🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
302. مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ
جو شخص اللہ سے ملنا پسند کرے اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنا پسند نہ کرے اللہ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 431
431 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا النَّيْسَابُورِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْبَزَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو عُمَرَ الْأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا: نا أَبُو أُسَامَةَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ سے ملنا پسند کرے اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملنا پسند نہ کرے اللہ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا۔“ اسے مسلم نے بھی اپنی سند کے ساتھ اسی کی مثل روایت کیا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 431]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري 6508، ومسلم: 2686، بو يعلى فى «مسنده» برقم: 7301، والبزار فى «مسنده» برقم: 3173»
وضاحت: تشریح: -
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ کی ملاقات کو نا پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو نا پسند کرتا ہے۔“
(سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد) شریح نے کہا: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور عرض کیا: اے ام المؤمنین! میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتے سنا ہے اگر وہ صحیح ہے تو ہم تو مارے گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ کون سی حدیث ہے؟ (میں نے کہا) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ملنا ناپسند فرماتا ہے جبکہ ہم میں سے ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے؟ (اور موت کے بغیر اللہ سے ملاقات ممکن نہیں؟) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بے شک یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے ہیں لیکن اس کا وہ مطلب نہیں جو تم نے سمجھا ہے بلکہ یہ اس وقت ہے جب نظر او پر اٹھ جائے، سانس سینے میں اٹکنے لگے اور جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جا ئیں اور وہ کانپنے لگیں اس وقت جو شخص اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اس وقت اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا۔“ [سنن نسائي: 1835، صحيح]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (نزع کے وقت) اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملنا پسند نہیں کرتا اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا۔“ کہا گیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے ملنے کو نا پسند کرنے کا مطلب موت کو ناپسند کرنا ہے، ہم میں سے تو ہر شخص موت کو ناپسند کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ موت کے وقت کی بات ہے کہ جب مومن کو اللہ تعالیٰ کی رحمت و بخشش کی خوشخبری دی جاتی ہے تو وہ فوراً اللہ سے ملنا چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے ملنا چاہتا ہے اور جب کافر کو اللہ کے عذاب کی اطلاع کی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند نہیں کرتا اور اللہ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا۔ [سنن نسائي: 1839، صحيح]
مطلب یہ ہے کہ جب موت کے فرشتے نظر آنے لگ جائیں تو اس وقت جو شخص اللہ کے پاس جانا اور اس سے ملنا پسند کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو شخص اس وقت اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند نہ کرے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا۔ دراصل موت کے وقت مومن کو اللہ کی طرف سے ان نعمتوں کی نوید سنائی جاتی ہے جو آخرت میں اسے ملنی ہیں لہٰذا اس وقت وہ اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے تاکہ جلد از جلد ان نعمتوں کی طرف منتقل ہو جائے جو اللہ نے اس کے لیے تیار کی ہیں جبکہ کافر اور منافق کو عذاب کی اطلاع دی جاتی ہے لہٰذا اسے اپنی موت میں دائمی ہلاکت و خسران نظر آ رہی ہوتی ہے جس سے اس کے دل میں حسرت پیدا ہوتی ہے کہ کاش! اسے موت نہ ہی آئے اور پھر تدفین کا مرحلہ آتا ہے تو اس وقت بھی یہی صورت حال ہوتی ہے، مومن کہتا ہے: مجھے جلدی لے چلو جبکہ کافر اور منافق کہتا ہے کہ مجھے نہ لے جاؤ۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ ”جب میت چار پائی پر رکھی جاتی ہے اور مرد اسے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتا ہے کہ مجھے آگے لے چلو لیکن اگر نیک نہ ہو تو کہتا ہے: ہائے بربادی، مجھے کہاں لے جا رہے ہوں؟ اس آواز کو انسان کے سوا ساری مخلوق سنتی ہے اگر انسان سن لے تو بے ہوش ہو جائے“۔ [بخاري: 1314]

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
303. مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ يَعْلَمُهُ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ
جس شخص سے کسی علم کی بابت پوچھاگیا جسے وہ جانتا تھا لیکن اس نے اسے چھپایا (اور بتایا نہیں) اسے آگ کی لگام ڈالی جائے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 432
