - كِتَابُ اللِّبَاسِ-ح: 4»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1649B2
قَالَ يَحْيَى: وَسَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ فِي الْمَلَاحِفِ الْمُعَصْفَرَةِ فِي الْبُيُوتِ لِلرِّجَالِ، وَفِي الْأَفْنِيَةِ، قَالَ: لَا أَعْلَمُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا حَرَامًا، وَغَيْرُ ذَلِكَ مِنَ اللِّبَاسِ أَحَبُّ إِلَيَّ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مردوں کو کسم سے رنگی ہوئی چادریں اوڑھنا گھر یا اس کے گردا گرد میں حرام نہیں سمجھتا، لیکن نہ پہننا میرے نزدیک بہتر ہے، اور سوائے اس کے اور لباس پہننا اچھا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1649B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 48 - كِتَابُ اللِّبَاسِ-ح: 4»