432 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ النَّحَّاسِ، قَالَ: ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو يَحْيَى، مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سُئِلَ، عَنْ عِلْمٍ يَعْلَمُهُ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص سے کسی علم کی بابت پوچھا گیا جسے وہ جانتا تھا لیکن اس نے اسے چھپایا (اور نہ بتایا) اسے آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 432]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 95، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 343، 344، 345، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3658، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2649، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 261، 266، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7686، والطبراني فى «الصغير» برقم: 160، 315، 452»

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 433
433 - أنا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ أنا الْقَاضِي أَبُو الطَّاهِرِ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ أنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْوَلِيدِ الْفَسَوِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، نا حَمَّادُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَجَلِيُّ الْأَزْرَقُ، نا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ مِنَ الْوَافِدِينَ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ»
قیس بن طلق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ اور وہ (قیس کے والد) ان لوگوں میں سے تھے جو وفد کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص سے کسی علم کی بابت پوچھا گیا لیکن اس نے اسے چھپایا اسے قیامت کے دن آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 433]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه المعجم الكبير: 8251» ایوب بن عتبہ ضعیف ہے
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث میں ایسے شخص کے بارے میں وعید فرمائی گئی ہے جس سے کسی دینی مسئلے کے متعلق سوال ہوا اور سائل کو جواب کی ضرورت بھی تھی لیکن اس نے علم ہونے کے باوجود سائل کو مسئلہ نہیں بتایا، گویا اس نے اپنے منہ میں لگام ڈالی ہو لہٰذا قیامت کے دن سزا بھی گناہ کے مطابق ہی ملے گی کہ منہ میں آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔ ہاں اگر کوئی شرعی عذر ہو یا فساد وغیرہ کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں حکمت سے کام لیتے ہوئے بعض باتیں نہ بتانا بھی جائز ہے لیکن اہم موقع اور ضروری بیان کے وقت علم کو چھپانا جائز نہیں بلکہ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے علماء کو اس کی پاداش میں جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے، قرآن مجید میں اس کا تذکرہ ہماری عبرت کے لیے ہے، فرمایا:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ ٭‏ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَٰئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ‎﴾(البقرة: 159- 160)
”بے شک جو لوگ اس کو چھپاتے ہیں جو ہم نے واضح دلیلوں اور ہدایت میں سے اتارا ہے اس کے بعد کہ ہم نے اسے لوگوں کے لیے کتاب میں کھول کر بیان کر دیا ہے ایسے لوگ ہیں کہ ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور سب لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کرلی اور کھول کر بیان کر دیا تو یہ لوگ ہیں جن کی میں توبہ قبول کرتا ہوں اور میں ہی بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہوں۔“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”اگر قرآن مجید میں یہ دو آیتیں نہ ہو تیں تو میں کبھی تم سے کوئی حدیث بیان نہ کرتا۔“ [بخاري: 2350]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
304. مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ خَبِيئَةٌ مِنْ عَمَلٍ صَالِحٍ فَلْيَفْعَلْ
تم میں سے جو شخص اپنے کسی نیک عمل کو پوشیدہ رکھ سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ ایسا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 434
434 - أَخْبَرَنَا رِفَاعَةُ بْنُ عُمَرَ الْأَمِينُ الْكَاتِبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَصْرِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ السُّوَائِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ح قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْبَصْرِيُّ: وَثَنًا أَبُو اللَّيْثِ الْفَرَائِضِيُّ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ حَدِيثَ الْغَارِ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ خَبِيئَةٌ مِنْ عَمَلٍ صَالِحٍ فَلْيَفْعَلْ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اور انہوں نے غار والی حدیث بیان کی اور اس کے آخر میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اپنے کسی نیک عمل کو پوشیدہ رکھ سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ ایسا کرے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 434]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، ابوبکر أحمد بن حسین بن علی البصری کی توثیق نہیں ملی
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: ”جو شخص اپنے کسی نیک عمل کو پوشیدہ رکھ سکتا ہو وہ ضرور ایسا کرے۔“ [الزهد ل أحمد: 778، وسنده صحيح]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
305. مَنْ فُتِحَ لَهُ بَابُ خَيْرٍ فَلْيَنْتَهِزْهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَتَى يُغْلَقُ عَنْهُ
جس شخص کے لیے بھلائی کا دروازہ کھول دیا گیا تو اسے چاہیے کہ اسے جلدی قبول کرے کیونکہ اسے علم نہیں کہ کب وہ اس سے بند کر دیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 435
435 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أبنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، أبنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ حَرْبٍ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ عُمَيْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ فُتِحَ لَهُ بَابٌ مِنَ الْخَيْرِ فَلْيَنْتَهِزْهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَتَى يُغْلَقُ عَنْهُ»
حکم بن عمیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے لیے بھلائی کا دروازہ کھول دیا گیا تو اسے چاہیے کہ اسے جلدی قبول کرے کیونکہ اسے علم نہیں کہ کب وہ اس سے بند کر دیا جائے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 435]
تخریج الحدیث: «مرسل ضعيف، وأخرجه الزهد لابن المبارك: 117» اسے حکیم بن عمیر تابعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور ابوبکر بن ابی مریم ضعیف ہے۔

الحكم على الحديث:
مرسل ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 436
436 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ فِرَاسٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ , عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فُتِحَ لَهُ بَابُ خَيْرٍ فَلْيَنْتَهِزْهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَتَى يُغْلَقُ عَنْهُ»
ضمرہ بن حبیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے لیے بھلائی کا دروازہ کھولا گیا اسے چاہیے کہ وہ اسے جلد قبول کرے کیونکہ اسے علم نہیں کہ کب یہ اس سے بند کر دیا جائے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 436]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الخطب والمواعظ لابي عبيد: 12» ‏‏‏‏اسے ضمرہ بن حبیب تابعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔

الحكم على الحديث:
مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
306. مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى إِنْفَاذِهِ مَلَأَهُ اللَّهُ أَمْنًا وَإِيمَانًا
جس شخص نے اس حال میں غصہ پیا کہ وہ اسے نکالنے پر قادر تھا تو اللہ اسے امن اور ایمان سے بھر دے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 437
437 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: ثنا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى إِنْفَاذِهِ مَلَأَهُ اللَّهُ أَمْنًا وَإِيمَانًا، وَمَنْ تَرَكَ لُبْسَ ثَوْبِ جَمَالٍ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ، قَالَ بِشْرٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ تَوَاضُعًا كَسَاهُ اللَّهُ حُلَّةَ الْكَرَامَةِ، وَمَنْ زَوَّجَ لِلَّهِ تَوَجَّهُ اللَّهُ تَاجَ الْمُلْكِ"
اصحاب رسول خدا کے بیٹوں میں سے ایک شخص نے اپنے والد سے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اس حال میں غصہ پیا کہ وہ اسے نکالنے پر قادر تھا تو اللہ اسے امن اور ایمان سے بھر دے گا اور جس شخص نے اس حال میں خوبصورت لباس پہننا ترک کر دیا کہ وہ اس (کے پہننے) پر قادر تھا۔“ راوی بشر بن منصور نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاجزی اور انکساری کی وجہ سے ترک کیا تو اللہ تعالیٰ اسے عزت و بزرگی کا لباس پہنائے گا اور جس نے اللہ کے لیے شادی کرائی تو اللہ تعالیٰ اسے بادشاہی کا تاج پہنائے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 437]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، محمد بن عجلان مدلس کا عنعنہ ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
سہیل بن معاذ سے مروی ہے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اس حال میں غصہ پیا کہ وہ اسے نکالنے پر قادر تھا تو اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت بر سر مخلوق بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ جنت کی حور میں سے جسے چاہے اپنے لیے منتخب کر لے۔“ [أبو داود: 4777، وسنده حسن]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
307. مَنْ مَشَى فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ آتَاهُ اللَّهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
جو شخص رات کی تاریکی میں مساجد کی طرف چلا اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت نور عطا فرمائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 438
438 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ السَّرَّاجُ، بِدِمَشْقَ، أبنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ السَّقَا، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَشَى فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ آتَاهُ اللَّهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کی تاریکی میں مساجد کی طرف چلا اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت نور عطا فرمائے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 438]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان: 2046، والمعجم الاوسط 4697، وشعب الايمان: 2645» جنادہ بن ابی خالد ضعیف ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 439
439 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، أنا أَبُو الْعَلَاءِ الْكُوفِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدِ بْنِ نُوحٍ الْبَغْدَادِيُّ، نا مَنْصُورُ بْنُ سُفْيَانَ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، رَفَعَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَشَى فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ آتَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نُورًا»
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے اسے مرفوع بیان کیا ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کی تاریکی میں مساجد کی طرف چلا اللہ اسے روز قیامت نور عطا فرمائے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 439]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان: 2046، والمعجم الاوسط 4697، وشعب الايمان: 2645» جنادہ بن ابی خالد ضعیف ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندھیروں کے اوقات میں کثرت سے مساجد کی طرف جانے والے لوگوں کے لیے روز قیامت مکمل نور کی بشارت ہے۔“ [ابن ماجه: 780، صحيح]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
308. مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَجِدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ فَلْيُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ تَعَالَى
جسے یہ بات پسند ہو کہ وہ ایمان کا ذائقہ چکھے تو اسے چاہیے کہ انسان سے محبت کرے (اور) صرف اللہ تعالیٰ ٰ کے لیے اس سے محبت کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 440
440 - أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْغَازِيُّ ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ التُّرْكِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَجِدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ فَلْيُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ تَعَالَى» يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ هُوَ أَبُو بَلْجٍ، وَقِيلَ: ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے یہ بات پسند ہو کہ وہ ایمان کا ذائقہ چکھے تو اسے چاہیے کہ انسان سے محبت کرے (اور) صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے محبت کرے۔“ یحییٰ بن سلیم ابوبلج ہی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ابن ابی سلیم ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 440]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه طيالسي: 2617، واسحاق بن راهويه: 365، وأحمد: 2/298»
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث مبارک میں ایمان کی مٹھاس پانے والے ایک خوش نصیب کا ذکر کیا گیا ہے کہ ایمان کی مٹھاس اور مزہ تب ہی آتا ہے جب انسان اپنی محبتوں اور الفتوں کا مرکز اللہ تعالیٰ ٰ کی ذات کو بنائے۔ اللہ تعالیٰ ٰ انسان کا خالق ہے، اس نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ذات باری تعالیٰ ٰ کو اپنے بندے سے بڑا پیار ہے، اب ہندے کا بھی یہ حق بنتا ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک سے بے حد محبت کرے اور اپنی تمام دوستیاں اور رشتے ناطے اس کی محبت پر قربان کر دے، اپنے اندر الحب اللہ والبغض اللہ کا جذبہ پیدا کرے، کسی سے محبت کرے تو محض اللہ کی رضا کے لیے کرے، اس میں کوئی دنیاوی مفاد نہ ہو اور اگر کسی سے نفرت کرے تو اس کی بنیاد بھی محض یہ ہو کہ یہ انسان اللہ تعالیٰ ٰ کا نافرمان ہے۔ جس انسان کے اندر یہ چیز آگئی تو سمجھ لو کہ اس نے اپنے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا۔
حدیث میں ہے کہ جس شخص میں تین خصلتیں ہوں وہ ایمان کی مٹھاس پالے گا:
① یہ کہ اس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول باقی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں۔
② اور یہ کہ وہ جس شخص سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضا کے لیے محبت کرے۔
③ اور یہ کہ اس کے نزدیک کفر میں لوٹنا ایسا ناپسندیدہ ہو جیسے آگ میں ڈالا جانا نا پسندیدہ ہے۔“ [بخاري: 16]
ایک دوسری روایت میں یوں ہے کہ ”جس نے اللہ کے لیے محبت کی، اللہ کے لیے بغض رکھا، اللہ کے لیے (کسی کو کچھ) دیا اور اللہ کے لیے (کسی کو کچھ) نہ دیا، تو بے شک اس نے ایمان مکمل کر لیا۔“ [أبو داود: 4681، حسن]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں